پاکستان کی انتخابی طریقہ کار میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہ بات گزشتہ دو عشروں سے کہی جاتی رہی ہے لیکن یہی واویلا کرنے والی سیاسی جماعتیں جب اقتدار میں آتی ہیں تو وہ انہی کمی کوتاہیوں کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔
ہمیں عمران خان کو مبارکباد دینی چاہیئے کہ انہوں نے جن سات نشستوں پر خود الیکشن لڑا ان میں سے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جس میں پیپلز پارٹی نے عمران خان کو شکست دی اور پی ٹی آئی کی دوسری نشستوں پر جماعت کو ناکامی ہوئی وہ ملتان کی ہے ، جہاں یوسف رضا گیلانی کے بیٹے نے شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو پچیس ہزار ووٹوں سے ہرایا۔
یہ سارے تجزئیے ، یہ سارے اعداد و شمار میں اور آپ اگلے کئی دن تک پڑھتے اور سنتے رہیں گے ۔ لیکن ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں یہ بار بار سوچ رہی ہوں کہ اب جو عمران خان کو جیتی ہوئی نشستوں میں سے 5 چھوڑنی پڑیں گی اس سے کس کو فائدہ ہوا ۔۔۔ ؟
الیکشن کمیشن کا ؟
پی ٹی آئی کا ؟
عمران خان کا ؟
ملک کی پہلے سے دگر گوں معیشت کا ؟
یا
الیکشن کمیشن میں بیٹھے ہوئے شطرنج کے مہروں کا ۔۔۔؟
اس کاجواب کون دے گا ۔۔ کہ موجودہ بدترین معاشی صورتحال میں جو کروڑوں روپے عوامی ٹیکس کے انہیں انتخابات پر خرچ ہوئے ہیں ان سے کیا حاصل ہوا ۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ اس سے عمران خان کی مقبولیت کا اندازہ ہوا ہے تو شاید یہ دلیل برائے دلیل ہو گی کیونکہ ان کی مقبولیت سے کسی نے کبھی انکار نہیں کیا اگرچہ اس کی وجوہات اور ہیں کہ ہجوم کی سائیکالوجی الگ موضوع ہے۔
کم از کم اس تجربے کے بعد الیکشن کمیشن کو اس مسلے کو ہنگامی مسئلہ سمجھتے ہوئے اپنے قوانین میں ضروری اصلاحات کرنی چایئے جس میں اہم ترین ایک امیدوار صرف ایک ہی نشست پر الیکشن لڑے گا ۔
زرا سوچیئے!
اب جو عمران خان 5 نشستیں چھوڑیں گے تو قانون کے مطابق مقررہ وقت میں ان 5 نشستوں پر پھر انتخابات ہونگے اور ایکبار پھر غربت کے مارے ہوئے عوام کے ٹیکسوں کے کروڑوں روپے خرچ ہونگے اور سب کے وقت کا ضیاع الگ ہوگا۔
میں سوچتی ہوں کہ ٹیکنالوجی اور ترقی کے اس دور میں بھی ہم سوچ اور فکر کے کس مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ ۔۔صد افسوس !
ڈاکٹر نگہت نسیم













