ہر آنے والے کے لئے سونے کا تاج تیار ہوتا ہے اور ہر جانے والے کی کمزوریاں جا نے کے بعد نظر آتی ہیں ۔جیسا کہ آنے والے چیف جسٹس اور جانے والے چیف جسٹس کے بارے میں ہم آج کل سُن رہے ہیں ۔یہ موسم ہر دفعہ آتا ہے جب کسی بھی حساس ادارے کے بڑے تبدیل ہوتے یا اپنی مدتَ عہدہ پوری کر کے تشریف لے جاتے ہیں ۔کچھ کی توسیع بھی ہوتی ہے کیوں یہ ہمیں نہیں پتہ لیکن کچھ انتہائی ایمانداری سے اپنے وقت پر ریٹائر ہونا ہی بہتر سمجھتے ہیں جو ہمیں بھی کبھی کبھی بہت اچھا لگتا ہے کہ اگلوں کے لئے جگہ خالی کی جائے ۔جو کچھ ہم نے کچھ چینلز پر سُنا ایک عوامی اور ملک سے محبت رکھنے والے چیف جسٹس کے لئے اُس میں زیادہ تر تو اچھی باتیں ہی تھیں لیکن کہیں کہیں دل کے جلے پھپھولے بھی پھوڑے گئے ۔کیونکہ یہ تو ایک حقیقت ہے کہ آپ سب کو مطمئن نہیں کر سکتے اور خاص طور پر جس ماحول میں جناب جسٹس صاحب نے کام کیا وہ ملک کے لئے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی دور تھا جس میں ہر قسم کی باتیں ہوئیں جو ملک میں شاید پہلے کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں ۔
ہم تو ہر اُس شخص کے گُن گاتے ہیں جو ہمارے ملک کے لئے کچھ تھوڑا بھی اچھا کر گیا ہو اس لئے جسٹس صاحب ہماری تو گُڈ بُک میں ہیں ۔کیونکہ انہوں نے صرف عدلیہ کو نہیں دیکھا بلکہ ایسے معاملات پر بھی نظر کی جو کسی کی نظر میں نہیں آتے تھے وہ چاہے ڈیم کا مسئلہ ہو یا صاف پانی ،اسپتال ہوں یا گندگی کے ڈھیر ہر مسئلے پر بات کی جو ایک اچھی بات تھی تاکہ حکومت بھی ان باتوں پر توجہ دے جو اُس کے کرنے کے کام ہیں ۔اب ایک نئے چیف جسٹس صاحب براجمان ہیں ہمیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کر کے بھی دکھائیں گے خاص طور پر وہ مقدمقت جنہوں نے ملک کی ساکھ بے شمار نقصان پہنچایا ماڈل ٹاؤن اور بلدیہ ۔وہ انہیں منظرعام پر لائینگے اور ان کے مجرموں کو سزا دیں گے ۔اسی طرح عدلیہ کی کالی بھیڑوں کو بھی بے نقاب کرینگے جو وکیلوں کی صورت مقدمات کو اتنا طول دیتی ہیں کہ فیصلے کے انتظار میں لوگ بہک جاتے ہیں ۔کیونکہ جن کے پیارے اس طرح مارے جاتے ہلیں اُن کے اندر ایک انتقام پیدا ہوتا ہے لیکن جب انہیں انصاف ملتا ہے تو اس میں کمی بھی ہوتی ہے اور اظمینان بھی ہوتا ہے ۔
آج کل حکومت کو جن مشکلوں کا سامنا ہے اپنے اتحادیوں سے ہمارے لئے کچھ نیا نہیں ہے کیونکہ نہ ایم کیو ایم نہ مینگل صاحب اور نہ ہی قاف لیگ کسی سے ڈھکی چھپی ہے ۔یہ لوگ ہر موقہ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں پھر ملک چاہے کسی بھی حال میں ہو عوام کو چاہے کتنی ہی اتحاد کی ضرورت ہو ہماری سیاست صرف اور صرف پارٹیوں اور لیڈروں کے گرد گھومتی ہے ۔یہ بات ملک کے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے کیونکہ اآپ جب تک اپنی ذات اور اپنے فائدے پیچھے نہ رکھیں اآپ ملک اور قوم کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔
ہم نے تو دوسرے ممالک کو اپنی جائے پناہ بنا رکھا ہے ہر پارٹی لیڈر کا باہر کوئی نہ کوئی واستہ ہے کہ اگر ادہر کچھ ہوا تو وہاں جا بسینگے ۔جو ہم نے پچھلے ادوار میں بھی دیکھا اور اب بھی کچھ نا ممکن نہیں ہے ۔کسی کو دبئی پناہ دے دیتا ہے تو کسی کو یو اے ای ،کسی کو لندن اپنی آغوش میں لے لیتا ہے تو کسی کو امریکہ اپنی پناہ دے دیتا ہے ۔اس لئے ملک صرف اور صرف سیاست کرنے اور اپنی طاقت بڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ہماری خواہش ہے کہ لوگ اب ان تمام باتوں پر بھی توجہ دیں اور ایسی پارٹیوں کو ایلیکشن میں اپنے غصے سے آگاہ کریں تاکہ یہ لوگ بھی ملک سے محبت کریں ملک کے لئے کام کریں ۔۔ اپنے لئے اور اپنی پارٹی کی طاقت کے لئے نہیں ۔۔۔۔
آج ایک اور اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے دل دہلا کر رکھ دئے ۔کیا کہیں جب تک رپورٹ سامنے نہیں آتی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن جن معصوموں کی زندگی میں محرومی آئی ماں باپ کی وہ مّعصؤم کس کے ہاتھ پر تلاش کریں گے اپنے قاتل ۔ہمیں امید ہے کہ حکومت کسی بھی طرح کی بے حسی نہیں دکھائے گی ۔بچوں کی کفالت ان کے اس نقصآن کا ازالہ نہیں کرے گی جو انہیں ساری زندگی کے لئے دے دیا گیا ۔اُن مّعصوم بچوں کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے لیکن اگر اس حکومت میں بھی ملزموں کو سزا نہ دی گئی تو شاید پھر کبھی بھی کسی کو انصاف نہ مل سکے گا ۔پولیس میں کالی بھیڑیں جس طرح موجود ہیں اگر ان کو نہ نکالا گیا تو ہم ایسے واقعات دیکھتے بھی رہینگے اور روتے بھی رہینگے ۔پولیس سے سیاست اور بے ایمانی ختم ہونی چاہئے ۔بے ایمانی یہ بھی ہے کہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا جائے ۔ہماری تو گزارش یہ بھی ہے کہ ان سے گولیاں لے کر انہیں ربڑ کی گولیاں دی جائیں تاکہ جانیں تو محفوظ رہ سکیں ۔
ہماری تو ایک گزارش عمران خان صآحب وزیرِاعظم سے یہ بھی ہے کہ آپ بے روز گار نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کریں اُنہیں تربیت دیں اور ان پرانے اور نا کارہ پولیس اہلکاروں سے جان چھڑائیں ۔نو جوانوں کونوکریاں بھی ملیں گی اور اچھے اور دیانت دار پولیس افسر بھی مہیا ہونگے ۔جب تبدیلی لانی ہی ہے تو ہر شعبے کو دیکھا جائے ۔ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے نو جوان اور خاص طور پر وہ نوجوان جودھکے کھاتے پھر رہے ہیں وہ ان اداروں میں شا،مل کئے گئے تو ضرور اچھے نتائج سامنے آئینگے ۔
سیاست دانوں کے ہاتھ ایک اور موقعہ آگیا کہ خورشید شاہ ہوں یا بلاول ،نون کے لوگ ہوں یا اور کوئی پارٹی کاش بلدیہ ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن کے لئے اس شدت سے کھڑے ہوتے کہ یہ پولیس اہلکار جو ویڈیوز میں نظر آرہے ہیں پھانسی کے پھندوں پر بھی دکھائی دیتے تو شاید ان کا بولنا کچھ اچھا لگتا بلکہ محسوس ہوتا کہ ملک قانون کی طرف جا رہا ہے لیکن وہاں تو منہ بند رکھے ؟؟؟؟؟ یہ واقعہ اگر حل نہ ہوا تو اس حکومت کے لئے بھی سمِ قاتل ہی ثابت ہوگا کیونکہ جو شواہد میڈیا کے زریعے سامنے لائے جا رہے ہیں کسی صورت بھی نہ پنجاب حکومت کے حق میں ہیں اور نہ ہی پنجاب پولیس کے اس لئے ہماریہ تو ایک ہی گزارش ہے کہ نقصان ہو گیا جتنا ہونا تھا خدا را آگے کے لئے سوچو کہ کیا کرنا ہے اگر سزائیں سخت نہ دی گئیں ملوث اہلکاروں کو نہ پکڑا گیا تو کیسی آزادی اور کیسی تبدیلی ؟؟؟؟؟؟؟
ہم نے پہلے بھی بہت دفعہ لکھا کہ میڈیا کو بھی اپنی روِش پر غور کران چاہئے ایسے واقعات میں پَل پَل بدلتی خبریں اور انکی نفی دماغوں میں بہت سے شکوک کو جنم دیتی ہیں جب تک خبریں بالکل ٹھیک حاصل نہ ہوں جب تک انہیں میڈیا کی زینت نہ بنائیں تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ اس طرح جب ایک خبر ایک چینل دیتا ہے اور اُس سے بالکل مختلف خبر دوسرا چینل دیتا ہے تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا حقیقت ہے اس لئے سب کی زمے داری ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو کوئی بھی وزیرِ اعظم ہو کم از کم خبریں تو چھان پھٹک کر دی جائیں تاکہ دماغوں میں پھیلتی کشمکش کم ہو سکے ۔
اگر اس واقعے کی تمام باتیں سامنے نہ لائی گئیں تو اس حکومت کو بہت بڑے امتحان سے گزرنا پڑے گا ۔اس لئے ایمانداری سے تمام باتوں کو سامنے لایا جانا چاہئے تاکہ پتہ چل سکے کہ کیوں ان جانوں سے کھیلا گیا ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ معصوم بچوں کی حفاظت فرمائے ،خاندان کو صبر دے اور قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے آمین
نیرنگئیے دنیا کا ہر رنگ نرالا ہے,عالم آرا
657
0












