معاشرے میں سوچ اور سوال جرم کیوں ؟
تحریر ۔ شیر علی انجم
سب سے خطرناک قسم کی بے خبری وہ ہے جب کوئی خود کو سب کچھ جاننے والا سمجھے۔ ہمارا سماج بھی کچھ اس طرح کے حالات سے دوچار ہیں۔ یہاں اگر کوئی باشعور بات کرے تو اسے دشمن سمجھا جاتا ہے اور شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور سچ ڈھونڈنے والا باغی بن جاتا ہے۔ جو بھی سوال اٹھاتا ہے، ثبوت مانگتا ہے، یا روایتی باتوں کے بجائے عقل سے کام لیتا ہے، اسے معاشرے کیلئے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے خلاف زوردار مہم چلائی جاتی ہے جس میں گھر سے لیکر معاشرہ اور عالم جاہل ایک پیج پر جمع ہو جاتا ہے ۔ ہمارے سماج میں بغیر سوچے سمجھے چلنے والوں کی ایک بڑی جماعت ہے جن کے نزدیک سوچنا جرم ہے اور سوال کرنا بدتمیزی۔ جو خاموش رہے وہ محفوظ، اور جو بولے وہ سیاسی سماجی اور معاشرتی مسائل سے بدترین دوچار ہوتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل اس ڈر کو ظاہر کرتا ہے جو کسی بھی زندہ قوم کو مردہ بنا سکتا ہے۔ ہم نے اپنے اردگرد ایسا ماحول بنا لیا ہے جہاں کھوج لگانے کو خطرہ، کسی چیز میں نقص نکالنے کو گناہ، اور الگ رائے رکھنے کو دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھی معاشرہ آگے نہیں بڑھ پاتا، ذہن بند ہو جاتے ہیں اور بہتری کا راستہ رک جاتا ہے۔
مہذب قوموں میں الگ رائے کو علم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کسی چیز پر تنقید کرنا بہتری کا ذریعہ بنتا ہے اور سوال اٹھانے والے کی عزت کی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں تو معاملہ بالکل الٹا ہے۔ ہم الگ رائے برداشت کرنے کے بجائے اسے اپنی ذات پر حملہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم نے اپنی سوچ کے دائرے اتنے چھوٹے کر لیے ہیں کہ کسی نئی سوچ یا دیکھنے کے نئے انداز کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بچی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک جگہ رک گیا ہے، اور ہم نے ذہنی غلامی کو زندگی کا طریقہ سمجھ لیا ہے۔
ہمارے ہاں قلم کو بھی ایک خطرناک چیز مانا جاتا ہے۔ کیونکہ قلم سوال اٹھاتا ہے، دلیل دیتا ہے، اور خاموشی کو توڑتا ہے۔ جو لکھتا ہے، وہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، اور جو سوچنے پر مجبور کرے، وہ اس نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کھوج لگانا جرم بن گیا ہے، سوال پوچھنا گناہ قرار پا گیا ہے، اور باشعور شخص کو معاشرے کے لیے فساد کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ باشعور انسان سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کی آنکھوں میں ڈر دیکھتا ہے۔ وہ ڈر جو کسی دشمن سے نہیں بلکہ سوچنے والے سے پیدا ہوتا ہے۔ ماں باپ اسے بگڑا ہوا کہتے ہیں، بہن بھائی اسے عجیب، اور معاشرہ اسے باغی قرار دیتا ہے۔ یوں ایک سوچنے والا انسان اکیلا رہ جاتا ہے، اور اس کی فکر کو غلط کہا جانے لگتا ہے۔ اس موقع پر بے خبری ایک ہو جاتی ہے، اور علم والا اکیلا رہ جاتا ہے۔ یہ برا وقت اچانک نہیں آیا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو شعور دینے کے بجائے صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہمارے سکول اور کالج ڈگریاں تو دیتے ہیں مگر ذہین لوگ پیدا نہیں کرتے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو کھوج سے الگ کر دیا اور معاشرے سے مکالمہ کا فکر ہی ختم ہوگیا ہے، حالانکہ مذہب خود عقل، سوچ بچار اور غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تیسری اور شاید سب سے خطرناک عادت یہ ہے کہ ہم میں الگ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ اب ہر شخص اپنی رائے سے ہٹ کر کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ یہی وہ ذہنی زنجیر ہے جو معاشرے کو باندھے ہوئے ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اندھیرے میں روشنی کرنے کی کوشش کی۔ سقراط نے جب سوال کیے تو اسے زہر کا پیالہ دیا گیا۔ منصور حلاج نے انا الحق کہا تو اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔ سرسید احمد خان نے جب تعلیم میں بہتری کی بات کی تو مذہبی لوگوں نے ان کی مخالفت کی۔ فیض احمد فیض نے جب شعور کی بات کی تو اسے جیلوں میں بند کیا گیا۔ ان سب کا قصور ایک ہی تھا، لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرنا۔
اگر ہم واقعی میں ایک زندہ اور ترقی یافتہ سماج بننا چاہتے ہیں تو ہمیں شعور سے خوف کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں سوال کو بدتمیزی نہیں بلکہ مکالمہ سمجھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں مکالمہ، تنقید اور کھوج کو بڑھانا ہو گا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ الگ رائے دشمنی نہیں بلکہ بہتری کی علامت ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں سوال دب جائے، وہاں علم مر جاتا ہے۔ اور جہاں علم مر جائے وہاں زندگی صرف نقل بن کر رہ جاتی ہے۔ شعور انسان کی اصل پہچان ہے۔ جو معاشرہ شعور سے ڈرتا ہے، وہ اپنی تباہی کی بنیاد خود رکھتا ہے۔ جس سے آج پورا معاشرہ دوچار ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیا ہم شعور کے ساتھ جینا چاہتے ہیں، یا بغیر سوچے سمجھے تباہ ہونا ہے۔یقیناً اس بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حال ہی میں قومی اسمبلی نے آئین میں 27 ویں ترمیم پاس کی ہے۔ یہ تبدیلی خاص طور پر عدلیہ کے ڈھانچے، ججوں
کی تعیناتی اور پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات سے متعلق ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد، بہت سے لوگوں کو لگ رہا ہے
کہ ملک ایک ایسے سسٹم کی طرف جا رہا ہے جہاں عوام کے حقوق کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔ جو مراعات یافتہ طبقہ
پہلے ہی آئین میں کسی تبدیلی کے بغیر سسٹم پر حاوی ہے، اب وہ آئین کو استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کو مستقل
کر رہا ہے۔ ایک عام شہری کا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے نمائندے کبھی عوام کے لیے بھی آئین میں کوئی تبدیلی کریں
گے؟ کیا قرضوں کے بوجھ، لوڈ شیڈنگ، تباہ حال انفراسٹرکچر اور کاروبار کی تباہی کے ساتھ یہ ملک واقعی قائد
اعظم کا پاکستان بننے کے بجائے ایک بادشاہت بنتا جا رہا ہے؟۔ حکومتی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ آئین میں 27 ویں
ترمیم کا مقصد عدلیہ میں بہتری لانا ہے۔ اس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کی سلیکشن کے لیے
پارلیمانی کمیٹیوں کو زیادہ طاقت دی گئی ہے، جبکہ چیف جسٹس کی مدت اور بینچوں کی تشکیل پر کچھ پابندیاں لگائی
گئی ہیں۔ اس کے ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو پارلیمنٹ کے ماتحت کر کے جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔ لیکن تنقید
کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ طاقتور لوگوں کی طرف سے عدلیہ کی آزادی پر ایک حملہ ہے۔ اور یہ تبدیلی
ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک معاشی مسائل کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی وجہ سے
حالات خراب ہیں، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور عام لوگوں کی حالت بری ہے۔ کراچی جیسا شہر جو پاکستان
کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے، وہاں روزانہ تقریباً 20 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی۔ شہر کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر
تباہ ہو چکا ہے: سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے ہیں، گندا پانی گلیوں میں بہہ رہا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بالکل
ناکارہ ہو چکا ہے۔ جب بجلی ہی نہیں ہوگی اور انفراسٹرکچر اتنا خراب ہوگا، تو کاروبار کیسے چلیں گے؟ فیکٹریاں بند
ہو رہی ہیں، دکانیں خالی ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ براہ راست عوام پر اثر انداز ہو
رہا ہے، جبکہ حکمران طبقے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا کہنا
ہے کہ اس تبدیلی سے مراعات یافتہ طبقے کو مزید طاقت ملے گی۔ پارلیمانی کمیٹیوں میں بیٹھے لوگ، جو خود بھی
منتخب تو ہوئے ہیں لیکن انھیں عوام کے مسائل کا کوئی اندازہ نہیں ہے، اب وہ عدلیہ کو بھی کنٹرول کریں گے۔ یہ
ایک بادشاہت کی طرح ہے جہاں عوام کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں۔
اس معاملے میں ایک عام آدمی کا سوال یہ ہے: جب ہم ووٹ ڈال کر قومی اسمبلی کے ممبران کو منتخب کرتے ہیں، تو
وہ عوام کے لیے آئین میں کب تبدیلی کریں گے؟ اب تک جتنی بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں، ان میں سے زیادہ تر اداروں
کو طاقت دینے یا سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ کیا کبھی صحت، تعلیم، روزگار یا بجلی جیسے
مسائل کے لیے بھی آئین میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ نہیں! طاقتور لوگ بغیر کسی تبدیلی کے سسٹم پر حکومت کر
رہے ہیں۔ فوج، بیوروکریسی اور سیاستدان مل کر ملک چلا رہے ہیں، جبکہ آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ
گیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو ایک جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون
کی حکمرانی ہوگی، عوام کے حقوق محفوظ ہوں گے اور کوئی بادشاہی نظام نہیں ہوگا۔ لیکن آج کا پاکستان اس خواب
سے بہت دور ہوتا جارہا ہے۔ قرضوں کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ بیرونی قرضے 130 ارب ڈالر سے زیادہ ہو
چکے ہیں، اور ہر بجٹ میں ان پر سود کی ادائیگی عوام کی جیب سے کی جاتی ہے۔ مہنگائی 30 فیصد سے زیادہ ہے،
غربت بڑھتی جا رہی ہے اور نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ اگر یہ بادشاہی نظام جاری رہا تو یاد رکھیں کہ تاریخ
بتاتی ہے کہ جب عوام کی برداشت ختم ہو جاتی ہے، تو وہ بغاوت کر دیتے ہیں۔ فرانسیسی انقلاب میں ماری اینٹونیٹ
اور لوئی XVI کے سر قلم کیے گئے۔ روسی انقلاب میں زار خاندان کا خاتمہ ہوا۔ ایران میں بادشاہت ختم کر دی گئی۔
سری لنکا ، بنگلہ دیش اور نیپال کی تازہ مثال دنیا کے سامنے ہے،یہ سب حکمران طبقے تھے جو عوام کو بھول گئے
تھے۔ پاکستان میں بھی 1971 میں ملک کا ٹوٹنا ایک سبق ہے جب عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ بہتر ہوگا
کہ قائداعظم کے پاکستان کو بادشاہی نظام کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ اب عوام خاموش نہیں رہیں گے۔ سوشل میڈیا،
احتجاج اور ووٹ کی طاقت اب بھی موجود ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ عوام کے فائدے کے لیے آئین میں تبدیلی کرے۔ صحت اور تعلیم کو بنیادی حق بنایا
جائے، بجلی اور اچھے انفراسٹرکچر کو یقینی بنایا جائے اور قرضوں سے نجات کے لیے آئینی پابندیاں لگائی جائیں۔
طاقتور لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے شفافیت اور احتساب کو آئین کا حصہ بنایا جائے۔ اگر حکمران نہ جاگے تو
عوام خود جاگ جائیں گے۔ پاکستان زندہ باد، عوام زندہ باد! لیکن بادشاہی نظام نہیں چلے گا۔ یہ ملک قائداعظم کا ہے،
مراعات یافتہ طبقے کا نہیں۔












