آج کی دنیا میں ہماری سب سے بڑی سوچ اور فکر کی بات نہ تو تیسری عالمی جنگ ہے نہ نئی نئی آنے والی بیماریاں ہیں اور نہ ہی معیشت کی تباہی ہے اور نہ ہی بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔بلکہ اگر مسئلہ ہے تو وہ ہے کلائمیٹ چینج کا . کیونکہ بیماریوں کے لیے ویکسین کام ا جائے گی اور جنگوں کے لیے باہم سلام مشورے اور صلح سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہمارے اکانومسٹ بہتر حکمت عملی اپنائیں تو اسے بھی بہتر کیا جا سکتا ہے مگر کلائمیٹ چینج کے لیے ہمیں عملی اقدام اٹھانا پڑیں گے پہلے تو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ کلائمیٹ چینج ہے کیا؟ تو میں اپ کو اس کے بارے میں اگاہی دوں گی یہ ہے گلوبل وارمنگ یعنی ماحولیاتی تبدیلی۔جو کہ 1950 سے شروع ہوئی اور اس تبدیلی میں سب سے زیادہ کردار انسان کا ہے اور دنیا بھر میں حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے کر رہی ہیں بے شمار ہدایات جاری کر رہی ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہہ رہی ہیں مگر اس کے باوجود کلائمیٹ چینج میں کوئی فرق نہیں ایا وہ کیا وجوہات ہیں کہ اس میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا اور دنیا اس حد تک خطرے کے قریب اگئی ہے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی 95 فیصد وجہ انسانوں کی ایکٹیوٹیز ہیں ہم لوگ بہت سارا فیول گاڑیوں کو چلانے میں کارخانوں کو چلانے میں اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں اس کے علاوہ گاڑیوں کا شور لائٹس کا جلنا موبائل اور زندگی کی تمام ضروریات کے لیے بجلی کا استعمال اور جب یہ ساری چیزیں استعمال ہوتی ہیں تو بہت سی گیسیں مل کر ہماری اوزون کی تہ کو برباد کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے کلائمیٹ چینج چینج کے نقصان کو کو روکا نہیں جا سکتا۔
اگر ہم ملین بلین ٹریز لگائیں اور دنیا کو سر سبز بنائیں اور کوئلے سے بننے والی بجلی کو خیر بات کہہ کر سولر انرجی کا استعمال کریں اپنے گھروں میں لائٹس کا کم سے کم استعمال کریں اور ایسی گاڑیاں استعمال کریں جو فیول پر نہ چلیں۔اور ایسی چیزیں جو شور پیدا کرتی ہیں ان کا استعمال ختم کریں یا کم از کم بہت کم کریں تو شاید اس کو روکا جا سکتا ہے اور خاص طور پر فصلوں کی باقیات کو اگ نہ لگائیں کیونکہ ان سے پیدا ہونے والا دھواں ڈائریکٹ نقصان کا باعث بنتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کا ٹمپریچر بڑھتا جا رہا ہے مسئلہ یہ ہے کہ 2030 تک بے انتہا بڑھ جائے گا کلائمیٹ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے صرف دو جنریشن کا وقت رہ گیا ہے یا تو یہ مسئلہ ہم خود حل کریں یا ہمارے انے والی نسل اگر وہ بھی یہ مسئلہ حل نہیں کرتے تو پھر شاید ان کے بچے یہ دنیا نہ دیکھ پائے پاکستان ان 20 ٹاپ کے ملکوں میں شامل ہوتا ہے جس کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا پاکستان سب سے زیادہ زراعت اور ٹیکسٹائل انڈسٹرز پر گزارا کرتا ہے جس میں پانی کی بے حد ضرورت پڑتی ہے اگر ماحول ٹھیک نہیں ہوگا تو زراعت کیسے بڑھے گی یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی زراعت دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے ۔
اس کی روک تھام کے لیے 2016 میں گلوبل لیڈرز پیرس میں میٹنگ کرتے ہیں تاکہ 2001 تک اس کو بہتر کیا جا سکے مگر خاطر خواہ نتائج نہیں ملتے اگر دیکھا جائے تو صنعتیں اور فیکٹریز مغرب میں لگتی ہیں اور اس کے دھوئیں کے اثرات سے پاکستان کا ماحول خراب ہوتا گیا 2022 میں فروری میں جب موسم سرما ختم ہوا اور مارچ کا اغاز ہوا تو گرم ترین موسم شروع ہوا یہاں تک کہ بلوچستان کے جنگلات میں اگ بھڑک اٹھی اور مون سون ایا تو غیر معمولی بارشیں پاکستان میں سیلاب کی صورت اختیار کر گئی جو عام روٹین کی نسبت 192 فیصد زیادہ ہوں جس کی وجہ سے سندھ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کا زیادہ تر حصہ سلاب کی نذر ہو گیا۔صرف میٹنگ یا کانفرنس کرنے سے دنیا کو نہیں بچایا جا سکتا اس کے لیے عملی اقدام کرنے ہوں گے دنیا کو سر سبز بنانا پڑے گا اور جہاں تک ہو سکے فیول کو کم کر کے سولر پر انا پڑے گا دنیا کو اپنے لیے اپنے انے والے بچوں کے لیے













