نباتیات میں ہم ایک بیل کے بارے میں پڑھتے تھے جس کا نام تھا اَمَر بیل جو ایک طفیلی بیل ہے جو پودوں پر چڑھ کر اپنا گزارہ کرتی اور تیزی سے پھلتی پھولتی ہے یہاں تک کہ اپنے میزبان پودے کو بالکل کھوکھلا کر دیتی ہے اور خود اُس پورے پودے پر چھا جاتی ہے ،ا اس سے اپنی خوراک بھی لیتی ہے اور اُسے چوس چوس کر کھوکھلا بھی کر دیتی ہے اُس وقت تو اس بیل کو ہم صرف امتحان میں جواب لکھنے کے لئے پڑھا کرتے تھے ۔لیکن اآج جب ہم اپنے ملک کی اَمَر بیلوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اُنکی خاصیت اور اِن بیلوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔

ملک کی تقدیر بدلنے کو ایک کرکٹ میچ کرایا گیا ۔بے شمار تحفظات کے ساتھ ؟؟ اب کہتے ہیں کہ اس میں بھی کرپشن کی کوئی انتہاء نہیں ہے ۔لیکن ہم جانتے ہیں ایک کمیشن اور بس ،ایک کمیٹی اور بس ، کیونکہ ہمارے یہاں بس کرپشن ہوتی ہے اُس کی چھان بین یا اُسے انجام تک لے جاکر سزائیں ابھی ہمارے ملک کا رواج نہیں ہیں ۔کیونکہ ہم نے اآج تک کسی بڑے پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت ہی نہیں کی اور نہ ہی ہوتی نظر آتی ہے بھلا سیٹھی صاحب جیسے قد آور شخص کو کوئی کیسے چھان بین کے نیچے لا سکتا ہے ، ؟؟ یہ وہ امر بیلیں ہیں جنہوں نے ملک کا رَس چوس کر اُسے کھوکھلا کر دیا ہے ۔اور صرف اور صرف ا۔سکے وسائل اور ا۔س کی دولت کے طلبگار ہیں ،انہیں ملک کی تعمیر سے کوئی سروکار نہیں ۔یہ تو جوانوں کو بھی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں کرپشن کی کہ بجائے اُنہیں روکنے کے کہتے ہیں ہم دیکھ رہے تھے کہ بُکیز کے ہاتھوں چڑھ جائیں پھر ہم انہیں پکڑیں تاکہ ثبوت ہو ۔۔تو اپنے کرپشن کے ثبوت بھی تو دے دو ۔ایک یہ کرکٹ کا کھیل رہ گیا تھا اس میں بھی پاکستان کو نیچے سے نیچے کر دیا افسوس ؟اگر اُن پر غلط الزام ہے تو الزام لگانے والوں کو سزائیں دو انصاف تو کرو کسی کو تو اس چھری کے نیچے لاؤ؟؟؟

جب تک بلا تخصیص سزائیں نہیں دی جائینگی اور وقت پر سزائیں نہیں دی جائینگی یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا اور یہ امر بییلیں ہمیں کہیں کا نہ چھوڑیں گی ،فیصلوں کو سالوں لگ جاتے ہیں حیرت کی بات ہے کہ ثبوت ہی نہیں ہوتے ؟؟؟ ٹی وی پر ثبوت لے کر بیٹھنے والوں ہی کو بلا لو ۔قانون کو طاقت دینے کے لئے اکثر نا پسندیدہ فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں ہمارے عدالتی نظام کو اب طاقت پکڑنی چاہئے اور کتنا وقت لینگے ۔اُس ادارے کے لئے جو ریڑھ کی ہڈی ہے کسی بھی ملک کی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ وکلاءکا کردار کتنا مثبت ہوتا ہے اپنے ملک کے لئے ۔ چند سو لوگوں کے پکڑے جانے سے ملک کو کچھ نہیں ہوگا انشاء اللہ ۔مگر ان اَمر بیلوں کا خاتمہ ضرور ہو جائیگا جو پَھل پھُول رہی ہیں ۔

کبھی کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ میڈیا کی دُنیا اور ہے اور باقی دنیا کہیں اور ہے ۔کیونکہ میڈیا تو کھُل کر سب کچھ سامنے لا رہا ہے مگر اُس کی شُنوائی نہیں ہے اگر غلط کہہ رہا ہے تو بھی سرزنش کرو ،اگر ٹھیک کہہ رہا ہے تو اُن کو پکڑو جو سب کچھ کھا کر بھی سکون سے واپس آتے اور عزت سے بری کئے جاتے ہیں ۔
ھمارے ملک میں ان اَمر بیلوں نے جس طرح ملک کو کھایا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے ،یہ خود تو کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ملک کو انہوں قرضوں ،کرپشن، بے ایمانی ،بے کاری اور بے راہ روی میں دھکیل دیا ۔افسوس یہ ہے کہ ان تمام باتوں پر کسی نے نظر نہیں کی چاہے اآمرانہ دورِ حکومت ہو یا جمہوریت کا دور سب نے ہی ملک کی ان بے ایمان اور بے حس اشرافئہ کو پروان بھی چڑھایا اور اِن کے سامنے ہاتھ باندھ کر بھی کھڑے رہے ،

ایک عجیب منظر ہے جو سمجھ سے باہر ہے کہ ایک صاحب پکڑے جاتے ہیں وزیرِ اعلیٰ سندھ کے کہنے پر چھوڑ دئے جاتے ہیں ، بھئی پکڑا کیوں تھا ؟؟؟ ایک اور صاحب جن کے بارے میں مدتوں سے کرپشن کا وا ویلا مچا ہوا ہے وہ واپس آتے ہیں ہوائی اڈے پر دَھر لیا جاتا ہے، مگر کچھ ہی دیر میں اُن کے چھوٹنے کی خبر بھی آجاتی ہے ۔ ہمیں تو اب ایسا لگتا ہے کہ کسی کو خبر نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے ۔ بڑے سب ہوا خوری کر رہے ہیں کہ سنا ہے کہ موسم اچھا ہو گیا ہے ۔۔ نہ کہیں صدر ہیں جو کہتے تھے کہ نحوست برستی ہے اور نہ ہی اور کوئی ۔ بلکہ صدر صاحب کے ذاتی خرچے کے بارے میں جو کہا جا رہا ہے وہ بھی حیران کُن تو نہیں مگر حیرت ذدہ کرنے کو کافی ہے کہ اب ہم نحوست کس چہرے پر دیکھیں ؟؟ اس طرح تو شاید گھر بھی نہیں چل سکتے جس طرح آج کل ملک کو چلایا جارہا ہے ۔ اس کے چلانے کے لئے بھی کچھ قاعدے قانون ہیں ،ورنہ تو گھرستی بھی تحس نحس ہو جاتی ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ہم کس سمت کی طرف رواں دواں ہیں ۔بڑے مقدمات کے فیصلے فریزر میں ہیں کہ نظریئہ ضرورت شاید اتنا طاقتور ہے کہ کبھی کوئی بات آڑے آجاتی ہے تو کبھی کوئی اور بات آڑے آتی ہے جب کہ قوم اور ملک کی قسمت ان تمام باتوں سے بالا تر ہے ۔ ملک کے قانون میں یہ تبدیلی بھی لانی چاہئے کہ وہ مقدمات جو ملک کے اچھے برے سے متعلق ہوں اُنہیں فوری اور جلد حل کرنا چاہئے کہ لوگوں کو انتظار کی تلوار پر لٹکانا بھی جائز نہیں ہے ۔
اللہ میرے ملک کو اِن اَمر بیلوں سے بچائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY