پہلے بڑی بے چینی ہوتی تھی اگر کوئی چیز نقاب کے پیچھے ہوتی تھی تو ،کہ کیا نظر آئیگا اس نقاب کے پیچھے ؟ تجسُس رہتا تھا ،مگر اب حالات یہ ہیں کہ نقاب اُٹھتا ہے تو وہ ہی سب کچھ سامنے ہوتا ہے جو سوچا جاتا ہے لہذا اب کچھ بھی ڈھکا چھپا یا نقاب کے پیچھے نہیں ہے ۔بلکہ ہر بات وہ ہی ہے جو آپ سوچیں ۔لیکن دُکھ یہ ہے کہ اچھا سوچنے کو کچھ نہیں ہے ۔آپ سوچ رہے ہونگے ہم نے نقاب کا لفظ کیوں استعمال کیا پردہ کیوں نہیں کہا ؟۔اسکی ایک بڑی وجہ ہے کہ پردے اکثر ہلکی پھلکی جھلک دکھا دیتے ہیں نقاب موٹا ہوتا ہے اُس کے پیچھے کچھ نظر نہیں آتا لیکن ہم نے نقابوں کی بھی مٹی پلید کردی ہے کہ لو دیکھو یہ ہوتی ہے سیاست ۔ہر کوئی اپنی منطق جتاتا رہا ۔ ہوا وہ ہی جو ہونا تھا ؟ یعنی ایک پھیرا وزیرِاعظم ھاؤس کا اور معاملہ ختم ۔ہم کچھ کریں نہ کریں داد ضرور دینگے اُن دماغوں کی جو ہم سے اس خوبصورتی سے کھیلتے ہیں ۔کہ ہم سب کچھ جانتے بوجھتے بھی شیخ چلی بن جاتے ہیں کہ ایک انڈے سے دس مُرغیاں اور پھر اُن کے انڈوں سے کروڑوں کا منافع اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ مُرغیاں حکمرانوں کے فارمز کی نہیں ہیں ،تمہاری غریب ٹوکری کی ہیں جن کے انڈے ٹوٹتے ہی ہیں اُن سے نہ مُرغیاں نکلتی ہیں اور نہ ہی سرمایہ بنتا ہے ۔

جس طرح ڈان لیکس کی نوید آئی اسی طرح پاناما کی نوید بھی ایک دن آجائیگی اور یہ نقاب بھی اسی طرح شفافیت سے اُتر جائیگا اور نظر آئیگا وہ ہی جو حکمران دیکھنا چاہتے ہیں اللہ نہ کرے ِکاش کچھ ایسا بھی نظر آجائے جو عوام دیکھنا چاہتی ہے اپنے حکمرانوں کو صاف شفاف ،اپنے وزیروں کو سچا کھرا َ اپنے عہدے داروں کو ہر دباؤ سے بالا تر ،اپنے اینکرز کو معتدل ،اپنے ٹی وی پروگراموں کو صرف اور صرف سچا اور اپنے عوام کو خوشحال ۔ہم پھر شیخ چلی بن گئے ،خیر کوئی بات نہیں کبھی کبھی خود کو بھی خوش کرنا چاہئے ۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ گنتی کے دو یا تین ادارے ہیں جنہوں نے عوام کا اعتماد حاصل کر رکھا ہے لیکن جس طرح ان اداروں کا رویہ بھی اعتماد کھوتا نظر آرہا ہے وہ نہ صرف عوام کے لئے بلکہ ہمارے معاشرے کے لئے بھی برا ہوگا بلکہ بہت برا ہوگا ،کہ جب اعتماد اُٹھتا ہے تو اُسے واپس لانے میں سالوں لگتے ہیں ۔جب کوئی اپنی توقیر کھوتا ہے تو اُسے اپنی ساکھ بنانے میں برسوں لگتے ہیں اور وہ ادارے جن کے لئے عوام سینہ سپر ہو جاتے ہیں وہ اگر یہ گو مہ گوں کی باتیں کرینگے تو پھر کدہر دیکھا جائیگا ؟ یہ ہی و ہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں آج تک تو نہیں ملا اور نہ ہی اب ملنے کی کوئی اُمید نظر آتی ہے ۔جب ہمارے مُقتدر ادارے بھی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں تو دیکھنے کو کچھ نہیں رہ جاتا ،سوچنے وک کچھ باقی نہیں بچتا ۔

مگر ایسا نہیں ہے کہ سب نے ہی ہتھیار ڈال دئے ہیں ابھی لوگوں میں حِس باقی ہے جو پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا ؟ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے کسی شخصیت یا گروہ کو کوئی فائدہ ہوگا تو ہمیں ایسا نظر نہیں آتا کیونکہ جس ادارے کی بات تھی وہ کوئی کمزور ادارہ نہیں ہے وہ ملک کی بقاء اور عوام کی حفاظت کا زمے دار ہے اُسے اپنے اوپر وہ سوالات ہر گز نہیں اُٹھنے دینا چاہئیں جو اُٹھائے جا رہے ہیں انہیں کم از کم اتنی شفافیت کو تو یقینی بنانا چاہئے کہ کہ کم از کم یہ ہی پتہ چلے کہ جس بات کو اتنا اہم گردانا گیا تھا وہ اتنی غیر اہم کیسے ہوگئی کہ لا تعلق لوگوں کی قربانی اُس کے لئے جائز قرار دے دی گئی ۔

ہمیں اُن لوگوں سے بھی شکوہ ہے جو اس معصومیت سے قربان ہونے کو ترجیح دیتے ہیں ،اور وہ بھی صرف اور صرف کچھ لوگوں کے مفاد کے لئے قوم کا مفاد اور اہمیت ختم ہو جاتی ہے کیا ؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ظلم کے آگے جھکنا بھی ظلم کرنے کے برابر ہے ۔کچھ باتوں کو ضرور زیرِ نقاب رہنا چاہئے وہ جو قوم اور ملک کے مفاد میں ہوں لیکن جو اشخاص کے مفادات ہوں ،اُن میں یہ کہاں تک جائز ہے ۔؟یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔

ہماری بر بادی ہی اس لئے لگی کہ ہم نے بڑوں کو بچایا اور چھوٹوں کو جیل پہنچایا ۔ہمارا تو مذہبی تقاضہ ہے کہ انصاف ہر شخصیت سے بالا تر ہو لیکن ہم نے اُسے بھی تابع کر لیا ہے غیر ملکی طاقتوں کے ۔اس لئے کہ ہم نے ہر طرف سے قرضے لے کر خود کو کمزور کر لیا ہے ہم بول نہیں سکتے اور یہ ہمارے مُحسِن ہمیں ان دلدلوں میں دھکیل کر خود اُن ہی ممالک میں جا بیٹھینگے آرام کے ساتھ ۔
میں سوچتی ہوں کیا ہمارے ساتھ غلط ہو رہا ہے ؟ جواب ملتا ہے نہیں کیونکہ تم نے یہ گڑھے اپنے لئے خود کھودے ہیں بلکہ اب بھی کھود رہے ہو ۔اگر یونہی ان کے پیچھے چلتے رہے انہیں بچاتے رہے تو رہا سہا بھی کھو دوگے ۔بولو کہ اگر اب بھی نہ بولے تو پھر کوئی نہیں سُنے گا ۔ اب بھی نہ اُٹھے تو پھر کوئی کھڑا نہیں کرے گا ۔یہ فیصلہ تو خود تمہارے ہاتھ میں ہے کہ جھوٹ اور فریب کو برداشت کرنا ہے یا نہیں ،اگر اپنے لئے نہیں تو کم از کم اپنی آنے والی نسلوں کو اس عزاب سے نکال جاؤ کہ وہ تو دنیا کے سامنے تَن کر کھڑے ہو سکیں کہ ہم سچائی اور حق کے علمبرا دار ہیں ۔کاش ہم سب ہی یہ کر سکیں ۔
اپنی اس نظ،م پر اپنے کالم کا اختتام کرتی ہوں ؛۔

کیسی ہے یہ جمہوریت کیسا حسیں نظام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے وطن کے حاکموں کیا واقعئی انتقام ہے ؟
جھوٹ، دھوکہ ،بے ایمانی اپنے ہی جھنڈے تلے ۔۔۔۔ کاش اِس ظلم و ستم سے اب تو بس نجات ملے
کہتے ہیں تم کو برا ،اچھا ہمیں لگتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پَر کریں کیا تم نے کوئی راستہ چھوڑا نہیں
گھِر رہی ہے قوم ساری جھوٹ کے گِرداب میں ۔۔۔۔۔۔ کوئی تو دو سَچ کا نعرہ دِل کو کچھ ڈھَارس ملے
کیا جوانوں کو یہ ہی کردار دے کر جاؤگے ۔۔۔۔ ۔۔۔ جھوٹ دھوکہ اور دغابازی ہی ورثہ پاؤگے
پَر نہیں بَس اب نہیں اب آگیا ہے یہ شعور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھولنا پڑ جائیگا اب آپ کو عُقدہ حضور
میرا ملک میرا ہے َیہ میرے عظیم لوگوں کی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔ اَب اسے دے گا وقار اس ملک کا ہر نو جوان
دِل میرا چاہے چُنے ایسی قیادت اب عوام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالم آرا ووٹ کی عزت اور حُرمت ہو عوام

SHARE

LEAVE A REPLY