انسان کی زات میں موجود برہمی، غصہ، خواہشات، ہوس، حب دنیا اور توقعات کی قید اسے، انسانییت سے اٹھا کر حیوانیت کے اس درجے پہ لا پھینکتی ہے کہ انسان اپنے گرد موجود پروردگار کی ان گنت نعمتوں کو بھول جاتا ہے نہ صرف نا شکری کرتا ہے بلکہ اپنے قلب و روح کو وہ نقصان پہنچاتا ہے کہ جسکا اثر زنگی بھر اسکی زات کو تعفن زدہ بنا دیتا ہے اور اس بات کا احساس اسے نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔
وہ سوچتا ہے کہ بدبو دار معاشرہ ہے، گردو نواح ہے، انسان ہیں، دنیا اور لوگ ہیں مگر یہ کہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اپنے وجود کے اندر موجود حرص، ہوس، لالچ، نفرت، حسد، بغض، کینے، ظلم، منفی سوچ، منفی گمان، خوف، سب ایک ایک جوہڑ کی مانند اسکے وجود میں پلتے چلے جاتے ہیں اور انکی بدبو کا زمہ دار وہ باہر کو سمجھتا ہے جبکہ یہ جوہڑ اسکی توقعات کا ٹوٹنا اور اسکے انتقام میں اسکا منفی ردعمل ہے جسے کھرچ کھرچ کے دھوئے بنا، اور تازہ صاف مٹی ڈالکر محبت، یقین،تشکر، اور نور کے بیج ڈالے بنا وہ اپنی زات کو وہ چمن نہیں بنا سکتا کہ جسکی اٹھان، خوشبو، رنگ روپ، سچائ، حسن اپنے اندر کے حسن کیساتھ ساتھ اپنے گردونواح کے تمام تر حسن کو اکھٹا کر کے ہر شے کو حسین و معتبر بنا دیتا ہے ۔ ۔ ۔
ہم محرومیوں، بھوک، افلاس کا تزکرہ تو کرتے ہیں لیکن کبھی اپنے وجود میں چلتے نظام پہ پروردگار کے شکر گزار نہیں ہوتے کہ میری آنکھوں میں بینائ نہ ہوتی تو کیا کرتا میں ۔ ۔ ۔؟
میرے ہاتھ ٹیڑھے ہوتے تو کیا کرپاتا ۔ ۔ ۔؟
میں چل پھر نہ سکتا تو کسقدر ازیت بھری زندگی ہوتی ۔ ۔ ۔؟
یہ روشنی، یہ ہوا، یہ پانی یہ فضا جو مفت میں میسر ہیں کبھی انکی موجودگی کا شکر کیا میں نے ۔ ۔ ۔؟
کیا کبھی یاد کیا ان سب لمحات کو جنہوں نے مجھے پستی کے گڑھے سے گرنے سے بچایا مجھے یاد ہے وہ پل جب میں رب کی زات سے مایوس کھڑا بے اختیار روتے ہوئے رب کی سمت شکوہ کناں آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، جب سوچتا تھا کہ یہ زندگی بہت ہی بیکار شے ہے اور میں موت تک مانگنے سے گریزاں نہیں تھا پر پروردگار نے اک دوست بن کر مجھے اس دوست کے پاس لابٹھایا جس نے اس پستی کے پل سے یہ کہ کر نکالا کہ یہ
” کیا ہوا تمکو جو یہ تم شیطان کے وسوسوں میں آنے لگے ۔ ۔ ۔؟ آخر کیوں ۔ ۔ ۔؟
کیا بھول گئے ہو اپنی ماں کے رتجگوں کو جو 9 مہینے ازیتیں اٹھا کر تمہیں جنم دیا اور پھر اسوقت سے جوانی تک اپنے احساس، خدمت، محبت، کا خون دیا جس نے فقط تمہاری چلتی سانسوں اور سلامتی کی دعا کی جسکی دعاوں نے ہر سمت سے تمہیں گھیر رکھا ہے کیسے تم نے شکر نہ کیا سن سب لمحات کا کہ جب تم باشعور نہیں تھے پر تمہیں شعور تک لانے والا ہر رزق علم، تربیت،مامتا، احساس، کی صورت تمہیں گھیرے ہوئے تھا اور وہ باپ جس نے خود بھوکے رہتے اپنی کن کن خواہشات کو تمہارے سکون اور جوانی کی نزر کردیا تاکہ تم سلامت، خوش اور کامیاب رہ سکو ۔ ۔ ۔
کبھی یاد کیا تم نے اس استاد کو جس نے تمہارے وجود پہ گہرے نقوش چھوڑ دیے یہاں تک کہ تمہارے اندر زندگی کی شمع روشن کردی کے جسکی لو تمہیں تمام تر مشکلات کے باوجود اس مقام تک لائ کہ آج تم لکھ پڑھ سکتے ہو، سمجھ سکتے ہو ہنر مند ہو ۔ ۔ ۔
کبھی یاد کرو اس لمحے کو جب کبھی تمہارا کوئی اہم کاغز، والٹ یا قیمتی شے سر راہ گر گئ اور تم بہت پریشان ہوئے لیکن کسی نیک روح انجان نے تمہاری امانت تم تک پہنچا دی تم نے کیوں کر ان سب ان گنت لمحات کی قدردانی نہیں کی جنہوں نے تمہارے وجود کے اندر انسان کو بیدار رکھا ۔ ۔ ۔
تم آج بیٹھو اطمیننان سے بیٹھو اور سوچو، غور کرو اور شکر کرو کسی ایک اجنبی کے متعلق جس نے تمہاری زات کی کایا پلٹ دی ہو پر پھر نہ ملا ہو پر آج تک یاد رہا ہو ۔ ۔ ۔
کسی سخت موسم میں شدت پیاس میں کسی نے تم تک تھنڈا پانی پہنچایا ہو ۔ ۔ ۔
وہ استاد، دوست، رشتے، اجنبی، اپنے جنہوں نے اپنے کہے کسی ایک حرف سے، اٹھائے کسی ایک قدم سے، دکھائ کسی مثبت راہ سے تمہارے وجود کو رب کی بندگی و عاشقی، اس دنیا یا اس دنیا کے کسی بھی اہم دردرہچے سے جوڑ دیا ہو ۔ ۔ ۔
وہ ہمسفر جو بس چند قدم چلا تھا پر تمہیں رستے میں گفتگو کے دوران تمہاری ہی زات کے سب راز تم پہ عیاں کر کے تمہیں زوق پرواز بخش گیا ہو ۔ ۔ ۔
وہ ہنستے مسکراتے پل جن میں تمہارے قلب و روح نے سچے سرور، خوشی اور زندگی کو بڑے اہتمام سے محسوس کیا ہو ۔ ۔ ۔؟
کبھی سوچو تم چوبیس گھنٹوں میں اور اب تک کی گزری زندگی میں سوائے چند ایک محرومیوں یا کمی کے ہر سمت سے نوازے گئے ہو لیکن تم نے اپنی نگاہیں اس کمی، کمزوری، مشکل پہ تو رکھیں حتی کہ ہر سمت بس وہی نظر آنے لگی لیکن کبھی تم نے ان سب نعمتوں، رزق، علم، معرفت ،فکر ،صحت ،زندگی، وقت، احساس، زندہ قلب و روح، پاکیزگی، سچائی، حسن کو سمجھنے والی بیدار نگاہ، وہ سب رشتے ناطے، وہ کتابیں، وہ لمحے، وہ استاد وہ دوست جنہوں نے تمہارے وجود کو تم سے جوڑا تمہیں ہر خوف و ریا سے پاک رکھا کیا کبھی ان سب پہ شکر ادا کیا ہے ۔ ۔ ۔؟
کہ جو تم نے پایا ہے ۔ ۔ ۔
اور جو سب تمہارے پاس ہے ۔ ۔ ۔
وہ سب اس سب سے کہیں زیادہ عظیم و حسین ہے کہ جو تمہارے پاس نہی ہے ۔ ۔ ۔
تمہارے اندر پروردگار کی توحید کا شعور، رب کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کا رزق، اہلیبیت رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و قربت کا رزق، کراب ھدایت، وقت اور چلتی سانسیں کبھی غور کرو تو دوجہاں کی ہر نعمت میں عظیم ترین نعمتوں، اور انمول ترین خزینوں کے بیچ موجود رہ کر تم صرف چند لمحوں کی بھوک، اپنی ہوس، لالچ، حرص و ریاکاری، دکھاوے اور عیش پرستی کی راہ میں معمولی سی کمی تھوڑی سی ضرورت کی راہ میں کمی نے تمہاری نگاہ میں ہر نعمت، رحمت، رب کے حسن کو بے مول بنادیا کیا یہ تمہاری خود کے ساتھ کی گئ زیادتی اور ظلم نہیں کہ زندگی جیسی عظیم الشان نعمت کو چند توقعات اور خواہشات کے باعث بہت بے مول سمجھ لیا ۔ ۔ ۔؟
یہ بہت ضروری ہے کہ انسان ایک ایک نعمت کو بیٹھ کر گنے اور سوچے کہ یہ نہ ہوتی تو کیا ہوتا یہ پنکھا یہ ہیٹر، یہ صوفہ، یہ کمرہ جس پہ میں بیٹھا ہوں، یہ چارپائی یہ صحن، یہ سب جو میرے استعمال میں ہے ان میں ایک بھی شے نہ ہوتی تو میں کیا کرتا ۔ ۔ ۔؟
کیا جو مجھے مل چکا ہے اسکے شکر کاحق ادا کر سکا ہوں کہ جو نہیں ملا اس پہ اعتراض نا شکری کم ظرفی اور تنگ دلی کا اظہار کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔؟
شکر نعمتوں میں اضافے کا سبب ہے اور ناشکری نعمتوں میں کمی اور انسان کی نگاہ میں موجود نعمتوں کی قیمت کو بھی کم کردیتا ہے، زندگی کوئی ہار جیت یا دنیا کے مابین دوڑ نہیں ہے بلکہ رب تعالیٰ کے سجائے دسترخوان میں جو رب نے اپکو عطا کیا ہے آپ اس پر کسقدر خوشی، اطمیننان اور شکر کا اظہار کرتے ہوئے سربسجود رہتے ہیں یا ناراحتی کا اظہار کرتے ہوئے اسکی ناشکری کرتے ہیں یہ اس ردعمل کے اظہار کا واسطہ ہے۔ ۔ ۔
پروردگار جو انسان سے ہر ہر پل کہیں کمی کہیں نواز کر انسان کے اور اپنے رشتے کی ڈوریاں مضبوط یا کمزور کرنے کا موقع دے رہا ہے پر انسان چونکہ خسارے میں ہے اور اسکی عطا سے ناخوش رہتا ہے تو اپنی زندگی کو رحمن کی پناہ دے نکال کر شیطان کے وسوسوں میں دھکیل بیٹھتا ہے ۔ ۔ ۔
بہت اہم ہے انسان واسطے کہ ہر ہر پل اپنے چناو، اپنے انتخاب پہ نگاہ رکھے کہ وہ صاحبان شکر میں سے ہے یا کہ صاحبان کفر میں سے ہیں ۔ ۔ ۔
اپنی زندگی کے ہر پل کو شکر کی نگاہ سے دیکھنا اور اس پل میں سجی رب کی نعمتوں، زندگی کی راحتوں، آسائشوں کو شکر کی نگاہ سے دیکھنا انسان وجود کو بندگی سے پیوست کرتا ہے اور ہر موجود نعمت کو پست نگاہی سے دیکھنا انسان کو مایوسی، مقابلے بازی، ناشکری اور کمظرفی کی سمت بڑھاتا ہے اپنے ہر پل کو شکر کی نگاہ سے دیکھنے کی تربیت کیجیے تاکہ بندگی کی سمت، انسانییت کی سمت انسان سفر کر سکے ۔ ۔ ۔!!!
فائزہ عباس












