زرا عمررفتہ کوآواز دینا ۔۔ نصرت نسیم

0
1311

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب مسند اقتدار پر مرد مومن ضیاء الحق صاحب متمکن تھے اور90 دن کے اندر اندر انتخابات کروانے کا وعدہ شب ہجر کی طرح طول پکڑتا جا رہا تھا توعام انتخابات کی بجائے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اوربلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا بلدیاتی انتخابات کے بعد پہلی بار ٹاون کمیٹی اوریونین کونسل میں بھی خواتین کو نمائندگی کاحق ملا توانڈسٹریل ایریا ٹاون کمیٹی امان گڑھ میں خاتون کونسلر کی سیٹ اناؤنس ہوئی (اس کی کہانی الگ سے پھر کبھی آپ کو سنائیں گے )اورپہلی دفعہ بلا مقابلہ منتخب ہو گئے
ضیاء الحق نے 14اگست کوتزک واحتشام سے منانے کا اعلان کیا اور تمام بلدیاتی اداروں کو ہدایت کر دی گئی کہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں پر جوش انداز سے یوم آزادی منائیں اس سلسلے میں میٹنگ ہوئی اب مسئلہ یہ تھا کہ مرد ممبران تو اپنے مخصوص وارڈ تک محدود تھے جب کہ خاتون کونسلر ہونے کے ناطے تمام انڈسٹریل ایریا کی نمائندہ تھی اس میں آدم جی پیپر مل، کالونی سرحد ٹیکسٹائل مل،ڈی ڈی ٹی،شمع گھی مل، فیروز سنز لیبارٹری جیسے بڑے بڑے مشہور اداروں کے علاوہ درجنوں چھوٹے موٹے کار خانہ جات بھی تھے ہم نے پورے انڈسٹریل ایریا کے لیے ایک بڑا پروگرام کرنے کی بات کی تو اپوزیشن ممبران کو اعتراض تھا کہ ایسا کیوں کر ممکن ہو گا بہرحال خواتین کے لیے مختص 2 فیصد سے بجٹ منظور ہوا دو تین لوگ کام کے لیے ملے اور تیاریاں شروع کردیں

انڈسٹریل ایریا میں جہاں ایک طرف اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ تھے تو دوسری طرف اکثریت ان پڑھ یاواجبی سے پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تھی لہذا پروگرام ایسا ہو کہ خاص و عام لطف اندوز ہوں
یوم آزادی کے حوالے سے تقریری مقابلہ، ملی نغموں کا مقابلہ اورفینس ڈریس شو اورعلاقائئ ملبوسات کے مقابلے شامل تھے تمام ملز کے لوگوں کو دعوت نامے اور سرکلر کر دیا کہ یہ مقابلے مختلف ملز کے بچوں کے درمیان ہونگے اور اول،دوم سوم آنے والوں کو نقد انعامات سے نوازا جائے گا اب انعام کی کشش کے علاوہ مل کی عزت کابھی سوال تھا لہذا سکول کالج جانے والی بچیوں نے سرتوڑ کوشش اورمحنت کی اورصحت مند مقابلے کی فضا قائم ہو گئی
آج سے تقریبا 34سال پہلے ایک ہی پی ٹی وی تھا جس پر 13 کی ساری رات پروگرام اورملی نغمے خون کو گرماتے رہتے گھروں پر چراغاں، جھنڈیاں ایک جشن کا ساسماں
13 اگست کو شامیانے وغیرہ ہائی سکول کے وسیع و عریض لان میں لگواتے ہمارے نصف بہتر یعنی نسیم ایک بہترین منتظم کی طرح تمام کام اپنی نگرانی میں کرواتے (میرا یہ ماننا ہے کہ جس طرح ہرکامیاب مرد کے پیچھے کوئی عورت ہوتی ہے اس طرح کامیاب عورتوں کے پیچھےبھی مرد ہوتا ہے )اوربڑی خوش اسلوبی سے اتنے بڑے اجتماع کے لئے پنکھے، شربت، پانی کا انتظام کرتے

اکثر 13 کی رات ساون کے بادل گھر گھر آتے موسلادھاربارش بارش سے سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ جاتے اورصبح منہ اندھیرے دوبارہ شامیانے لگوائے جاتے ٹھنڈی ہوائیں، ہلکی ہلکی سی پھوار میں تلاوت کلام پاک حمد و نعت کے بعد باقاعدہ مقابلے کا آغاز ہوتا کمپئر میری ایک پروفیسر دوست تھی اور فیض واقبال کی حافظ اس
نے جو اشعار سنانے شروع کیے تو میں پریشان کہ یہاں لوگ کیا سمجھیں گے   مگر مقام حیرت کہ لوگوں نے تالیاں بجا بجا کر خوب داد دی اب ہماری دوست کی طبیعت میں مزید روانی اوراشعارکی فروانی ہوی کہ تقریب جس نے دو ڈھائی گھٹے میں ختم ہو جانا تھا گھنٹہ مزیدطول پکڑ گئی مگر لوگوں کا جوش خروش برقرار رہا شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی دفعہ ایسا بڑا اجتماع ہوا جہاں مختلف علاقوں اورملوں کے لوگ ایک جگہ مل بیٹھے ان کے لیے یہ کسی تہوار سے کم نہ تھا کہ اپنے بچوں کو پرفارم کرتے اورانعام حاصل کرتے دیکھیں
تقریب کے اختتام پر روح افزا اورمیچلز کے سکوائش سےتواضع کی گئی یوں یہ پہلا جشن آزادی بھرپور طریقے سے کامیاب ہوا کہ بچے پہلے سے تیاری کر رکھتے اور لوگ انتظار کرتے پوچھتے اس دفعہ بھی جشن آزادی منا رہے ہو نا
یہ تھی 34سال پہلے کی جشن آزادی کی روداد اگر اچھی لگے تو یادوں کی پوٹلی سے مزید کچھ یادیں تازہ کروں آپ سب کے ساتھ
SHARE

LEAVE A REPLY