آج کا عنوان علامہ اقبال ؒ کے ایک مشہور شعر کا پہلا مصرع ہے، جو اب پتہ نہیں مگر پہلے ہر خواندہ انسان کو یاد تھا۔ اگر کسی کو نہیں یاد ہے،یا قوم بھول گئی ہے تو میں دوسرا مصرع پیش کر کے مکمل کرکے یاد دلا دیتا ہوں۔وہ یہ ہے “ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتا ہی “ کیونکہ ان کے مزار پر گارڈ کھڑی رہتی ہے اور ان کے یوم ِ پیدا ئش کو بھی قوم مناتی ہے یہ اوربات ہے کہ ان کو بھی قوم مانتی ہو، مگر ان کی بھی بات ان کے بڑوں کے طرح نہ مانتی ہو کیونکہ ہمیں اپنے پرانے اورتازہ آقاؤں کی بات ماننے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔یہ دراصل مجبوری ہمیں یوں لاحق ہوئی کہ ہم نے ملک پاکستان اللہ سے اللہ کے نام پر مانگا تھا،اس شرط پر کہ ہم تیرا نام وہاں بلند کریں مگر جب بلند کرنے وقت آیا تو پیچھے ہٹ گئے یہ سونچے بغیر کہ “ اس قوم کی درگت ہی بنا ئی ہے خدا نے قوم کہ وعدوں سے کہیں پر بھی پھری ہے ًنتیجہ یہ ہوا کہ ہم ایک کے بندے ہونے کے بجا ئے بہت سوں کے بندے بنے اور رہے کسی کے نہیں؟ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے؟
پنچھی دانہ دیکھ کرصیاد کے جال میں تو بہت آسانی سے پھنس جاتا ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے کہ “ میں نے دونوں راستوں سے آگاہ کردیا ہے جو میرا دوست اس کو میں اندھیروں سے اجا لوں طرف لے جاتا ہوں اورجو شیطان کے دوست ہیں وہ انہیں اجا لوں سے جہنم کی طرف لے جاتا ہے، میں کسی پر جبر نہیں کرتا ہوں جو جس طرف جانا چاہے اسے جانے دیتا ہوں“ یہ ہی وجہ ہے کہ واپسی میں جال، صیاد اور شیطان تینوں حائل ہوکر واپسی بندے کی مشکل کردیتے ہیں جبکہ پنچھی کو سہ رخی لڑا ئی لڑنا پڑتی ہے۔ اور پھر مرحلہ وہ آجاتا ہے کہ “ خود کردہ تدبیر نیست “ یا خود کردہ را علاج نیست کی حالت سے گزرتا ہے اور جال سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوتا (کیونکہ اپنے کیئے کا کوئی علاج نہیں ہے لہذا مایوس ہوکر بیٹھ جاتا ہے) اب آ پ پوچھیں گے کہ تم نے اتنی بڑی تمہید کیوں باندھی اسے مختصر اً ہی بیان کردیتے۔ تو کیا حرج تھا بات یہ ہے کہ عوام کی یادداشت بہت خراب ہے وہ ساری پرانی باتیں بھول چکے ہیں۔ وہ یہ بھی بھول چکی ہے کہ ہمارے مالک نے ہمیں ستائیسویں رمضان المبارک کو رات کے بارہ بجے یہ ملک کی عطا کیا تھا! اس ہدایت کے ساتھ کہ “ اسے رکھنا سنبھال کے “جو آج تک ہم قائد اعظم کی ہر برسی پر مشہور ملی نغمے کی صورت میں سنتے سناتے ہیں چونکہ اس دن چھٹی ہوتی ہے کام کوئی نہیں ہوتا۔ دوسرے دن بھول جا تے ہیں کہ بہت کام نہ صحیح کچھ توکرنا ہی ہوتا ہے۔ شاید اس پر کل بات ہو جو واقعہ ابھی گزرا ہے۔ جس میں ایک بہت اہم رکن کے بیٹے کی شادی تھی وزیر نے وہ بھنگڑا ڈالا کہ لوگ واہ واہ کراٹھے “ یہ اس وعدے کی جھلک جو موجودہ حکمراں نے مدینے جیسی ریاست بنا نے کا کیا تھا کیونکہ دین تو حکمرانوں کا چلتا ہے۔ اور اس وقت جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں وہ صاحب اپنے اسی یار کے صاحبزادے کے ولیمہ میں شرکت کرنے کے لیئے کراچی تشریف لا ئے ہیں اس سے دوبارہ لطف اندوز ہورہے ہوں؟۔جو مسلم امہ کا بیڑا پارلگانے کے لیے اٹھے تھے مگر انہیں بٹھا دیا گیا۔ کیوں کہ پچاس لاکھ پاکستانیوں کی بے روزگاری یاد دلائی گئی، وہ اربو ں ڈالر یاد دلا ئے، وہ تیل یاد دلا یا گیا جو کہ آئندہ کئی سالوں تک ادھار ملنا ہے،۔ اتنے بڑے نقصان کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔یہ حکمراں کی مجبوری ہے جس کی سیٹھوں کی طرف سے تردید آگئی ہے کہ نہیں ہم نے کوئی دھمکی نہیں دی ہے۔؟ہم اسے مان لیتے ہیں کہ کہنے والے بزرگ بھی ہیں برادر بھی ہیں، تو کیا ہوا مگر قرض لینے والے خیال کریں وہ سیٹھ بھی ہیں! اور سیٹھ چا ہے اپنا ہو چاہے پرایا ہو، مگر کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری کریگا تو کھا ئے گا کیا۔ اور مقروضوں کو نچا ئے گا کیسے؟
چین جب عالم وجود میں آیاتو پہلے اس کی پالیسی “ہندی چینی بھائی بھائی تھی“ کیونکہ کامریڈ نہرو بھارت کے پردھان منتری تھے۔لہذااس نے پاکستان کو گھاس نہیں ڈالی مگر جب بھائیوں میں پھوٹ پڑگئی تو چین نے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھائے پاکستان نے بھی جواب دینا چاہا، جس کے پھل اس وقت قوم کھا رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی مرحوم تھے وہ ایک زیرک سیاستداں تھے کسی نہ کسی طرح انہوں نے کسی چین سےدوستی کی اہمیت کا امریکہ کو احساس دلایا اور اجات لے لی، مگرکیسے یہ راز ہمیں معلوم نہیں ہوسکا لیکن صدرسکندر مرزا نے بعد میں ایوب خان کی موجودگی میں ان سے استعفیٰ لے کر رہے کہ اب آپ پر پالیمان کو اعتماد نہیں رہا؟ جبکہ وہ کہتے رہ گئے کہ مجھے پارلیمان کے سامنے جانے دو اگر میں ووٹ نہ لے سکا تو استعفیٰ دیدونگا۔ ان کے جرم تھے دو ایک تو چین سے دوستی دوسرے اس سے ایک دن پہلے موچی گیٹ لا ہور میں ان کی تقریرکہ “ یہاں ایک ایک زمیندار کے پاس 75ہزار ایکڑ زمین ہے جس طرح میں نے ایسٹ پاکستان میں کیا یہاں بھی زمیندار ی ختم کرکے زمین ہاریوں میں بانٹ دونگا؟
ان کے بعد آئی۔ آئی چند ریگر آگئے انہوں نے سابقہ وزیر اعظم کی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تویہ ہی منظر ہم نے اسوقت دیکھا , جب انہوں نے اپنے پڑوسی ملک جو اسوقت ہمارا سب سے بڑا مدد گار ہے اس کے پاس جاناچا ہا کہ مزید تعلقات استوار کریں، وہ گھر سے بغیر پوچھے نکل تو پڑے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہوائی سروس نہیں تھی مگر ہانگ کانگ کے نکلوں کا پانی پی کی واپس آنا پڑا اور با حسرت یاس پچاس دن کی وزارت عظمٰی سے ہاتھ دھونے پڑے کہ وہ پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔ کہاوت ہے کہ“ مور ناچتا ہے ناچتا ہے جب پیروں کو دیکھتا ہے تو رونے لگتا ہے“ ہےہائے رے انسان کی مجبوریاں۔













