اسلام آباد کی جوڈیشل میجسٹریٹ عدالت سے جج ویڈیو لیک کیس میں رہا ہونے والے تینوں ملزمان کو مقدمے کا سامنا کرنے پڑے گا کیوں کہ سائبر جرائم عدالت نے ان کی رہائی کا حکم مقدمے سے بری کرنے کے لیے ناکافی قرار دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی اور خرم یوسف پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو رہا کرنے کے لیے غیر اخلاقی ویڈیو دکھا کر احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک پر دباؤ ڈالا۔

جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے شعبہ سائبر جرائم کے 4 عہدیداروں نے 2 ستمبر کو ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

تاہم تفتیشی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں تھے جس کے بعد جوڈیشل میجسٹریٹ ڈاقب جواد نے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

دوسری جانب انسداد برقی جرائم عدالت کے جج نے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ ’7 ستمبر 2019 کو دیا گیا تینوں ملزمان کی رہائی کا حکم انہیں بری کرنے کے لیے کافی نہیں اور استغاثہ کو ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ سابق جج ارشد ملک نے ناقص تفتیش کے الزام پر 11 ستمبر کو ایف آئی اے کے چاروں عہدیداروں کے خلاف شکایت دائر کی تھی جن میں ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ تارڑ اور فاروق لطیف اور سب انسپکٹر فضل محبوب شامل ہیں۔

ایف آئی اے حکام نے سائبر جرائم عدالت کی 23 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں بتایا تھا کہ ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل نے نہ صرف انکوائری سائبر کرائم ونگ سے انسداد دہشت گردی ونگ کے سپرد کردی ہے بلکہ چاروں عہدیداروں کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی کارروائی کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے کی تجویز پر ویڈیو اسکینڈل کیس کے تینوں ملزمان کے بری ہونے کے بعد ایف آئی اے نے اس کیس میں غفلت برتنے پر سائبر جرائم عدالت کے خصوصی جج سے اپنی ہی ٹیم کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY