’’یوم عالمی شاعری‘‘ کے موقع پر
شاعری یا ساحری
ندیم صدیقی
شاعری اور ساحری بظاہر دو الگ الگ عمل ہیں ۔ ممبئی میں مراٹھی بھائی شاعری کو ساحری ہی کہتے ہیں ہم نے جب اس موضوع پر توجہ کی تو محسوس ہوا یہ غلط بھی نہیں کہ شاعری اگر واقعتاً ’’شاعری‘‘ ہے تو وہ ساحری ہو ہی جاتی ہے۔
اس پس منظر پر غورکیا جائے تو ہماری زبان کی شاعری میں کتنے ہی ساحر گزرے ہیں البتہ لدھیانہ کا ساحر ایک ہی ہے مگر زبان ِاُردو میں میرؔ و غالبؔ کی شاعری کا سِحر اپنی جگہ ویسے ہی باقی ہے اور اس سِحر کے ٹوٹنے کے کوئی آثار بھی دور تک نہیں ہیں یعنی ثابت ہوا کہ شاعری واقعتاً ساحری ہے جو اگر ہوجائے تو اس کا ٹوٹنا محال کیا نا ممکن جیسی بات ہوگی
!
اکیس مارچ کو عالمی پیمانے پر یوم ِشاعری منایا گیا۔
اس دِن سے ابتک ہمارے شعرا نے نجانے کتنی’’ شاعری ‘‘کرلی ہوگی مگر شاید ہی کسی کو توفیق ہوئی ہو جو شاعری پر کچھ لکھنے کی زحمت بھی کرتا۔
خیر سےناصر عباس نیر کا ایک مضمون ضرور آج نظر سے گزرا جس میں انہوں نے شاعری کے تئیں یہ سوال کیا ہے کہ ’’کیا شاعری خطرے میں ہے؟ ‘‘
ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں، لیکن جب انسان کا وجود ہی خطرے میں ہو تو اس کے بعد ہر چیز خدشات میں نظر آتی ہے۔
کسی کا قول پڑھا تھا کہ شاعری روح کی غذا ہے۔ اس کےغلط ہونے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ ہمارا خیال ہے کہ انسان کے ہاں جب تک عِلم کی طلب رہے گی تب تک شاعری بھی زندہ رہے گی اور علم کی دیگر شاخیں بھی۔
یہ ضرور ہے کہ اس وقت دُنیا کی ترجیحات میں علم و فن سر فہرست نہیں البتہ جو کچھ ہے وہ زر و مال ہے مگر یہ ہوسِ زرومال بھی کب تک؟
ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے جہاں پہنچ کر وہ تمام ہو جاتی ہے۔
شاعری دراصل علم ہی کا ایک شعبہ ہے بلکہ علم کی رونق ہے ۔ انسان کے ہاں طلبِ علم جب تک باقی ہے تب تک یہ شاعری بھی باقی رہے گی۔
ہو سکتا ہے کہ یہ موضوع اپنے آپ میں مزید گفتگو چاہتا ہو جو ہونی بھی چاہیے ۔
فی الحال ہم شاعری کی قدروں کی طرف لوٹتے ہیں۔
ہم نے کوئی پچاس برس اُدھر حکیم انجم فوقی بدایونی کے ہاں’’ شاعری‘‘ اور’’ شعر‘‘ پر ایک چھوٹی سی بحث پڑھی تھی۔
محترم نے ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ شاعری تو بہت ہو گئی مگر جسے شعر کہتے ہیں وہ اب خال خال ہی میسّر ہوتا ہے۔
شاعری اور شعر کے فرق کو سمجھنے کےلیے موصوف سے سوال کیا گیا کہ شاعری اور شعر پر کچھ روشنی ڈالیں۔
انہوں نے جوکہا ،اِجمالاً سنیے:
’’آپ نے علامہ سیماب اکبرآبادی کا یہ شعر یقیناً پڑھا ہوگا:
سیماب! کس نے عرش سے آواز دی مجھے
کہہ دو کہ انتظار کرے ، آرہا ہوں مَیں
اکبر آباد کے عاشق حسین سیماب نے بیشک اچھا کہا ہے جو پہلی سماعت پر بیساختہ داد بھی لے لیتا ہے۔
مگر مَیں نے جب حضرتِ فوقؔ سبزواری کا یہ شعر سنا تو سیمابؔ کے شعر کا سِحر از خود کافور ہوتا محسوس ہوا۔
تم کیوں بلا رہے ہو مجھے بامِ عرش سے
میرے بغیر کام رُکے ہوں تو آؤں مَیں‘‘
اگر آپ اچھا شعری ذوق رکھتے ہیں تو بسا اوقات آپ کی نظر سے ایسے شعر بھی گزرے ہونگے جن میں تنقیدی عنصر غالب رہتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بھی ایک ’’ وصفِ ‘‘ ہے جو ہر گز عام نہیں۔
معین احسن جذبی کی ایک غزل (مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے **یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہشِ دنیا کون کرے )ہر باذوق فرد نے پڑھی ہوگی اور عجب نہیں کہ اس غزل کا یہ شعر ذہن میں بھی کہیں ہو:
جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر، ساحل کی تمنا کون کرے!
برسوں قبل اسی زمین میں قاصی وصی احمد آوارہ(سلطان پوری) سے (کسی کا)یہ شعر
’’ جب مجھ کو تمنا تیری تھی تب تجھ کو تمنا غیر کی تھی
اب تجھ کو تمنا میری ہے، جا۔۔ تیری تمنا کون کرے‘‘
سنا یاتو جذبیؔ کے شعر کا رنگ ہَوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہوا۔
یہ موضوع عجب ہے۔ خیال گزرا کہ کیوں نہ اس موضوع پر کچھ تلاش اور یکجا کر دیا جائے ،سو ذہن کام سے لگ گیا وہ جو مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی ہے تو وقتاً فوقتاً ایسے شعر ملنے لگے جو اپنےموضوعی تناظر میں آپسی قربت کے باوجود ایک دوسرے سے شدید فاصلے کے حامل بھی تھے۔ مختصراً عرض ہے کہ ہم نے بنام’’ شعر چیزے ۔۔۔‘‘ کے نام سے ایک بیاض کے اوراق سیاہ کرنے شروع کیے۔’’ یوم عالمی شاعری‘‘ کے موقع پر اس بیاض کے چند اوراق سے آپ کے ذوق کے ضیافت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ممبئی کے ترقی پسندوں میں ایک شاعر گزرے ہیں مظفر شاہجہانپوری، اپنےزمانے میں مرحوم خاصے مقبول بھی تھے اور آج بھی پرانوں میں گاہے گاہے بعض ایسے باذوق مل جاتے ہیں جن کی زبان سے ان کے شعر سنے جاتے ہیں۔
انہی موصوف کی ایک غزل مشاعروں میں بہت پسند کی جاتی تھی جس کا مطلع اور ایک شعر خاصا مشہور بھی ہوا اور ہم جیسے نجانے کتنوں کے ذہن میں جگہ بھی بنا لی، پہلے تو اس غزل کا مطلع پیش ہے:
قبلِ آغاز ہی انجام کا ڈر ہوتا ہے
دور اندیش بڑا تنگ نظر ہوتا ہے
اب اس غزل کا وہ شعر دیکھیں جس پر اُس زمانے میں مظفر مرحوم مشاعرہ لوٹ لیتے تھے،جو یوں ہے:
ہجر کی سینکڑوں راتوں سے بھی اتنا نہ ہوا
چار فاقوں سےبُرا جتنا اثر ہوتا ہے
یہ شعر ہمارے حافظے میں کم و بیش نصف صدی سے اپنے تاثر کے ساتھ ہجر کی راتوں کا مذاق اُڑا رہا ہے۔
دُنیا میں تغیر و تبدل کا جو نظام ہے وہ عجب ہے۔ جو چیز آج بہت مقبول و پسندیدہ ہے نجانےکس وقت کیا چیز اسے مردود و متروک یا پھر اس کی حیثیت پر ضرب لگا دے۔ مظفر شاہجہانپوری کے اس شعر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مظفر صاحب کے انتقال کو تین دہے سے زاید مدت گزر رہی ہے۔ ان تین دہوں میں دُنیا نے کس کس شعبے میں کیسے رنگ بدلے اور کس کس طرح سے ہر نیا اپنے آپ میں پرانا ہو گیا بلکہ متروک بھی۔
مظفر صاحب کا زمانہ1970 سے قبل کا ہے۔ دوسری جنگ (بد ترین) عظیم کے بعد کا دور کس قدر کشمکش اور دشواریوں سے عبارت ہےجو ہر سنجیدہ فرد کے ذہن میں ہے اور روایتی شاعری اور ترقی پسند شاعری کا ٹکراؤ کا وہ زمانہ اپنے آپ میں ایک تاریخ سے کم نہیں کہ انسان کو اپنی ذات اور اپنا وجود بھی گراں گزر رہا تھا۔ وامق جون پوری کی نظم (بھوکا ہے بنگال رے بابا بھوکا ہے بنگال ) بھی اِس وقت ذہن میں گونج رہی ہے۔ ایسے زمانے میں ہجر و وصال کے قصے یا اُن کی روداد کی معنویت کیسے کنارے لگی ہوگی یہ کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔
وہ جو اقبالؔ نے کہا تھا کہ ’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘ تو جناب! ترقی پسند تحریک کا زور بھی ٹوٹا اور پھر اُفُق ِ ادب پر جدیدیت کے سیاہ بادل چھائے اوررِم جھم ہی نہیں بادل ایسے ٹوٹ کے برسے کہ بہت کچھ بہہ گیا۔
مظفر شاہجہانپوری کے بعد ایک نہیں شعرا کی دوسری نسل میں بھی کئی نوجوان اُبھرے اور انہوں نے اپنے پیش رَو بزرگوں سے آگے سفر کیا:
مظفر صاحب کے درج بالاشعر پر ایک نظر اور ڈالیے
(ہجر کی سینکڑوں راتوں سے بھی اتنا نہ ہوا* چار فاقوں سےبُرا جتنا اثر ہوتا ہے)
اور پھر ایک نوجوان کا شعر سنیے جس میں شعری محاسن کس درجہ جلوہ بن گئے ہیں:
بھوک میں عشق کی تہذیب بھی مَر جاتی ہے
چاند آکاش پَہ تھالی کی طرح لگتا ہے
شکیل اعظمی اپنی طبعی عمر میں مظفر مرحوم سے کہیں چھوٹے ہیں مگر ان کے اِس شعر نے جیسے جیٹ کے سفر کےذریعے انھیں شعریت کی ایسی منزلِ مقبولیت پر پہنچا دیا کہ جہاں سے ہم مظفر صاحب کے شعر کی طرف سے جب نظر کرتے ہیں تو مطلع صاف نظر آتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے تغیرات زمانے کا ذکر کیا تو دیکھیے اس’’تغیر‘‘ کو بھی ہمارے شعرانے کس کس انداز سے کہا اور ایک دوسرے سے مختلف بھی اور کہیں کہیں توارد کی گرد سے بھی وہ بچ نہیں سکے۔
ہم یہاں مقدم و مؤخر یا تقدیم و تاخیر کا لحاظ رکھتے ہوئے شعرا کے شعر نقل کر رہے ہیں۔
صبا اکبر آبادی فرماگئے ہیں:
لیل و نہار میں نہیں رہتا کسی کا ساتھ
اک دن بھی دھوپ نے نہ دیا چاندنی کا ساتھ
تو اُسی دور میں اقبال عظیم ایک کلیے کی کس طرح نفی کر گئےہیں:
پرانی باتوں کاکیا ذکر اس زمانے میں
اندھیرا اَب نہیں ہوتا کہیں چراغ تلے
اب آئیے دورِحاضر میں ہمارے ہم پیشہ شکیل حسن شمسی نے اسی موضوع کو کتنی سادگی اور سلاست کے ساتھ بیان کیا ہے:
نئے زمانے نے کہنہ روایتیں بدلیں
کہ اب چراغ کے نیچے کہاں اندھیرا ہے؟
!
گجرات میں ہمارے محسن بزرگ خلش بڑودوی گزرے ہیں،ہر چند کہ وہ جس زمانے اور شاعری کے جس عام ڈھرے سے تعلق رکھتے تھے اُس پر زمانہ’’ روایتی‘‘ کا لیبل لگا سکتا ہے مگر شاعر کے ہاں چشم بینا ہوتو وہ چاہے روایت کا پاس دار ہو یا جدت کاعَلَم بردار ، اس کے ہاں یہ روشنی مدھّم نہیں پڑتی۔
آزادی کے بعد ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ ظلم و جبر کا رویہ عام رہا اس کی ایک تاریخ ہے اور پھر ظلمت کا یہ عمل اب تک کہیں ٹھیرا نہیں بلکہ وقفے وقفے سےاس نے ایسے ایسے مناظر دِکھائے ہیں کہ حساس مزاج ابن ِ آدم تا عمر نہیں بھولے گا۔فسادات کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے بیشمار شعرا نے اس کرب ناک مسئلے کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور مشاعروں میں اپنی ساکھ بنائی، داد پائی اور پھر وقت کی بیداد کی دُھند میں گم ہو گئے لیکن جو واقعے کو فکر کی اگنی میں تپانا جانتے ہیں اورانہوں نے اس کرب کو بھی’’شعر ‘‘ کی قبا ئے لا زوال دینے کی کوشش کی، بزرگوارخلش بڑودوی سورت(گجرات)کے ایک مشاعرے میں غزل پڑھ ر ہے تھے ، وہ بیباکی کا ہمارا زمانہ تھا۔ خلش صاحب جب اپنے اس شعر پر پہنچے تو ہماری داد نے خرد و بزرگی کی حدیں تمام کر دیں ،ہماری زبان سے بآوازِ بلند اور بیساختہ نکلا کہ ’’خلش صاحب! آپ نے تو ہمارا شعر کہہ دیا‘‘(یعنی جو ہمیں کہنا چاہیے تھا وہ آپ نے کہہ دیا) خلش صاحب بزرگی کے زَعم سے مُبرّا شخص تھے انہوں نے ہمارے اس جملے پر مائیک سے اپنا چہرہ ہماری طرف گھمایا ضرور مگر اس میں ان کی بزرگی ہم پر تبسم فرما رہی تھی ہم نے اپنے معمر شعرا میں ایسی بزرگی کم کم دیکھی ہے، خلش صاحب کا وہ شعر ہے:
کرفیو بن کے فسادوں میں نظر آتا ہوں
کسی صحرا کا نہیں شہر کا سنّاٹا ہوں
اس شعر کو سنے ہوئے بھی چالیس برس تو گزر گئے ہونگے مگر اب تک یہ باسی نہیں ہوا۔ علامہ آرزو لکھنوی کے شاگردِ رشید پرتَو لکھنوی کہتے تھے کہ میاں! حالات پر شعر ضرور کہیے اور کہنا بھی چاہیے مگر وہ خبر نہ بنے اسے روحِ شعری دینے کی کوشش کیجیے ورنہ ایک خاص واقعہ بھی حالات کے ساتھ باسی ہو جائے گا ۔ اس فارمولے کی روشنی میں خلش مرحوم کا شعر خبر نہیں بلکہ اپنی لفظیات کی جدّت کے باوصف’’ شعر‘‘ ہی محسوس ہوتا ہے اس کے برعکس ہمارے مشاعروں کے ہیروز نے تو اپنی شاعری میں خوب خوب ’’فساد‘‘ برپا کیا اور ہلکے ذوق کے حامل عوام و خواص سے دادو دہش کی’ راحت‘ حاصل کی مگر وقت کے ساتھ یہ راحت کافور بھی ہوتی رہی۔
عمر میں ہم سے کچھ کم یا یوں کہاں جائے کہ ہمارے بعد آنے والوں میں بھی تازہ فکر و اظہار کے حامل شاعر سامنے آئے اور انہوں نے ہمارے قلب و ذہن میں اپنی جگہ بنائی ، خلش صاحب کے شعر میں کلیدی موضوع۔۔’ سناٹا‘۔۔ ہے اب ہم بھیونڈی کے اختر جمال کا ایک شعر یہاں نقل کرتے ہیں جس میں انہوں نے بھی سناٹے ہی کو اپنے شعر میں استعمال کیا اور خاص بات یہ ہے کہ دونوں مصرعوں میں یہ’ لفظ‘ تو کہیں نہیں مگراپنے اسرار کے ساتھ ہر پڑھنے والےکو ۔۔۔’سناٹا‘۔۔۔محسوس ہوگا:
بھیڑ جب کوچۂ و بازار کی چَھٹ جاتی ہے
رات بچّےکے طرح مجھ سے لپٹ جاتی ہے
افسوس، اختر جمال کو کورونا جیسے مہیب سناٹے نے نگل لیا مگر اس شعر کی صورت آج بھی وہ اپنا جمال بر قرار رکھے ہوئے ہیں۔
اُردو زبان میں ایک لفظ ہے۔۔۔ ’’بھرم‘‘۔۔۔ شاعری بھی عجب فن ہے اس میں بہت بڑے بڑے لوگ بھی وقتی طور پر تو ضرور اپنا بھرم بنائے رہے مگر وقت کے تغیر نے کب اُن کے بھرم کی چادر کھینچ لی، پتہ بھی نہیں چلا لیکن ایسے بھی ہیں جو صحیح طور پر معروف تو نہیں ہوئے مگر اپنے افکار و اظہار میں اس قدر توانا تھے کہ جب بھی ان کا فن پارہ سامنے آئے گا وہ پڑھنے والےسےاپنا حق وصول کر لے گا۔ نقی بنارسی بھی اسی قبیل کے ایک شاعر گزرے ہیں ،جو فرما گئے ہیں :
مفلسی کا اپنی ہم نے رکھا اس طرح بھرم
رابطے کم کر لیے، مغرور کہلانےلگے
ہم نے ایسے بھی شاعر دیکھے ہیں جو معروف بھی ہوئے اور مقبول بھی مگر وقت کی گرد کس کو کہاں چھپا لے گی کچھ کہا نہیں جاسکتا مگر ’فن‘ اپنے اندرون میں اگر اعجاز رکھتا ہے تو یہ گرد بھی کسی وقت اُڑ ہی جاتی ہے۔ خورشید افسر بسوانی کی شہرت بھی ہم نے دیکھی ہے اور ان کی عزت و احترام کی دھوپ کی شدت بھی ہم نے محسوس کی مگر یقین ہے کہ آج ہمارے نوعمر شعرا میں شاید ہی کوئی ہو جو انھیں جانتا ہو مگر ہمیں یہ کہتے ہوئے کوئی عار نہیں کہ ان کا یہ شعر کوئی پڑھے اور اس کی تاثیر سے بچ جائے محال ہے، زبان سےواہ نہ سہی مگر اندرون میں آہ ضرور اُبھرے گی:
جو تم کو ضد ہے تو آگے تمہیں نکل جاؤ
ہم اپنے پاؤں میں کانٹا کوئی چبھو لیں گے
شاعر نےاس شعر میں ایثار کا بھرم کس انداز سے مخفی کر دیا ہے جو محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ شفیق جونپوری بھی اپنے دور کے اساتذہ میں ایک مقام رکھتے تھے ، انہوں نے اپنے بھرم کو دشمن کے حق میں کس سلیقے سے دعا بنا دیا ہے ، دراصل بزرگی کا عمر سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں یہ تو آپکے عمل سے نصیب ہوتی ہے۔ دیکھیے شفیق صاحب نے اپنی بزرگی کو شکوہ نہیں بلکہ شکر کی ایک منزل عطا کر دی ہے:
ہم نے کبھی شکوہ، نہ کیا ہے نہ کریں گے
وہ خوش رہے جس نے ہمیں برباد کیا ہے
آدمی کی روح جب جسم سے رخصت ہوتی ہے تو وہیں اس کا تمام تر تشخص بھی رخصت نہیں بلکہ ہَوا ہو جاتا ہے وہ صرف ’’ لاش‘‘ رہ جاتا ہے۔ اس لاش کو ہمارے شعرا نے کس کس طرح سے اپنے شعر کا موضوع بنایا ہے اور کون کون کس سے آگے نکل گیا ،ہم یہ پڑھنے والے پر چھوڑتے ہیں:
فیصل عجمی کا کہنا ہے :
واقعہ یہ ہے کہ سَو بار ڈبویا اُس نے
معجزہ یہ ہے کہ ہر بار اُبھر آیا مَیں
فرزندِ جلیل مانک پوری یعنی علی جلیلی نے یوں مُطّلع کیا:
کہو اُن سے کہ زندہ ہوں ابھی مَیں
جو میری لاش کو دفنا چکے ہیں۔
عرشی جونپوری کا تفکر بھی سننے جیسا ہے:
ڈبونے والے مجھے، مطمئن ہوئے کہ نہیں!
یہ فکر تھی کہ مِری لاش کو اُبھرنا پڑا
ہمارے ہم وطن جنید صدیقی مرحوم بھی کس کس کو حیران و پریشان کر گئے ہیں:
لاش اُبھری تو کئی نام لکھے تھے اُس پر
سخت حیراں ہوئے مجھ کو ڈبونے والے
اب دیکھیے اس شعر میں اکبر آباد کے صباؔ، دریا کی غیرت کو کیسے واضح کر ر ہے ہیں:
خاک کو غیرتِ دریا نہیں کرتی ہے قبول
ڈوبنے والے کی ہر لاش اُبھر آتی ہے
لیکن اکبر آباد ہی کے نظیر ؔنے ایک لفظ ’محبت‘ سے کیسے فائدہ اُٹھا لیا یہ بھی ایک مثال بن گیا ہے :
غرقِ دریائے محبت کی نہیں ملتی لاش
ورنہ ڈوبا ہوا نکلے ہے سنا تیسرے دن
مخدومِ صابر کلیری کے مرید خواجہ شمس الدین نے اپنے مرشد سے حیات و موت کے فلسفے پر سوال کیا تھا، مرشد نے اُس وقت تو خموشی اختیار کی مگر جب وقت آیا تو موت کی حقیقت اور زندگی کا جلوہ شمس الدین کو دِکھا کر پردہ اختیار کر لیا تھا۔ جن کے ذہن میں یہ روایت تازہ ہوگی وہ اس شعرِ ندیم میں تلمیہ کا لطف ضرور لے گا :
جس روز میری لاش اٹھی،اتفاق سے
اُس روز مَیں بھی اپنے تماشائیوں میں تھا
ہمارے بزرگ رفیق کار ایم اے تشنہ بھی اپنے اس شعر کے ساتھ سامنے آتے ہیں:
بھنور میں جس نے مجھے ڈوبتے ہوئے دیکھا
وہ موج آج بھی ساحل پَہ سَر پٹختی ہے
اور چچا اسد اللہ خاں غالبؔ نے اپنے حق میں کیسا آوازۂ دعا بلند کیا کہ جو، اب ایک زندہ محاورہ بن گیا ہے:
یہ نعش ِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
ہَوَس بھی ہم پر بُری طرح اپنا وار کرتی ہے اور کبھی تو ایسے کام کر جاتی ہے کہ ہمیں خود پتہ نہیں چلتا کہ ہم کب اس کی زد میں آگئے:
فضیل جعفری نے یوں اقرار کیا ہے:
دل سے اب بھی آرزوئے پیش و پس جاتی نہیں
عمر اتنی ہوگئی لیکن ہَوَس جاتی نہیں۔
یقین ہے کہ افتخار عارف تک فضیل جعفری کا یہ مطلع پہنچا ہی نہ ہوگا مگر یہ مضمون کس شدت سے ان کے ہاں ٹکرایا ہے۔
!!:
آرزوؤں کا ہجوم اور یہ ڈھلتی ہوئی عمر
سانس اُکھڑتی ہے نہ زنجیرِ ہَوَس ٹوٹتی ہے
ہمارے باوا( جنابِ جمیل مُرصّع پوری) سے روایت ہے کہ ممبئی میں کہیں خصوصی (شعری) نشست تھی جس میں شہر کے ممتاز شعرا اور سخن فہم جمع تھے اور نِشست کے مہمانِ خاص تھے حضرت ِجگر مراد آبادی۔
جگر صاحب نے غزل شروع کی اور اس شعر پر جب پہنچے:
آجاؤ کہ اب خَلوتِ غم ، خَلوتِ غم ہے
اب دل کے دھڑکنے کی بھی آواز نہیں ہے
تو انہی جمیل مہدی نے جگر صاحب کو مخاطب کر کے کہا: ’’یہ تو آپ سے پہلے خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کہہ گئے ہیں‘‘ اور انہوں نے مجذوبؔ کا وہ مشہور شعر پڑھ دِیا:
ہر تمنا دل سے رُخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خَلوت ہو گئی
راوی کا بیان ہے کہ جگر صاحب نے محفل میں پھر وہ شعرنہیں پڑھا ۔
ممبئی میں انجم رومانی ایک ممتازشاعر گزرے ہیں چونکہ ان کا صحافت سے تعلق رہا تو ان کی شہرت بھی تھی مرحوم کا مجموعۂ کلام’روشنی بے چراغ راتوں کی‘ شائع ہو چکا ہے۔ انجم رومانی نے اپنی اہلیہ کے انتقال پرجو شعرکہا تھاوہ اس وقت ہمیں یاد آرہا ہے:
ایک آنسو مِری آنکھوں سے نہ ٹپکا لیکن
گھر کی ہر چیز سے رونے کی صدا آتی ہے
ہم نے جب انجم رومانی کا یہ شعر اپنے جانی دوست شاہد ندیم کو یہ کہہ کر سنایا کہ شعر کا خیال تو خوب ہےمگر شاعر اظہار میں چوٗک گیا۔ شاہد ندیم نے کہا کہ وہ کیسے ؟
ہم نے وضاحت کی کہ اس بیان سے تو لگتا ہے بیلن، چِمٹا، چولہا، پتیلی، اور پتیلہ غرض ہر شے مرحومہ کے غم میں اشکبار ہے اور وہ جو روتے ہوئے پیدا ہوا یعنی ہنسنا رونا انسان ہی سے عبارت ہے مگر وہی اپنی رفیقِ حیات کی رِحلت پر نہیں رویا، تو پتہ چلا کہ شاعرکس درجےسنگ دِل واقع ہوا ہے کہ مرنے والی کے گھر کی ایک ایک چیز سوگوار ہے اور جس کا رونا عجب نہیں وہی ایک اشک نہ بہا سکا، شاہد ندیم کہنے لگے کہنا کیا چاہتے ہو ؟ہم نے کہا: مصرع یوں ہوتا تو بات بن جاتی:
ایک آنسو میری آنکھوں سے نہ ٹپکا، لیکن
دل کے ہر گوشے سے رونے کی صدا آتی ہے
شاہد ندیم کہنے لگے کہ ندیم! تمہارے’’دل کے ہر گوشے‘‘ کے ٹکڑے نے تو شعر کا سارا حُسن ہی غارت کر دِیا وہی روایتی ڈھرّا، ارے بھائی۔۔۔گھر کی ہر چیز سے ۔۔۔ کہہ کر شاعر نے جو جدّت پیدا کرنے کی سعیِ بلیغ کی ہے اسے بھی توسمجھو !۔۔۔ ہم نے کہا: چلئے ’’۔۔۔گھر کی ہر چیز ۔۔۔‘‘ رکھتے ہیں، مگر اب پہلا مصرع یوں کر لیا جائے۔۔۔!
اس کی رخصت سے عجب غم کی فضا ہے یارو!
گھر کی ہر چیز سے رونے کی صدا آتی ہے
شاہد ندیمؔ نے اپنے روایتی تیکھے تبسم کے ساتھ ایک خموشی اختیار کرلی۔
ہم جیسےکم فہم اپنے حرف و خیال کو ’ آخر‘ سمجھ لیتے ہیں، جبکہ قلب و نظر میں وُسعت ہو تو نہ کوئی حرف، حرفِ آخر ہے اور نہ ہی کوئی آخری خیال۔انجم رومانی کا مذکورہ شعر اور اُس پر ہماری گفتگو اُس وقت کافور ہوگئی، جب اِسی موضوع اور اسی سچویشن پر ساؔقی فاروقی کا یہ شعر نظر سے گزرا:
رونا تھا بہت لیکن اشکوں کے لیے ترسے
آج اپنی محبت بھی نادار نظر آئی۔
سچ ہے ’ شعر چیزے دیگر است‘۔۔۔ ساؔقی کے شعر کو پڑھے ہوئے ایک مدت گزر رہی ہے مگر اس کے تاثر و تاثیر نے اب تک قلب و ذہن کو گرفت میں لے رکھا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ایک سچّی بات ہم سے کہلوا لی:
شاعری کرنا بہت آسان ہے
شعر کہنے کو زمانہ چاہیے













