Published on: 27 May 2017
سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں چند دنوں پہلے 56 مسلمان ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی گئی جس میں سنا ہے کہ کچھ ملک شریک نہیں ہوئے، مگر رواداری اپنی جگہ تعداد پھر بھی چھپن ہی رہی ؟جس میں اصل مقصد تو یہ معلوم ہو تا تھا کہ سپر پاور کے صدر کو یہ باورکر ایا جائے کہ ہم ان سب کے نما ئندے ہیں لہذا ہم ہی عالمِ اسلام کے واحد لیڈر ہیں۔ لیکن ہم نے ایک عالم کی بات مان لی ہے جو بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان کا حصہ ہونا چاہیئے تھی مگر بقیہ اسلام کی طر ہم بھولے ہوئے تھے! جس کا ذکر ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی کیا تھا کیونکہ اس میں انہوں نے تمام مسلمانوں کو یہ تلقین فرما ئی تھی کہ “ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ حسن ظن رکھو “ لہذا اس کا خیال رکھتے ہوئے ہم اس کا مقصد وہی سمجھ رہے ہیں جوکہ سب کو بتایا گیا ہے؟ کہ “ یہ بین الاقوامی مسلم اتحاد کی طرف پہلا مثبت قدم ہے شدت پسندی کے خلاف “جبکہ یہ پہلا نہیں ہے اگر ہماری یاد داشت ہمیں دھوکا نہیں دے رہی ہے تو یہ تیسرا ہے پہلا رابطہ عالم اسلامی ااور دوسری اسلامی کانفرنس تھی شدت پسندی کا تدارک ان میں شامل نہ تھا کہ یہ اسوقت تک پہل نہیں لائی تھی ۔ دوسرافرق یہ ہےکہ ان دوکے مرکزی دفتر مکہ معظمہ یا اس کے اطراف میں تھے اور اس کا مرکزریاض میں ہے؟ ممکن ہے کہ یہ کتابت کی غلطی رہی ہو؟ چونکہ حسن ظن کا تقاضہ یہ ہی ہے کہ اپنے آدمیوں کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے! رہی تو بہ کوئی جلدکرلے یا دیرمیں کرے اس کو ہمارے یہاں سراہانے کا حکم ہے اور اس کے بچھلی لغزشیں با لکل بھول جانے اور اسے یاد نہ دلانے کا حکم بھی ہے، پھر یہ بھی ہے کہ کسی کابوجھ قیامت کے دن کوئی اور نہیں اٹھائے گا؟ لہذا ہم اس کاوش پر ان تمام محرکین کو مبارکباد پیش کر تے ہیں کہ انہوں نے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی بد امنی کو روکنے کی کوشش تو کی یہ اور بات ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے اس کامرکز ریاض میں حفظمااتقدم کے طور پر رکھا ؟ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ا س لیئے وہاں نہیں رکھا گیا کہ وہاں صدرٹرمپ نہیں جا سکتے تھے ،تو ان وہ دکھاتے کیسے؟ جبکہ شرکا ءکی صرف تعداد دکھانا مقصود تھی وہاں سب سے تقریر کروانا نہیں ۔ اب جو وہاں گئے تھے یہ ان کے سوچنے کی بات تھی کہ اگر انتظامیہ چھپن مہمان مقررین کو بولنے کا موقعہ دیتی وراگر وہ ایک ایک منٹ بھی لیتے تو چھپن منٹ درکار ہو تے۔ اور اگر دس دس منٹ لیتے تو 560 منٹ بنتے ؟اب آپ اس سے گھنٹے خود بنا لیجئے ؟ اگر وہاں کے باشندوں کے سونے اور اٹھنے کا نظام الا وقات دیکھیں لیں اور پھر اس میں قیلولے کاوقت بھی نکال دیں تو بھی کانفرنس کم از کم ہفتہ بھر کی ہو تی ،تو اس میں سب بول سکتے تھے؟ اور لاکھ دوستی سہی ٹرمپ صاحب انہیں اتنا وقت نہیں دے سکتے تھے کیونکہ وہ دنیا کے مصروف ترین آدمی ہیں۔ رہی یہ بات کہ مہمانوںکو غلط فہمی کیوں پیدا ہوئی؟ یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح کے ہمارے تمام لیڈر عوام کو جمع کرنے کے لیے اعلان کرتے رہتے ہیں کہ میں اس جلسے میں بہت اہم اعلان کرنے والا ہوں۔ مگر ہوتی سو دفعہ کی دہرائی باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے اسی طرح اگر مسلمانوں کے سب سے مقدس ملک کے رہنما نے یہ کہہ بھی دیاہوکہ اس میں سب بولیں گے اور سب سے صدر ٹرمپ مصافحہ بھی کریں گے؟ تو کونسا غضب ہو گیا؟ یہ ہی کھیل ایک آدھ کوچھوڑ کر سارے حکمراں روز ہی کھیلتے ہیں اگر ایک مرتبہ ان سب کے بڑے نے ان کے ساتھ کھیل لیاتو کیا ہوا؟ وہ تو پہلے ہی سے بزرگ ہیں جبکہ اوروں کی عمر پڑی ہے انہیں پھر بھی موقعہ ملے گا صدور کی قدم بوسی کا؟ اس پر سب سے زیادہ لب کشائی پاکستان میں ہو ئی! کہ اسلامی ایٹمک پاور کے حامل ملک کے سربراہ کو بولنے کا موقعہ نہیں ملا ؟ یہ جبکہ ہمارے خیال پاکستان کا یہ گلہ بیجا تھا؟ کیونکہ وہ اس پر اعتراض کرتے ہوئے بھول گئے کہ انکے وزیراعظم صرف انہیں کے تو ہی نہیں ہیں کیونکہ ان کے تین ملکوں میں گھر اور بال بچے ہیں ان میں سے سعودی عرب ان کا محسن بھی ہے، جبکہ دوسرے دو برطانیہ اورپاکستان ہیں ؟ چونکہ ان کی حیثیت اس وجہ سے خود میزبان کی سی تھی؟ اسی لیےشاید انہوں نے برا نہیں مانا جس کی وضاحت پاکستان کے دفتر خارجہ نے بعد میں کر بھی دی کہ وہاں بیس ملکوں کے سربراہان بولے، پھر وقت ہی نہیں بچا؟ وہ کون سے ملک تھے اور کتنے بڑے تھے جو پاکستان پر سبقت لے گئے اسے جانے دیجئے؟ یقیقناً وہ مہمان ہونگے اور انہیں شرف ِ میزبانی حاصل نہ ہوگا،اور یہ کلیہ ہے کہ میزبان پہلے اپنے مہمانوں کو ترجیح دیتے ہیں ممکن ہے کہ خود جناب نواز شریف صاحب نے اپنی باری رضاکارانہ طور پر چھوڑ دی ہو؟ چونکہ صاحبِ معاملہ وہ ہیں اس لیے وہی اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں ؟
مگر یہ ماننا پڑے گا کہ پوری دنیا کے کیمرے جناب ٹرمپ اور ان کی فیملی پر مرکوز تھے۔ اور ہاتھ جھٹکنے تک کی تصویر کشی ہو ئی۔ اور پھر موزانہ بھی بی بی سی سے سننے کو ملا کہ سعودی عرب جہاں سخت پردے کا رواج ہے اور روایت یہ رہی ہے کہ جو بھی مہمان خاتون بلا تفریقِ مذہب اور ملت وہاں تشریف لائیں تو ان کے سر ڈھکے ہوئے نظر آنے چاہیئے؟ مگر یہ پہلا خاندان تھا جو اس سے مستثنیٰ تھا؟ پھرانہوں نے وٹیکن کی مقدس سٹی میں جناب ِ پوپ کے سامنے ان کی با ریابی بھی دکھائی جہاں پر ان ہی خواتین کے سر ڈھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ہمارے ایک دانشور دوست کا کہنا یہ ہے کہ پوپ کا تو احترام تمام دنیا مقدس ہستی کے طور پر کرتی ہے لہذا ان کے سامنے سب آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں؟ جبکہ بقیہ لوگوں کے لیے جو پبلک لائف میں ہیں اپنی عزت خود کرانا پڑتی ہے؟ یہ ان کی رائے ہے وہ جانیں؟۔ ویسے اس دورے کی اہمیت بہت یوں تھی کیونکہ ٹرمپ صاحب کا یہ پہلا عالمی دورہ تھا ۔
اب ہم وہاں چلتے ہیں جہاں کہ سربراہان ِ مملکت کا جم ِ غفیر تھا؟ اگر ہماری تحریر وہاں تک پہونچ سکے، تو ہم اس کے دفتر میں یہ ایک تجویز پیش کریں گے کہ یہ نوزائیدہ ادارہ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ شدت پسندی کے بت کو دوبارہ زندہ کرنے کا سہرا کس کے سر ہے جو کہ ہلا کواور چنگیز خان نے کئی سو صدیاں پہلے دفن کردیا تھا۔ اس سے ان بزرگوں تک پہونچنے میں مدد ملے گی کہ وہ کون لوگ تھے! جنہوں نے دوبارہ اسے زندہ کیا اور نفرتوں کے ایسے بیج بوئے کہ جس سے چاروں طرف نفرتوں کی آگ بھڑک اٹھی اور بعد میں اس نے ساری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے لیا؟ جبکہ یہ ایک آدمی کام نہیں ہوسکتا۔ اس فتنہ میں بہت سی مساجد، یونیورسٹیاں،مدارس اور ان کے مدرس اور پشت پر کسی مربی کی زر ِ کثیر سے مالی امداد کے بغیر اس کاحصول ناممکن تھا؟
اگر وہ تحقیقاتی کمیٹی اس کوشش میں کامیاب ہو گئی تو اس فتنہ کو جنم دینے والوں تک رسائی ہو جا ئیگی۔ اور جب مرض کی تشخیص ہوجا ئے تو اس کا علااج بھی آسان ہوجاتا ہے؟ ورنہ یہ ہی سمجھا جائے گا کہ یہ کاوش صرف ایک ملک کے خلاف تھی جس کا نام “مہمان نے بھی لیا اور میزبان نے بھی“ جو بقول ان کے عالم اسلام میں وجہ انتشار ہے؟ اور اس کے نتیجہ میں دنیا مزید انتشار کا تو شکار ہوسکتی ہے مگر اس سے امن کی بھی کوئی صورت نکلے گی؟ یہ اپنی سمجھ سے تو باہر ہے؟ جب ہماری سمجھ میں خود ہی نہیں آیا تو سمجھا ئیں کیا ؟
کل سے ہم اس مقدس مہینے میں داخل ہو رہے ہیں؟ جس کے بارے میں حضور (ص) نے فرمایا کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ نجات ہے۔ اس لیے ہمارے اگلے کام اسی پر انشا اللہ ہونگے؟ کیونکہ اس مہینے میں نیکی جزا بغیرِحساب ہے، جس کی مقدار اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے یا پھر ان بندوں کے جو اس کا اہتمام کر رہے ہیں ؟ کیونکہ جزا کا انحصار اس پر ہے کہ وہ مال حرام ہے یا حلال جو اس ماہ میں متفرق شقوں میں صرف کیا؟ پھر دوسری شرط یہ ہے کہ وہ صرف خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے کیا؟اور اس میں کوئی اور غرض تو شامل تو نہیں تھی۔ مثلا ً دکھاوا یااللہ کے سوا کسی اور کی خوشنودی حاصل کر نا۔ اگر آپ نے یہ ساری احتیاط مد ِنظر رکھی تو یقیقناً کامیابی آپ کے قدم چومے گی اور یہ رمضان اگلے سال کے رمضانوں تک کفالت کر یں گے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے ۔(آمین)













