حضورﷺ نے حج کیسے ادا فرمایا۔ شمس جیلانی

0
1113

حضورﷺ نے حج کیسے ادا فرمایا۔ شمس جیلانی
قارئینِ گرامی۔ہم سے اکثر لوگ یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ حضورﷺ نے حج کس طرح ادا فرمایا۔ ہم یہاں ایک حدیث پیش کر رہےجو کہ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے جو حضورﷺ کے ہمراہ حج کے موقعہ پر موجود تھے۔وہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نو سال مدینہ میں تشریف فرمارہے مگر انہوں ﷺ نے حج نہیں فرمایا دسویں سال انہوں ﷺ نے حج کا قصد فرمایا اور اعلان فرمایا کہ جو میرے ﷺساتھ حج پر جانا چاہئیں وہ تیار ہو جائیں۔لہذا بہت سے لوگ جمع ہوگئے کیو نکہ ہر شخص ویسے ہی حج کرنا چاہتا تھا جیسے کہ حضو رﷺ کرنے والے تھے ( کیونکہ اتبا ع رسول ﷺ صحابہ کرام کی اولین تر جیح تھی) حضورﷺ نے 25 ذیعقد ہ کو ذو الخلیفہ کی طرف کو چ کر کے وہاں قیام فرمایا۔وہیں اسماءؓ بنت عمیس نے محمدؓ بن ابوبکرؓ کو جنم دیا۔انہوں ؓنے رسول اللہ ﷺکو پیغام بھیجا کہ اب میں کیا کروں؟ حضورﷺنے جواب میں کہلوا بھیجا کہ غسل کر کے لنگوٹ کس کر باند ھ لیں ( یہ نذیر تھی جس سے یہ بات واضح ہو ئی کہ نفاس کی حالت میں بھی خواتین حج پر جاسکتی ہیں)پھر رسولﷺ اللہ روانہ ہو ئے اور بلند آوازسے تکبیر کہی: لبیک الھم لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمتہ والملک لا شریک لک اور ہم نے بھی انﷺ کے اتبا ع میں اسی طرح تلبیہ کہی لوگ المعارج اور اسی قسم کا دوسراکلام بھی پڑھ رہے تھے جس پر حضورﷺ نے تعرض نہیں فر مایا۔میں نے حد ِ نظر تک دیکھا تو چاروں طرف آدمی ہی آدمی تھا۔ رسول ا للہﷺ کے دائیں،با ئیں آگے پیچھے سوار اور پیادہ دیکھے۔وہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ ہمارے درمیا ن چل رہے تھے اسوقت بھی ان کے اوپر وحی نازل ہو رہی تھی اور وہ اسی کے مطابق عمل فر مارہے تھے لہذا جیسا وہﷺ کر تے ہم بھی کر تے جا رہے تھے۔جب ہم کعبہ میں داخل ہو ئے تورسول اللہ ﷺنے حجر اسود کو بوسہ دیا(پھر کعبہ کا طواف شروع فرمایا) اور تین چکر تیز تیز چل کر مکمل فر مائے اور چار چکر عام رفتار سے چل کر۔جب آپﷺ نے طواف مکمل فرمایا لیا تو آپﷺ مقام ِ ابرا ہیم ؑ پرتشریف لے گئے اور اس کی پشت پر دونفل (کھڑے ہوکر) پڑھے جس میں سورہ قل یاایہاالکافرون اور سورہ اخلاص تلاوت فرما ئی۔پھر آیت۔ وتخذو مقام ابراہیم مصلیٰ آخر تک تلاوت فرما ئی۔پھر حجر، اسود کو بوسہ دیا اور آپﷺ صفا کی طر ف تشریف لے گئے اور ان الصفا والمروۃ من شا ئر اللہ کی تلاوت فرما ئی،پھر فرمایا ﷺجس طر ح اللہ نے آغاز فرمایا ہم بھی اسی سے شروع کرتے ہیں (یعنی جس طرح اللہ نے آغاز آیت فرمایا ہے) پس آپ صفا پر چڑھ گئے اور جب آپ ﷺنے بیت اللہ کی طرف دیکھا توتکبیر کہی اورفرمایا لا الہ اللہ واحدہ لا شریک لہ لہ ملک ولہ الحمد و ھوا علیٰ کل، شئی قدیر۔۔۔ آخر تک پڑھی پھر یہ ہی دعاپڑھتے ہو ئے اترنا شروع فرمایا حتٰی کہ آپ ﷺکے جب قدم، مبارک زمین پرٹک گئے تو دوڑنا شروع کردیااور چڑھائی شروع ہو ئی تو آہستہ روی اختیار فرما ئی۔پھر بیت اللہ کو دیکھ کر (مروہ پر بھی) وہی فرمایا جو صفا پر فرمایاتھا اورسات چکر پورے کر کے فرمایا ﷺکہ اپنے معاملہ کو میں پہلے سے جانتا تو پیٹ نہ پھیرتااور اپنے ساتھ قر بانی کے جانور نہ لاتا تو اسے عمرہ بنا تا؟پس جس کے پاس قر بانی کا جانور نہ ہو وہ(ہمراہ نہ لایا ہو)وہ حلال ہو جا ئے اور اس کو عمرہ بنالے (یعنی حلق کرکے احرام کھولدے) لہذا جو لوگ قر بانی کے جانور لے کر نہیں چلے تھے وہ سب حلال ہو گئے۔حضرت سراقہ ؓ نے جو نشیب میں تھے مزید وضا حت چاہی کہ حضورﷺ یہ حکم آج کے لیئے ہے یا ہمیشہ کے لیئے؟تو رسولﷺ اللہ نے اپنی انگلیا ں تین مرتبہ آپس میں پیوست کر کے آسمان کی طرف بلند کر تے ہو ئے فرما یا کہ یہ قیامت تک کے لیئے ہے۔عمرہ حج میں شامل ہو گیا۔ درایں اثنا حضرت علی ؓ بھی یمن سے تشریف لے آئے اور جب انہوں ؓ نے حضرت فا طمہ الزہراؓ کو دیکھا کہ وہ حلال ہو گئیں ہیں (یعنی احرام کی پابندیوں سے باہر آگئیں)رنگدارکپڑے زیب ِ تن کیئے ہو ئے ہیں اور آنکھوں میں سرمہ لگا یاہوا ہے۔حضرت علیؐ نے اس بات پر برا منایا (شاید ایام جاہلیت میں ایسا نہیں ہو تا ہو گا) تو انہوں ؓ جواب دیا کہ اس بات کا حکم میرے والدﷺ نے دیا ہے۔اس پر وہ حضورﷺ کی خدمت ِ اقدس میں حا ضر ہو ئے اور تمام ماجرا بیان فرمایا۔حضورﷺ نے فرمایا ﷺاسؓ نے درست کہا۔پھر حضورﷺنے پوچھا تم نے کس پر تکبیر کہی تھی تو انہوں ؓ جواب دیا کہ میں نے کہا تھا کہ میں وہ تکبیر کہتا ہوں جو تیرے رسول ﷺ نے کہی تھی! اور میرے ساتھ قر بانی کے جانور بھی ہیں۔تو آپ نے فر مایا تم حلال نہ ہو نا۔حضرت علی ؓ جو جانور یمن سے لائے تھے اور جو رسول اللہﷺ کے ہمراہ تھے دونوں مل کر ایک سو بنتے تھے۔ لہذا مع حضورﷺ کے جو لوگ قربانی کے جانور ساتھ میں لائے تھے وہ احرام میں رہے حتٰی کہ یو م ِ ترویہ (۸ ذی الحجہ) آگیا تو حضورﷺ نے اپنی اونٹنی قصویٰ کو طلب فرمایا اور منیٰ کی طرف وہ ﷺسب کے ساتھ حج کی تکبیر کہہ کر روانہ ہو ئے۔ اور وہاں عصر،مغرب عشا اور فجر کی نماز پڑھی پھر تھوڑا توقف فرمایا اس کے بعد عرفہ کی طرف روانہ ہو ئے اور اپنا ﷺبالوں والا خیمہ نمرہ میں لگانے کا حکم دیا (جب کے پہلے قریش مسجدِ اشعر الحرام سے آگے نہیں جاتے تھے جبکہ رسول اللہﷺ وہاں سے گزر کر عرفہ میں قیام ﷺفرما ہو ئے۔ پھرعرفہ میں کھڑےﷺ ہوکر فرمایا کہ میں یہاں ﷺ کھڑا ہو ں اور یہ سب کا موقف ہے(کھڑے ہونے کی جگہ ہے)جب سورج ڈھل گیا تو قصویٰ کو پھر طلب فرمایا اور اس پر سوار ہو کر،وادی کے نشیب میں آکر خطاب فر مایااس خطاب کو خطبہ وداع بھی کہا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایاﷺ)۔ً تمہارے خون اور تمہارے اموال تم پراسی طرح حرام ہیں جیسے کہ تمہارا یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہیں۔مطلع ہو کہ جاہلیت کے خو ن بھی میرے پیر کے نیچے رکھے ہوئے ہیں اور میں اپنے خو نوں میں پہلا خو ن یعنی ابن ِ ربیع بن حارث کا خون ساقط کر تا ہوں جو بنی سعد میں دایہ ڈھو نڈنے گیا تھااور اس کو ہذیل نے قتل کر دیا تھا۔اور جاہلیت کے زمانے کا سود بھی ساقط ہے اور ہمارے خاندان کا پہلا سود عباسؓ بن عبد المطلب کا سود ہے جسے میں ﷺ مکمل طو ر پر ساقط کر تا ہوں۔اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے۔اور کلام الٰہی سے ان کی شرمگا ہوں کو حلال کیا ہے اور تمہارا ان پر حق ہے کہ جو چیز ناپسند کر تے ہو یعنی تمہارابستر کسی اور کو نہ پامال کر نے دیں۔ پس وہ اگر ایسا کریں تو ان کو ضرب لگا ؤ(مگر) سخت تکلیف دہ نہ ہواور انکا یہ تم پر حق ہے کہ تم مروجہ طریقہ کے مطابق ان کا نان اور نفقہ ادا کرواور میں تم میں اللہ کی کتاب چھو ڑ کر جا رہا ہوں۔جب تک تم اس پر قائم رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔اور تم سے میرے ﷺبارے میں پو چھا جا ئے گا کہ پس کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ابلاغ (پیغام پہنچانے) کا حق ادا کر دیااوﷺ خیر خواہی کر دی ہے۔ تب حضو رﷺ نے آسمان کی طر ف انگشت ِ شہادت اٹھاکر فرمایاﷺ اللہ تو گواہ رہنا ً پھراذان کہی پھر اقامت اور اس کے بعد ظہر کی نماز ادا کی گئی اس کے بعد اقامت کہی اور عصر کی نماز ادا فرما ئی اور ان دونوں نمازو ں کے درمیان اور کچھ نہ تھا (یعنی دعا سنت نوافل وغیرہ کچھ نہ تھا)پھر رسولﷺ اللہ سوار ہو ئے اور موقف پر تشریف لا ئے آپﷺ کی ناقہ قصویٰ کا پیٹ چٹان سے ٹکرانے لگا(غالبا ً زمیں کے نشیب و فراز کی وجہ سے)پھر اسوقت تک یہاں اس طرح قیام فرمایا کہ آپﷺ نے جبل ِ المشاۃ کو اپنے سامنے رکھااور قبلہ رخ رہے۔ کہ سورج غروب ہو گیااور کچھ زردی بھی چلی گئی حتیٰ کہ سورج کی ٹکیہ بھی غا ئب ہو گئی۔پھر آپ نےﷺ اسامہؓ بن زید ؓ کو قسویٰ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔اور قصویٰ کی مہار کو کھینچا یہاں تک کے اس کا سر آپ کی ٹانگوں سے ٹکرانے لگا۔(تیز چلنے کی وجہ سے)پھر آپﷺ اپنے یمین (داہنی طر ف و الوں سے فرمانے لگے کہ لوگوں سکون اختیار کرو اور جب آپ ﷺچڑھائی پر آتے تو اس کی مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ آسانی سے چڑھ سکے حتیٰ کہ آپﷺ مذلفہ میں پہو نچ گئے وہاں (بھی) ایک اذان اور دو اقامتوں سے مغرب اور عشا ادا فر مائی اور ان دونوں کے درمیان کو ئی تسبیح نہیں فرما ئی پھر رسول ﷺاللہ محو ِ استرا حت ہو گئے یہا ں تک کہ فجر نمایا ں ہو گئی۔پھر آپﷺ نے ایک اقا مت اور ایک اذان کے ساتھ فجر کی نمازادا فرمائی۔فرمایا جہاں میں نے توقف کیا یہ مزلفہ ہے اور سب کو یہا ں موقف کر نا ہے۔(باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY