اس آیت کو غیر ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے چھوڑ دو۔۔۔شمس جیلانی

0
844

کل ہم نے ایک مولوی صاحب کو سورہ النساء کی آیت نمبر 59 کا رخ ٹی وی اینکر کے کہنے پر موڑتے سنا تو ہمیں سخت پریشانی لا حق ہوگئی؟ کیونکہ غیر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیئے اگر کوئی سہارا ہے تو یہ ہی آیت فراہم کرتی ہے?اس لیئے کہ اس میں تین اتھاریٹیز ہیں اور اس کےعلاوہ پورے قرآن میں ہر جگہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کا ذکر ہے۔ مگر اس میں ا یک کا اضافہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کیوں؟ اس کا جواب صرف اسی کو معلوم تھا یا اس کے نبیﷺ کو معلم تھا لیکن انہوں نے ظاہر نہیں فرمایا ؟ اس ۤآیت کا یہ وہ جز ہے“ کہ تم میں سے جو صاحب ِ اختیار ہو ں تو وہ بھی تم پر اتھاریٹی ہیں اور ان کی بات بھی تمہیں ماننی پڑیگی بشرط ِ کہ وہ خلافِ قر آن اور سنت نہ ہو اگر وہ کوئی حکم قرآن اور سنت کے خلاف دیں تو اس کو اللہ اور رسولﷺ کی طرف لوٹا دو۔ یہ وہ آیت ہے جو کہ مسلمانوں کو کسی غیر اسلامی میں رہنے کا جواز پیش کرتی ہے؟ جس کے معنی اگر یہ لئیے جا ئیں کہ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں وہاں کی اتھاریٹی کوبھی آپ اتھاریٹی نہیں مانیں گے؟ تو پھر ایسا کونسا ملک ہے جو کہ آپ کو اپنے یہاں رہنے کی اس کے باوجود بھی اجازت دیدیگا؟۔ جبکہ ایسی کوئی آیت یا حدیث بھی موجود نہیں جو کہ اس کے متبادل ہو؟ اس کے علاوہ یہ ہی ایک آیت ہے جو کسی کا خاندان کا کوئی فرد اگر اسلام قبول کرلے تو پھر بھی وہ گھر کے اندر رہ سکتا ہے؟ کیونکہ اسلام حکم دیتا ہے کہ تم اپنے غیر مسلم باپ اور ماں کے ساتھ عزت کا بر تاؤکرو اور انکی نافرمانی نہ کرو۔ صرف یہ پبندی لگاتا ہے کہ اگر اسلام کے خلاف حکم دیں تو مت مانو ں؟ اور یہ ہی حکم وہ غیر اسلامی ملک کے سلسلہ میں دیتا ہے کہ اگر وہ تمہارے شرعی امور کی انجام دہی میں مزاہم ہوں“ تو اللہ کی زمین تنگ نہیں کسی ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں ایسی کوئی مشکل تمہاری وہاں کی رہائش میں حائل نہیں ہو “ لہزا اس فرد پر لازم ہوجا ئے گا کہ اگر گھر ایسا ہو تو اسے چھوڑ دے اور ملک ایسا ہو تو وہ ملک بھی چھوڑدے؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کسی بھی دوسرے ملک کے اچھے شہری نہیں بن سکیں گے؟ اس طرح یہ واحد آیت کسی غیر مسلم ملک میں رہنے کا مسلمانوں کو جواز پیدا کرتی ہے۔ کیونکہ آپ جہاں بھی جاتے ہیں وہا ں کی شہریت لینے کے بعد اس ملک میں اگر بادشاہت ہے تو ملکہ یا باد شاہ کی وفاداری کا حلف اٹھانا پڑتا ہے؟ جیسے کنیڈا اور برطانیہ ہیں۔ جن ملکو ں جمہوریت ہے وہا ں اس کے دستور سے وفاداری کا حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر وہ حلف ہی اٹھانے سے ہی انکار کردے تو وہ کسی دوسری ملک کا شہری کس طرح بن سکتا ہے؟ جبکہ یہ مسئلہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس وجہ سے اس کی اہمیت اور بڑھ گئی کہ حج الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے حکم بھی اپنی امت کو صادر فرمایا کہ تم تمام دنیا میں پھیل جا ؤ جو یہاں نہیں ہیں ان کو میرا پیغام پہنچادو اور جو تمہارے بعد آئیں وہ ان کو پہنچا دیں؟ اور صحابہ کرامؓ اولیائے عزامؒ کی اکثریت ساری دنیا میں پھیل گیئ کیونکہ اس زمانے میں اس قسم کے مسلمان موجود نہیں کہ شرعی احکام اس کان سے سنیں اور اس کان سے اڑادیں ؟لہذااسلام اس تیزی سے پہلا کہ کسی دوسرے دین کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ وہ اسلام کا معجزہ ہے جبکہ اور کسی مذہب میں ہر بندہ کو اپنے طور پر چلتے پھرتے سفیر کا فرض انجام دینے کا پابند کرتا ہے۔ اور ہمیشہ سے دنیا ان کے کرداراوراخلاق کو دیکھ کر غیر اسلامی ممالک میں وہاں کے باشندے اسلام لاتے رہے ہیں جب تک کے وہ اسلامی اخلاق کانمونہ پیش کرتےرہے۔ اور مسلمانوں کو جو چیزیں کسی ملک میں ہجرت کرتے ہو ئے دیکھنا ہیں ان میں سب سےافضل اس ملک میں عدل کا مقام ہے اس آیت تفسیر میں ابن ِ کثیر ایک اثر لائے ہیں کی ایک دن کاعدل چالیس کی عبادت کے برابر ہے جبکہ مسلم ممالک میں اسی کی حالت سب سے پتلی ہے؟ اور اس کی مثال حبشہ کو مسلمانوں کی پہلی ہجرت کا حکم ہے جس کو حضورﷺ نے پہلی ہجرت کے لئیے یہ فرما کر پسند فرما یا تھا کہ تم وہاں چلے جاؤ ،کیونکہ وہاں کا بادشاہ عادل ہے۔ اور اس کے نتائج دنیا نے دیکھے اور تصدیق کی کہ ان کاﷺ فیصلہ درست تھا۔ اگر پہلا فیصلہ درست نہ ہوتا تو پہلی ہجرت ہی ناکام ہوجاتی۔ دنیا میں ہجرت کا یہ پہلا سلسلہ نہیں تھا تاریخ میں بہت سے نبیوں ؑ نے ہجرت کی ہے کئی نے اپنی قوم پر عذا ب آنے کے بعد ہجرت کی؟ اور کئی نے بحکم خداوندی ہجرت کی جیسے کہ حضرت یوسف ؑکے لیئے تمام سہولتیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فراہم کیں اور وہ انہیں کےقوانین کے مطابق ہی وہاں برسوں حکومت بھی کرتے رہے۔ جو سورہ یوسف ؑکی اس آیت سے ثابت ہے کہ اپنے بھائی حضرت بنیا مین ؓکو اپنے پاس روکنے کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں راستہ دکھا یا جس کا ذکر قر آن میں سورہ یوسف کی آیت نمبر76 میں ہے۔ اسے مزید سمجھنا چاہیں تو سورہ القیامہ میں میں آیت نمبر 16 سے 26 تک تلاوت فرمالیں اور تفسیر دیکھ لیں تو آپ کو معلوم ہو جا ئے گا کہ قرآن کو محفوظ رکھنے کی اور تفسیر کرنے وغیرہ کی ذمہ داری خود اللہ سبحانہ تعالیٰ نے لی ہوئی ہے۔اگر یہاں اس کو صرف مسلمانوں تک محدود رکھنا ہوتا تو وہ حضور ﷺ سے تفسیر کراکر واضح کردیتا۔ اس کا حال ویسا ہی جیسا کہ آیات متاشابہات کا حال ہے۔ بہتر یہ ہی ہے کہ اسے ویسے ہی رہنے دیا جا ئے جیسے کہ مرضی ِ مولیٰ ہے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان غلامی کے لئے بنا ہی نہیں ہے، انکے اس دعویٰ پر بات کی جا ئے تو یہ لا منتہاہی بحث کا باعث ہوگااور مزید بحث چھیڑدےگا۔ لہذا اس سے اجتناب ہی کیا جا ئے تو بہتر ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY