ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے۔ ماہ پارہ صفدر

1
1025

ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے۔
ماہ پارہ صفدر

گزشتہ شب کے واقعات سے لیکر تا دم تحریر حکومت کی تحریک انصاف کے خلاف حکمت عملی دیکھ کر مجھے بلکل سمجھ میں نہیں آرہا کہ کل اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اس سب پکڑ دھکڑ کی کیا ضرورت آن پڑی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کسی کو سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے چیف کمشنر کو ہدائت جاری کی کہ عدالت کو یہ یقین دہانی کروائی جائے کہ کوئی سٹرک بند نہیں ہوگی، کوئی ہسپتال بند نہیں ہوگا، کوئی سکول بند نہیں ہو گا، نہ ہی امتحانات کا شیڈول تبدیل ہوگا اور نہ ہی حکومت کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند نہیں کر ے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ 2 نومبر کو عمران خان کی جانب سے اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے تناظر میں عام شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی 4 درخواستوں کی سماعت کے بعد کیا۔

کل رات تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے بعد پارٹی کے ایک سینئیر رہنما شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا تھا کہ ’ عدالت کے فیصلے کے بعد ہم خاصے پریشان اور الجھن میں مبتلا تھے کہ اب احتجاج کو کیے آگے بڑھایا جائے۔ مگر حکومت نے عدالتی فیصلے کی خود خلاف ورزی کرکے ہماری مشکل آسان کردی۔‘
اور شائد ان کی اس بات میں کسی شک و شبے کی گنجائش ہی نہیں۔

شیخ رشید کے گھر کے اطراف میں کنٹینرز لگا کر عدالت کے فیصلے کی دھیجاں بکھیر دیں۔ حکومت نے خود پلیٹ میں سجا کی ایک موقع تحریک انصاف کو پیش کردیا، اب جب حکومت خود خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے تو اخلاقی طور حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں کہ تحریک انصاف کو ایسا نہ کرنے سے روکا جائے۔

نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں، پیپلز پارٹی کے حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے اور حکومت مخالف تحریکیں چلوانے کا تجربہ رکھتے ہیں، کیا انھیں یہ معلوم نہیں کہ اس قسم کے حالات سے اپوزیشن کی تحریکوں کو مزید تشہر اور ترغیب ملتی ہے۔

شیخ رشید کی مسلم لیگ عوامی پارٹی پارلیمان میں محض ایک نشست والی پارٹی ہے، جو انھوں نے خود جیتی ہے۔ ان کی پارٹی کی ممبر شپ ان کے شہر کے ایک حلقے تک محدود ہے۔ لیکن آج میڈیا اور سوشل میڈیا پر نظر ڈالیے تو شیخ رشید ہر جگہ حاوی نظر آئے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف اپنے اعلان کے مطابق اسلام آباد بند کر سکےگی یا شہریوں کو پریشا ن کر پائے گی یا نہیں۔ اس کا اندازہ تو 2 نومبر کو ہی ہوسکے گا۔ مگر حکومت کے اقدامات سے آج شہریوں کو یقیناً پریشان ہوئی ہے۔ جبکہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے کہ اب معا ملات بہتر ہوجائیں گے۔

کیا ستم ظریفی نہیں کہ ایسےمیں جبکہ صرف تین دن پہلے کوئٹہ میں دشت گردی کی کاروائی نے کم از کم ساٹھ غریب خاندانوں کے چراغ گل کر دئے، کشمیری اپنی نئی نسل کی قربانیاں دے رہے ہیں، بھارت نے سرحدی علاقوں پر گولہ باری کرکے کشمیروں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے،مگر ان کے مصائب ختم ہونے کے لیے کہیں سے آواز نہیں سنائی نہیں دے رہی۔ اور سارے منظر نامے میں پاکستان کی اپوزیشن اور حکومت ایک ایسی محاذ آرائی میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں مصروف ہے، جس کا مستقبل قریب میں کوئی حل ممکن نہیں۔ منیر نیازی نے کیا خوب کہا ہے۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آھستہ آھستہ

SHARE

1 COMMENT

  1. میں پنڈی میں تھا آج اور بہت کچھ دیکھا سُنا
    سچ تو یہ ہے کہ
    ہر پارٹی اپنی اپنی رِٹ اور رَٹ پر ہی اٹکی ہوئی ہے

LEAVE A REPLY