نئے وزیرِ اعظم کے خطاب نے بہت سی نیندیں اُڑادیں ۔اور بہت سوں نے حسبِ عادت توپوں کے رُخ نئی حکومت کی طرف پھیر دئیے ۔اَن میں وہ مہاشے بھی ہیں جنہوں نے خود کبھی کوئی ‘وشِ لسٹ ‘ بھی عوام کو نہیں دی کہ کچھ تو مداوا ہوتا اُن تکلیفوں کا جو عوام بھگتتے رہے ہیں ان ادوار میں ۔اب بہت کچھ پریشانی کا باعث بن رہا ہے اور ہم لوہے کے چنوں کو چنا چور بنتے دیکھ رہے ہیں ۔ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا کہ ہم اپنی زندگی میں اپنے ملک میں ان خاندانوں کے علاوہ کسی کو براجمان دیکھ سکینگے ۔ہمارے خواب میں بھی نہیں تھا کہ کوئی کرپشن ختم کرنے کا بیڑہ اُٹھائیگا اس شدت کے ساتھ کہ چیخیں نکل جائینگی ۔اُمراء کی ۔ہم سوچ نہیں سکتے تھے کہ ہمارا وزیرِاعظم چھوٹے سے گھر میں رہے گا ،وزیر اور گورنر گورنر ھاؤس چھوڑ کر عام گھروں میں رہینگے ۔ایسا لگتا ہے کہ واقعئی خواب دیکھا ہے اللہ کرے تعبیر بہت اچھی ہو اور ایسی ہی ہو جیسی ہم چاہتے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بہت سے محازوں پر کام کرنا چاہئے ایک تو جو بھی منصوبے چل رہے ہیں اُن پر کسی کے بھی نام کی تختی ہو اگر اچھے اور ملک کے مفاد میں ہیں تو انہیں مکمل بھی کرنا چاہئے اور اُن پر توجہ بھی رکھنی چاہئے ،۔ہمیں تقریر میں جو کمی محسوس ہوئی وہ تھی پینشنرز کے معاملات کی ہمیں اُمید ہے کہ نئی حکومت اُن پینشنرز پر توجہ دے گی جو بہت مشکل حالات میں ہیں جنہیں پینشن وقت پر نہیں ملتی جو بڑی عمر ہونے کے باعث دھکے کھانے پر مجبور ہیں کوئی ایسا نظام ضرور بنانا چاہئے کہ اُنکی پینشن اُن کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جایا کرے اگر حکومت ایسا کوئی قانون بنا دے گی تو اُن سب کی جھولی بھر بھر دعائیں لے گی جو عمر کے آخری حصے میں جب قویٰ کمزور ہیں جب کوئی ساتھی نہیں تو وہ کم از کم اپنی محنت جو انہوں نے سالوں آفسز میں کی اس کا صلہ گھر بیٹھے لے سکینگے ۔یہ وہ طبقہ ہے ہمارے ملک کا جس کی شُنوائی کہیں نہیں ہوتی اس پر خصوصی توجہ درکار ہے اور ہمیں نرم دل رکھنے والی حکومت سے امید ہے کہ اس پر ضرور سوچے گی کہ ان کے مسائل کس طرح حل کئے جائیں ۔
اس وقت حکومت ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں کے بیچ میں زبان ۔کیونکہ حزبِ مخالف بہت بڑی ہے یہ حکومت دو تہائی اکثریت سے نہیں اآئی ، یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں خوشی ہے کہ کم از کم بادشاہت کے راستے رُک گئے ہیں ۔اب سب کو ساتھ ملا کر چلنا ہوگا ۔لیکن ساتھ دینے والوں سے بھی درخواست ہے کہ پرانی روش چھوڑ کر اگر اللہ نے موقعہ دیا ہے اپنے داغ دھونے کا تو کچھ کر کے دکھاؤ ۔تاکہ پتہ چلے کہ تم اُن کے ساتھ نہیں تھے جو ملک کی قسمت سے کھیل رہپے تھے ۔ہمارا اشارہ ایم کیو ایم کی جانب ہے ۔ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ثابت کریں کہ وہ صرف مخالفت نہیں کرتے اپنے مطالبات ہی نہیں رکھتے بلکہ بے لَوث کام کرنے کی صلاحٰت بھی رکھتے ہیں ۔لوگ وہ ہی عقلمند ہوتے ہیں جو وقت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ہم سب ہی اپنے ملک کے مقروض ہیں ۔ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا جس کو لوٹ لوٹ کر ہم میں سے زیادہ تر نے اپنے لئے فائدہ لیا ،ملک کو کچھ نہیں دیا اب گر دینے کا وقت آیا ہے تو خلوصِ نیت سے وہ سب کچھ لوٹادو اپنے عمل سے جو تمہاری بے خبری نے ملک سے لوٹ لیا ۔امن و سکون واپس لاؤ عزت دو عزت لو کہ یہ صرف اور صرف عمل اور کردار سے ملتی ہے یہ وہ جنس نہیں جو کہیں سے خرید لاؤگے ۔جو کاندھوں پر بٹھاتے ہیں وہ ہی اس زور سے زمین پر پٹختے ہیں کہ شکل بگڑ جاتی ہے ۔اس لئے اب بس اچھی باتیں کرو کام کرو اور کام کرنے دو کہ اسی میں ہم سب کی فلاح ہے ۔
تجزیہ نگار باریک سے باریک بال تلاش کر رہے ہیں کیونکہ جب کچھ نہیں ملتا تو زبان کے چٹخارے کو کہیں نہ کہیں سے کوئی کمزور نکتہ ضرور تلاش کر لیا جاتا ہے ۔ہماری خواہش ہے کہ اب امیدوں کو توڑا نہ جائے بلکہ ان امیدوں کو بار آور کرنے کے لئے سب ہی اپنا حصہ ڈالیں ۔ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کوئی بھی ایسا نہیں جس پر کوئی نہ کوئی الزام نہ ہو پھر چاہے وہ کابینہ کے لوگ ہوں یا ایڈوائزر ۔اگر ایسا ہے تو ہماری خواہش کہ وہ سب ہی جن کا نام میڈیا کے اینکر الزامات کے حوالے سے لے رہے ہیں انہیں اپنی صفائی ضرور دینی چاہئے تاکہ ہم پہلا قدم ہی ٹھیک رکھیں ورنہ گرنا دو منٹ کی بات ہے ۔قائم رہنے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پرتے ہیں۔ اس لئے کابینہ کے اراکین کو خود کو ان الزامات سے بری ضرور کرنا چاہئے ۔ورنہ فرق جو ہم چاہتے ہیں نظر نہیں آئیگا ۔اب تک سب کچھ پردے میں رہا اس حکومت کو ہر بات پر سے پردہ ہٹانا چاہئے ۔
کہتے ہیں بَیڑی سُونے کی بھی بُری ۔اس لئے جو کچھ ہم سب دیکھ رہے ہیں مقامِ عبرت ہے سب سے پہلے دولت ساتھ چھوڑتی ہے بیمار ہیں تو کتنا ہی پیسہ خرچ کر لیں اگر بیماری ٹھیک نہیں ہونی تو کچھ کام نہیں آتا ۔اسی طرح جب اآپ کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو یہ دولت ہی سب سے بڑا دشمن ثابت ہوتی ہے ۔کوئی کچھ بھی کہے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ عقلمندوں کے لئے لمحئہ فکریہ ہے اور بے حسوں کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔جب بے حسی عروج پر ہوتی ہے تو انسان کی اچھے برے کی تمیز بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ہم سب کو ہی اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے ،کہ وہ جب چاہے جسے چاہے گرفت میں لے لے یا معاف کر دے ۔ہم انتہائی کمزور اور ناتواں ہیں نہیں جانتے کہ کہاں کہاں غلطیاں کرتے ہیں ۔لیکن لیکن اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ اتنی سمجھ اور عقل ضرور عطا فرما دے کہ حلال اور حرام کی تمیز کر سکیں ۔اگر یہ فرق کر لیں گے تو ضرور ان تکلیفوں سے بچ جائینگے جو ہم قومی سطح پر اُٹھا رہے ہیں ۔
دولت بُری نہ شہرت ، برائی سے حاصل کی گئی دونوں ہی چیزیں گلے کا طوق بن جاتی ہیں ۔قرضوں سے نجات کا عمل لازمی ہے کوشش کریں کہ ملک کی صنّعتیں بحال ہوں ملک کا ہاری کسان کام کرے اُسکے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔تجارت کو بڑھانے پر زور دیا جائے امن اور سکون لازمی ہے تاکہ لوگ ہمارے ملک میں کام کر سکیں ۔اپنے ملک کی بنی ہوئی اشیاء خریدیں تاکہ ہماری صنعت کو فروغ ملے ۔کیونکہ یہ سونے کی بیڑیاں جو ہمیں عالمی طور پر پہنائی جاتی ہیں قرضے دے دے کر ان سے چھٹکارا ملے ۔قرضے کہاں خرچ ہوئے اس پر بھی بات ہونی چاہئے ۔بلکہ کھول کر سامنے لانا چاہئے کہ ہم نے یہ رقم کہاں خرچ کی ۔تاکہ آگے کے لئے تنبیہ ہو ،
نئی حکومت بہت کچھ کرنے کی باتیں کر رہی ہے ۔دعا ہے کہ وہ واقعئی مختلف ثابت کریں خود کو ،پچھلے لوگوں سے ۔ورنہ بس اتنا دھیان رکھیں کہ جس عزت سے لائے گئے ہیں اُس عزت سے جانا بھی ایک نیا کارنامہ ہوگا ۔ پہلا وزیرِ اعظم ہے جس نے یہ نہیں کہا کہ اگلے پانچ سال بھی ہم ہی رہینگے بلکہ یہ کہہ کر خوفزدہ بھی کیا اور رُلا بھی دیا کہ میں رہوں یا نہ رہوں اپنے ملک کو تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں ۔کیونکہ یہ حکم َ خداوندی ہے کہ “ ہر زی روح کو موت کا زائقہ چکھنا ہے“ ہمیں یہ بھی یاد دلایا گیا ۔ورنہ ہم تو حکومت میں رہنے والوں سے یہ نوید ہی سُنتے تھے کہ اگلی باری پھر ہماری اور خوفزدہ ہوتے رہتے تھے ۔
کہتے ہیں ڈیل ہو گئی ہے اور تاویلیں بھی پیش کی جارہی ہیں وقت کی بھی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ہم حیران ہیں کہ یہ باتیں اب بھی کیسے ممکن ہو سکینگی جب احتساب کا اتنا شور ہے ۔ایک اور بات جو بتائی جارہی ہے کہ جناب نواز شریف صاحب وزیرِ اعظم ھاؤس کا خرچہ خود اُٹھاتے تھے ہمیں بہت اچھا لگا یہ سُن کر مگر جب کہا گیا کہ منی ٹڑیل بتا دیں تو شاید یہاں بھی بے خبری کا وہ ہی عالَم ہوگا جو پہلے مقدموں میں ہوا ۔میاں صآحب کاش ایسا ہی ہوتا کہ اآپ اپنے پیسے کا حساب دے سکتے تو اآج ہم بہ حیثیت قوم ۔خود سے شرمندہ نہ ہوتے کہ ہم نے تین دفعہ اآپ کو چُنا بلکہ فخر کر رہے ہوتے کہ ہمارا وزیرِ اعظم اپنا خرچہ خود اُٹھاتا تھا ۔
ہماری دعا ہے کہ سب کو عمل کی توفیق ہو اور جو کچھ کہہ رہے ہیں کر کے بھی دکھائیں ۔ پاکستان زندہ باد

عالم آرا ۔وینکوور

SHARE

LEAVE A REPLY