اشفاق احمد خاں اور سید فخرالدین بلے داستان رفاقت. ظفر معین بلے جعفری

0
845

اللہ کریم باباجی اشفاق احمد کے درجات بلند فرماٸے ۔ اشفاق احمد خاں صاحب کی برسی
کے موقع پر کچھ لکھنے کا آغاز کرنا چاہا تو والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب اور باباجی حضرت اشفاق احمد خاں صاحب کی نصف صدی پر محیط داستان رفاقت کی بے شمار باتیں جو سن رکھی تھیں اور بے لاتعداد واقعات اور ان گنت ملاقاتیں اور ان ہوش سنبھالنے کے بعد کے قصے ایک فلم کی شکل میں آنکھوں کے سامنے آگٸے ۔
باوجود اس کے کہ ہم جانتے تھے سمجھتے تھے اور اندازہ کرسکتے تھے کہ باباجی اشفاق احمد خاں صاحب کس قدر شدید علیل ہیں اور ان کی حالت بتدریج تشویش ناک ہو رہی تھی۔ محترمہ صدیقہ بیگم سے بدستور رابطہ قاٸم تھا لمحہ بہ لمحہ بدلتی کیفیت سے باخبر بھی تھے۔ 2004 ہی کے جنوری کی 28 تاریخ تھی کہ جب ہمارے پیارے بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی رحلت ہوٸی تھی. ہمارے سروں سے آسمان اٹھ گیا تھا لیکن احمد ندیم قاسمی صاحب ۔ اشفاق احمد صاحب ۔ ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب۔ پروفیسر جگن ناتھ آزاد ۔ خالد احمد۔پھوپی اماں ادا جعفری اور صدیقہ بیگم سمیت بے شمار محبان سید فخرالدین بلے اس قیامت کی گھڑی میں ہمارے ساتھ ساتھ رہے۔ باباجی اشفاق احمد خاں صاحب اور بانو آپا نے فون پر ہمہ وقت رابطہ قاٸم کیے رکھا۔
اشفاق احمد خاں صاحب موذی مرض میں مبتلا ہوچکے تھے اور بیماری تیزی سے شدت اختیار کرتی جارہی تھی۔ دوران علالت بھی ان سے مسلسل رابطہ رہا ۔ بات ہوٸی ان کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی ہوتی تھی اور وہ فرما رہے ہوتے تھے اللہ کا شکر ہے۔ اللہ کا کرم ہے۔ اکثر اوقات تو ان سے بات کرنے دوران خود ہم پر رقعت طاری ہوجاتی اور وہ ہمیں حوصلہ دیتے۔ایک دو مرتبہ تو یہ بھی فرمایا کہ بَلّےصاحب
سے ملنے کے بہانے بن رہے ہیں۔ ظفر تم سمجھنا کہ ہم نے قافلہ کے پڑاٶ کا ٹھکانہ بدل لیا ہے۔ دیکھو رونا نہیں۔ میں نے بانو سے بھی کہا ہے کہ ہمت نہ ہارنا آنکھ سے آنسو ٹپکے تو ہماری تپّسیا بھنگ ہوجاٸے گی۔ بس دعاٶں میں یاد رکھنا جب تک رکھ سکو۔ جب اپنے والد سید فخرالدین بلے صاحب کے درجات کی بلندی کےلیے ہاتھ اٹھاٶ تو ان کے حلقہ احباب میں شامل اصحاب کو بھی یاد کرلیا کرنا۔ میں یاد رہ جاٶںتو مجھے بھی دعاٶں میں شامل کرلینا ۔

اشفاق احمد خان صاحب ممتاز ترین دانشور ، افسانہ نگار ، ڈرامہ رائٹر اور براڈ کاسٹر اشفاق احمد نے گڈریا ، باباصاحبا ،من چلے کا سودا ،ایک محبت سو افسانے، سفر در سفر اور زاویہ سمیت متعدد افسانے ڈرامے تخلیق فرماٸے اور گفتگو کی نشستوں کا اہتمام فرمایا ۔ ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی قاٸم کردہ ادبی تنظیم قافلہ کا ماہانہ بھی انہی کی اقامت گاہ پر ڈالا جاتا تھا اور وہی میزبان ہوا کرتے تھے ۔ اشفاق احمد خاں صاحب اور بانو قدسیہ آپا قافلہ پڑاٶ کے مستقل شرکاٸے کرام میں سر فہرست شمار کیے جاتے تھے ۔

باباجی اشفاق احمد خاں کے ڈرامہ ”من چلے کا سودا “ کے حوالے سے قافلہ کے دو پڑاٶ ڈالے گٸے ۔ ڈاکٹر اصغر ندیم سید ۔ڈاکٹر اجمل نیازی۔ ڈاکٹر سلیم اختر ۔ احمد ندیم قاسمی میزبان سید فخرالدین بلے اور جناب منور سعید صاحب اور دیگر شرکاٸے قافلہ نے بھرپور گفتگو فرماٸے۔ اشفاق احمد خاں صاحب اور بانو قدسیہ صاحبہ کے اعزاز میں متعدد خصوصی پڑاٶ بھی ڈالے گٸے ۔ اور اس کے علاوہ بھی قافلہ کے متعدد معمول کے ماہانہ پڑاٶ بھی اشفاق احمد خاں صاحب اور بانو قدسیہ آپا کے نام سے منسوب کیے گٸے ۔ ستارہ امتیاز اور صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کی وقعت اور حیثیت میں اضافہ ہوا جب یہ اعزازات محترم بابا جی اشفاق احمد خاں صاحب کو پیش کیے گٸے۔

بابا جی اشفاق احمد 22 اگست 1925ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ ’’داستان گو‘‘ اور ’’لیل و نہار‘‘ نامی رسالوں کے مدیر رہے ۔
باباجی حضرت اشفاق احمد خاں صاحب طویل عرصے تک اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ 1992 میں کانٹریکٹ کی مدت و معیاد مکمل ہونے پر اس ادارے سے علیحدہ ہوگٸے تھے ۔ سرکار بابا جی حضرت اشفاق احمد خاں صاحب نے 41 برس تک ریڈیو کے مشہور موضوعاتی سیریل ’’تلقین شاہ‘‘ کا اسکرپٹ بھی لکھا اور اس میں صداکاری بھی کی۔ ”تلقین شاہ “ ریڈیو پاکستان کا واحد پروگرام ہے جو مقبول ترین قرار پایا اور چالیس برس سے زاٸد عرصے تک بلا تعطل جاری رہا۔ دنیا بھر میں ریڈیو پاکستان کا تعارف کروانے اور یہ ریڈیو پاکستان ہے کا پہلا اعلان فرمانے والے قابل صد احترام سید مصطفی علی ھمدانی کے مقربین میں سے تھے ۔ اور اشفاق احمد خاں صاحب کو ہمیشہ جناب سید مصطفی علی ھمدانی صاحب کا حد درجہ احترام کرتے دیکھا گیا ہے. ۔7 ستمبر 2004 کو اشفاق احمد خاں صاحب کی سترہویں برسی ہے ۔اشفاق احمد خان اور سید فخرالدین بلے = داستانِ رفاقت
داستان گو :۔ ظفر معین بلے جعفری

SHARE

LEAVE A REPLY