سینیٹ اجلاس میں وزراء اور قائد ایوان کی عدم حاضری پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے وزراء پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وزراء کی غیر حاضری کے معاملے پر وزیراعظم کو خط بھیج دیا ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹررضا ربانی نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزراء ویسے بھی نہیں آتے تو آپ انہیں معطل کردیں، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، وزیر خزانہ نے لاہور میں بیٹھ کر بات کی لیکن پارلیمنٹ نہیں آئے۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ چلانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں، آپ نے وزیراعظم کو خط لکھا، اس کے باوجود آج کوئی موجود نہیں۔
پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ گفتگو کے معاملے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، یہاں وزیر نے آکر کہا کہ سب ٹھیک ہے، اس کے بعد مذا کرات آگے بڑھے، اس کے بعد بھی ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ ایسی ہے کہ پارلیمنٹ کو ایک لفظ نہیں بتایا گیا، وزیر آئیں گے تو پارلیمنٹ کو کچھ پتہ چلے گا۔
سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ حکومت نے روز کا تماشا بنا رکھا ہے۔
حکومتی سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ وزراء کو ایوان میں آنا چاہیے، ابھی سینیٹ میں تین وزراء موجود ہیں۔












