سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گزشتہ روز کے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ یہ اعلامیہ غلط فہمی پر مبنی، بڑا خوفناک اور تکلیف دہ ہے۔
نواز شریف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
نواز شریف نے کہا کہ کوئی ملک ہے جو آج ہمارے ساتھ کھڑا ہے، آج دنیا میں ہم تنہا ہوگئے ہیں، اتنا پیارا ملک ہے ہمارا، یہ کیا بن گیا ہے؟
ایک صحافی نے میاں نواز شریف سے سوال کیا کہ 5 سال تک آپ کی حکومت رہی اس دوران ایک ملک بھی آپ نے دوست نہیں بنایا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ قومی کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، بات ذات کی نہیں پورے ملک کی ہے کہ ملک کس سمت میں چلا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا۔
سول اور ملٹری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اس کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں قومی سلامتی کمیٹی نےمتفقہ طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیان کو مسترد کر دیا۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت بحری اور فضائی افواج کے سربراہان ،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی آئی بی محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔












