آج کچھ اور پڑھنے کو نہیں ملا تو ہم نے ورق گردانی کے لیے فیروز الغات اٹھا لی کیونکہ بزرگ فرماگئے ہیں اس سے زبان نکھرتی ہے؟ ہم نے ایک جگہ سے اسے کھولا تویہ محاورہ سامنے آگیا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے؟ فوراً ہی خیال ذہن مں ابھرا کہ اگر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے تو وہ بعض ملکوں میں چل ہی نہیں بلکہ دوڑکیسے رہا ہے؟ جہاں اکثریت کی بنیادہی جھوٹ پر ہے۔ پھر سوچا کہ آجکل پیدل چلنے کا دور نہیں اُڑنے اُڑانے کازمانہ ہے۔ جھوٹ کو بھی پہلے اسٹیچر یا وہیل چیر پر بٹھا کر بزرگوں کی طرح لے جاتے ہوں نگے اور پھر وہاں سے چونکہ پیسہ کی کمی نہیں ہے ایر امبولینس میں بٹھا کر اڑاتے پھرتے ہوں گے۔ مگر یہ بات کچھ دل کو بھائی نہیں؟

تو ہم نے مزید تحقیق کی ٹھانی، ذہن میں صدیوں پرانی تاریخ گھوم گئی۔ ایک حکایت جو پچپن میں پڑھی تھی وہ یاد آئی تونگاہوں میں رجواڑے اور ان کے درباری آگئے پھر ان کے مصاحب در آئے جو ان حکمرانوں کے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لیے خصوصی طور پر بھاری تنخواہوں پر رفوُ کرنے کے ماہر ملازم رکھے جاتے تھے۔ جو ہر وقت تیار رہتے تھے تاکہ جو حکمراں جھوٹ کہے وہ فوراً اس کی لیپا پوتی کرکے اسے سچ ثابت کردیں اور وہ اس طرح شرمندگی سے بچ سکے ۔اس سے ہم پر یہ بات بھی کھلی کہ اگلے وقتوں میں لوگ جھوٹ پر شرماتے بھی تھے۔ مگر یہ اگلے وقتوں کی باتیں ہیں جانے دیں ۔ہمیں تو خیر نہیں، لیکن اب یہ باتیں سب کو عجیب لگتی ہیں اورہماری نئی نسل کو تو بالکل عجیب لگیں گی، جیسے کہ اس زمانے کے بازار کے بھاؤ اگر ہم بیان کریں کہ سونا اس دور میں چودہ روپیہ تولہ تھا تو ہمارے پوتے اور نواسے کہیں گے کہ اباّ جھوٹ کتنا بول رہے ہیں۔ جب ہمارا ذہن حکایت کے اس حصہ پر پہونچا کہ اسوقت کچھ مصاحب ایسے بھی ہوتے تھے کہ حکمراں اگر ان کی رفو کرنے کی صلاحیت سے زیادہ جھوٹ بولیں تووہ بھی بجائے رفوُ کرنے کی ناکام کوشش کرنے کہ کہدیتے تھے کہ حضور توجہ فرما ئیں! اب آپ کا جھوٹ ہماری بساط سے باہر ہوتا جارہا ہے لہذا با صد حسرت ویاس ناچیز کا استعفیٰ قبول فر مالیں ۔ حکایت یہ تھی کہ ایک حکمراں اپنے شکار کے قصے کسی مہمان حکمراں کو سنا رہے تھے۔ تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جب میں نے نشانہ لیکر گولی داغی تو ہرن کے کھر میں سے ہوتی ہوئی اس کے کان میں داخل ہوئی اور اس کے بھیجے کو پھاڑتی ہوئی نکل گئی ، شکار وہیں ڈھیر ہوگیا۔ پھر مصاحب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ دوڑے ہوئے گئےاور انہوں نے جا کر ذبح کرلیا؟ درباری چپ رہے سب نےمن عن تسلیم کرلیا۔ مگر مخاطب چونکہ انکا ہم منصب تھا ! وہ اتنا بڑا سچ سن کر برداشت نہیں کرسکا ؟ پوچھ بیٹھا کہ یہ کیسے ممکن ہے “ کہاں کھر اور کہاں کان “ بادشاہ نے بجائے جواب دینے کہ مصاحب کی طرف اشارہ کیا کہ تم جواب دو ؟ وہ پہلے تو سات دفع جھک کر آداب بجا لایا کہ بظااہر گرتے گرتے بچا ،پھران کے کان تک پہونچا اور سرگوشی کی کہ سرکار چھوٹا موٹا رفو ہو تو یہ خاکسار کرسکتا ہے مگر سرکار تو تھان کے تھان پھاڑنے لگے ہیں۔ یہ بھی عجیب مصاحب تھے جن کی رفو کرنے کی حد مقرر تھی، اب تو جو مصاحب ہیں تھان تو کیا بادشاہ سے بھی آگے بڑھ کر کارخانے کے گودام کھول کر رفو کر نے کی ناکام کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔ ڈھوندیئے تو سہی مثالیں آپ کو اپنے چاروں طرف ملیں گی۔

یہ تھیں پرانے حکمرانوں کی باتیں۔اب ہم جس دور کی بات کر نے جا رہے ہیں۔ وہ برطانیہ کا دور تھا اور سرکاری عملداری صرف شہروں تک محدود تھی جب کہ اصل حکومت درمیانی طبقہ کرتا تھا جو بعض ملکوں میں ابھی تک کررہاہے ۔

اس وقت دو قسم کی ریاستیں ہوتی تھیں ایک وہ جو کہ انگریزی میں “S”سے اسٹیٹ State لکھی جاتی تھیں دوسری “E “سےEstate لکھی جاتی تھیں ۔ پہلی قسم کی ریاستوں کی تعداد چھ سو تیرہ تھی ان میں سب سے بڑی حیدر آباد دکن تھی جو اپنی پولس، فوج اور عدالتی نظام وغیرہ سب رکھتی تھی۔ دوسری ایک جوسب سے چھوٹی تھی نام جہاں تک میری یاداشت میں ہے بلاس پور تھی جو سوا مربع میل کے کثیر رقبہ پر محیط تھی۔ وہ ان میں سے کچھ بھی نہیں رکھ سکتی تھی۔ مہاراجہ خود ہی سب کچھ تھے۔ البتہ تاج وہ بھی پہنتے تھے اور نظام ِ دکن بھی ۔ رہی دوسری قسم جوای سے اسٹیٹ لکھی جاتی تھی ، ان کی تعداد اتنی تھی کہ اسے لکھنے کے لیے دفتر چاہیے ۔ لہذا آپ کو ان کی فہرست کہیں نہیں ملے گی۔ ان میں آپس میں جھگڑے ہوتے رہتے تھے جواس برطانوی پالیسی کا“ حصہ تھے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو“ اور برطانوی عدالتیں انہیں طے کرتی رہتی تھیں ۔ ایسی دو ریاستوں میں تنازعہ تھا کہ1924 ءمیں ہمالیہ کی ترائی میں وہاں ایلو فیور ایسا پھیلا کہ سب سے قیمتی سرمایہ کاشتکار بن گئے جو اس پہلے بے وقعت تھے ۔ لہذاان دنوں کاشتکاروں کی چوری عام ہوگئی۔ کیونکہ حکمرانوں کو اپنی حکمرانی کے لیے رعیت چاہیئے تھی۔وہ خرید کر کے لاتے اور ان کے دشمن ان کے کاشتکار چرالے جاتے ؟اسی دور کی بات ہے کہ دو دشمن حکمرانوں میں پہلے سے جھگڑا چلا آرہا تھا ایک کے آدمی دوسرے کے گاؤں میں کاشتکار چرانے گئے اور وہ وہاں پکڑے گئے ۔ پولس نے ان میں سے جو طاقتور زمیندار تھا اس کے بیٹے کی مرضی کے مطابق جوکہ ابھی نا تجربہ کار تھاان پر غلط دفعہ لگواکر پولس سے چالان کروادیا، جب کورٹ میں مقدمہ پیش ہوا تو ملزمان نے اپنے دفاع میں یہ دلیل پیش کی کہ ہم تو وہاں پنچایت میں گئے تھے۔ اور انہوں نے دشمنی میں ہمیں پکڑ کر تھانے بھیجدیا۔ مدعی کے وکیل نے پہلی ہی پیشی پر کہدیا کہ آپ چاہیں تو کوئی دوسرا وکیل کرلیں ،مقدمہ میں جان نہیں ہے جھوٹا سہی مگر دشمن کے مقابلہ میں مقدمہ ہارنا بڑی بے عزتی کی بات تھی؟ پرانے وکیل نے بہانہ کیا اور تاریخ لیلی جیسے وکیل لیتے ہیں۔ ادھر اس بچے کے اباّ واپس آگئے۔ وہ دوسرے وکیل کے پاس پہونچے بیٹا ساتھ تھا ۔ نئے وکیل صاحب نے ان کے بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا سچ سچ بتانا یہ چوری کرنے آئے تھے یا واقعی پنچایت میں آئے تھے؟ اس نے کہا کہ نہ یہ چوری کرنے آئے، نہ وہاں پنچایت تھی ۔ یہ ہمارے کاشتکار چرانے آئے تھے۔ جواب سن کر کے وکیل صاحب مطمعن ہوگئے اور انہوں نے مقدمہ لےلیا اور اپنا وکلالت نامہ دستخط کر کے انہیں دیدیا کہ یہ عدالت میں داخل کر دیجئے ۔ مقدمہ ہم جیتیں گے؟ اور وہ مقدمہ جیت گئے ۔ان کے اس اعتما د کی وجوہات میں ان میں سے کوئی اور وجہ نہیں تھی جو آجکل رائج ہیں بلکہ ان کا سالوں کا تجربہ تھا کہ “ جراح میں جھوٹے نہیں ٹکتے ہیں“۔ وکیل صاحب نے اگلی پیشی پر عدالت سے درخواست کی کہ مقدمہ بند کمرہ میں سنا جائے جو عدالت نے منظور کرلی ؟ انہوں نے جہاں ملزم بتارہے تھے کہ وہ پنچایت میں گئے تھے؟ اس کے گھر کے صحن میں ایک درخت اگالیا اور ہر ایک پنچ سے پوچھا کہ تم اس درخت کے نیچے بیٹھے تھے سب نے کہاں ہاں؟ پھر راستے میں ایک تالاب بنا ڈالا چاروں ملزموں سے یہ بھی پوچھا کہ وہ اس تالاب کے پورب کی طرف سے گئے تھےیا پچھم کی طرف سے کسی نے بتایا پورب کسی نے بتایا پچھم ؟ پھر وکیل صاحب نے ایس ایچ او کو جراح کے لیے طلب کیا ۔ ان سے پوچھا کہ آپ نے موقعہ واردات دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ! ا وکیل نے سوال کیا کہ اس جگہ کوئی درخت ہے، جواب ملا کہ نہیں۔ پھرانہوں نےپوچھا کہ وہاں کوئی تالاب اس گھر کے راستہ میں پڑتا ہے جہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ پنچایت تھی؟ کہا نہیں ۔ جراح میں وہ چاروں ملزوں کو پہلے ہی جھوٹا ثابت کرچکے تھے، وکیل صا حب یہ کہہ کرکے کمرہ عدالت سے باہر چلے کئے حضور، جھوٹ اور سچ کا فیصلہ اب آپ فر مادیجئے ۔ عدالت نے انہیں جھوٹ اور تضاد بیانی پر چھ، چھ مہینہ کی سزا سنادی؟ جبکہ اس وقت نہ دستور تھا نہ حکمرانوں کے لیے امین ہونے کی شرط دستور میں شامل تھی۔

یہ سزا کیسے دی کیونکر دی وہ کوئی وکیل ہی بتاسکتا ہے ہم چونکہ وکیل نہیں ٠ہیں ہم اس پر مزید کچھ کہنے سے قاصر ہیں البتہ بچپن سے دروغ حلفی اور غلط بیانی کی سزا ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں ۔ ہوتی ضرور ہوگی جبھی تو اس کا ذکر ملتا ہے۔

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY