کراچی طیارہ حادثے میں معجزانہ طور پر بچ جانے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بینک آف پنجاب ظفر مسعود نے کہا ہے کہ الحمدللّٰہ طبیعت بہت بہتر ہے، ماں کی دعائیں کام آگئیں۔
جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ظفر مسعود نے کہا کہ بہت تیزی سے ریکور کررہا ہوں، انشااللّٰہ جلد ٹھیک ہوجاؤں گا۔
دوسری جانب وائس چیئرمین نجی اسپتال ڈاکٹر علی فرحان کا کہنا ہے کہ ظفر مسعود کے گھٹنے کی ایم آر آئی رپورٹ کا انتظار ہے، گھٹنے پر معمولی فریکچر ہے۔
ڈاکٹر علی فرحان کا کہنا تھا کہ ایم آر آئی رپورٹ کی بنیاد پر ضرورت پڑی تو آپریشن کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ظفر مسعود کے پورے جسم پر زخم آئے تھے لیکن وہ تیزی سے بھر گئے ہیں، ہاتھ کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹی تھی جس کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر علی فرحان کا کہنا ہے کہ امید ہے آئندہ چند روز میں ظفر مسعود کو گھر بھیج دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کے طیارے کے حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ظفر مسعود سمیت دو افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود معجزانہ طور پر طیارہ حادثے میں محفوظ رہے، انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا تھا، جہاں ان کی حالت بہتر ہے۔
ظفر مسعود کے بھائی علی مسعود کا کہنا ہے کہ ظفر مسعود کی کہنی میں فریکچر ہوا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
بینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو افسر ظفر مسعود طیارے کی آگے کی نشست پر بیٹھے تھے، طیارہ لینڈنگ سے صرف چند سیکنڈ کی دوری پر تھا، پہلے طیارے کی دُم ایک عمارت سے ٹکرائی، اس جھٹکے سے جہاں طیارے کی رفتار کا زور ٹوٹا، وہیں طیارے کے ٹوٹنے سے اگلی نشستوں کے کچھ لوگ باہر جاگرے، ان میں ظفر مسعود بھی شامل تھے، جنہیں مقامی افراد نے اٹھا کر کمبائنڈ ملٹری اسپتال سی ایم ایچ پہنچایا۔
ظفر مسعود طیارے سے باہر جا گرنے کے باعث آگ کی زد میں آنے سے بچ گئے، ان کی کہنی اور کولہے پر چوٹیں آئی ہیں، سی ایم ایچ اسپتال نے ان کی حالت کو قابل اطمینان قرار دیا جس پر ان کے اہلخانہ ظفر مسعود کو وہاں سے دارالصحت اسپتال لے آئے۔
ظفر مسعود کے بھائی علی مسعود نے بتایا کہ کہنی کی سرجری کرنا ہے یا نہیں؟ فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ہمیں ظفر مسعود کا پتا چلا ہم لوگ فوراً جائے وقوعہ پہنچے جہاں لوگوں نے بتایا کہ انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، تو پھر ہم سی ایم ایچ اسپتال پہنچے، جہاں سے انہیں دارالصحت اسپتال منتقل کردیا گیا۔
علی مسعود نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ظفر مسعود کو بر وقت اسپتال پہنچایا اور ان کی وجہ سے وہ کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہے ہیں۔












