طارق بٹ ۔۔ پی پی 10 کے ساتھ 10 نمبری

0
730

مولانا صاحب کی تقریر کا کچھ زیادہ ہی اثر ہو گیا تھا انہوں نے سماں ہی کچھ ایسا باندھا تھا کہ ہر کوئی متاثر دکھائی دیتا تھا دینے والی واحد ذات رب کائنات کی کہ وہی خالق وہی مالک اور وہی رازق ہے اسی سے مانگو کہ وہ ایک چھوٹے سے حقیر کیڑے کو پتھر کے پیٹ اندر بھی رزق دینے پر قادر ہے ۔ بابا جی تو ویسے بھی مولانا صاحب کے بہت معتقد تھے تازہ خطاب پر سر دھنتے گھر تشریف لائے اور بغیر کسی کو بتائے اپنے آپ کو گھر کی ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں چھپا لیا یقین کامل تھا کہ داتا سے مانگو گا تو وہ یہیں اس تاریک کوٹھری کے مزید تاریک گوشے میں عطا فرمائے گا ۔ بنا کچھ کھائے پیئے دم سادھے بیٹھ کر باہر کی آوازیں سننے لگے دن کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا گھر کے بڑے بچے سب بابا جی کو تلاش کر رہے تھے آوازیں دے رہے تھے مگر بابا جی نے ٹھان رکھی تھی کہ کسی آواز پر کان نہیں دھرنے بس چپ چاپ بیٹھے رہے سارا گھر پریشان، پاس پڑوس میں بھی معلوم کر لیا مگر بابا جی نہ ملے تھک ہار کے سارے بیٹھے اور دن کا کھانا کھا لیا اس دوران بھی ذکر بابا جی کا ہی ہوتا رہا ان کی اچانک گمشدگی نے سب کو حیران کر دیا تھا کھانے کے بعد پھر تلاش کا عمل شروع ہو گیا عزیز و اقارب کو ٹیلی فون کئے گئے پاس پڑوس میں ایک بار پھر پوچھا گیا مگر بابا جی نے نہ ملنا تھا نہ ملے اس تاریک کوٹھری کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا وقت گزرتا گیا حتی کہ رات ہو گئی پیٹ کا دوزخ تو بھرنا ہی ہوتا ہے کھانا لگایا گیا اسی دوران مولانا صاحب بھی بابا جی کا پوچھنے آ پہنچے انہیں بھی کھانے میں شریک کرتے ہوئے بتایا گیا کہ تاحال بابا جی کا کچھ پتا نہیں چلا ادھر سارے دن کے بھوکے پیاسے بابا جی کا پیٹ دہایاں دے رہا تھا انہوں نے جب مولانا صاحب کی آواز سنی تو زور سے کھنگورا مارا۔ آواز سنتے ہی سارے دوڑے آئے بابا جی کو ساتھ لیا اور ہاتھ منہ دھو کر کھانے میں شریک کر لیا ۔ مولانا صاحب نے پوچھا قبلہ یہ کیا چکر ہے ۔ بابا جی بولے ۔ آپ نے آج ہی تو اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اللہ کیڑے کو پتھر میں بھی رزق دیتا ہے کہ یہ اس کا وعدہ ہے ۔ میں نے سوچا آزما کے دیکھتے ہیں ۔ مولانا صاحب نے ہنس کے کہا ۔ محترم ایک تو آپ کیڑے نہیں ہیں اشرف المخلوقات ہیں دوسرے رزق کا وعدہ تو ہے مگر اس کے لئے تھوڑا سا کھنگنا کھرکنا (کوشش کرنا کے معنی میں استعمال ہوا) بھی پڑتا ہے۔

آج کل چودھری نثار علی خان بھی کھنگنا کھرکنا ترک کر کے تاریک کوٹھری کے مکین بنے بیٹھے ہیں قطعا مخل ہونے کی جسارت نہ کی جاتی ان کی تنہائی میں اگر وہ سیاست سے دستبردار ہو چکے ہوتے ۔ مگر چھٹتی کہاں ہے ظالم یہ منہ کو لگی ہوئی ۔ وہ کروفر، وہ استقبال ، وہ نعرے وہ گل پاشیاں راتوں کو بھی چین سے سونے نہیں دیتیں ۔ موجودہ حالات میں ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس نے مسلسل پینتیس چالیس سال ہٹو بچو کی آوازوں میں گزارے ہوں ۔ عوام کے جذبہ عقیدت سے بھرپور اجتماعات کا عادی ہو اپنی جنبش ابرو سے انتظامیہ کی الٹ پلٹ کے مظاہرے کر چکا ہو اسے یکدم قومی سطح سے دھڑام کے ساتھ صوبائی سطح پر گرنا پڑے تو اس کی کیا کیفیت ہو گی۔ اسی لئے تو وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچ رہے صوبائی اسمبلی پی پی 10 کی نشست گذشتہ عام انتخابات کے بعد سے تاحال ان کے پاس موجود ہونے کے باوجود نہیں ہے اس لئے کہ ابھی تک انہوں نے ممبر صوبائی اسمبلی کی حیثیت سے حلف نہیں اٹھایا اور جب تک وہ حلف نہیں اٹھا لیتے پی پی 10 کے عوام اپنے ممبر صوبائی اسمبلی سے محروم رہیں گے ۔

موجودہ صورتحال نہ تو چودھری نثار علی خان کے لئے اچھی ہے اور نہ ہی پی پی 10 کے عوام کے لئے ۔ چودھری صاحب جس کشمکش سے گزر رہے ہیں وہ تو ان کی اپنی ذات کے ساتھ دلچسپی کے پیش نظر ہے مگر حلقے کے عوام جس پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہیں اس کا مداوا کیسے ممکن ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ عوام کو آئے روز اپنے مسائل کے حل کے لئے اپنے منتخب نمائندگان کی ضرورت پڑتی ہے اس بدنصیب حلقے کے عوام نے پارٹی ٹکٹ نہ ہونے کے باوجود چودھری صاحب کی گذشتہ کارکردگی اور ان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار ان پر اپنے ووٹ نچھاور کر کے کیا مگر آج چار ماہ گزرنے کے باوجود وہ اپنے نمائندے کو منتخب ایوان میں موجود نہیں پا رہے جس سے اس حلقے کے عوام کی آواز منتخب ایوان تک نہیں پہنچ رہی۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق نئی حلقہ بندیوں نے اس حلقے کے عوام کو قومی حلقے این اے 57 سے ملا کر وہ ظلم کیا ہے کہ جس کا مداوا تا دیر ممکن نہ ہو سکے گا اس لئے کہ این اے 57 سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی صداقت عباسی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئیندہ انتخابات کے لئے پھر نئے سرے سے حلقہ بندیاں ہوں گی اور پی پی 10 کا پورا علاقہ کسی بھی صورت میں ان کے قومی اسمبلی کے حلقے میں شامل نہیں ہو سکے گا اس لئے انہوں نے وقتی طور پر تو اپنا الو سیدھا کر لیا ہے مگر ووٹ لینے کے باوجود وہ اس علاقے کو کوئی بھی اہمیت دینے کو تیار نہیں ۔اب ایک طرف تو صداقت عباسی حلقے کے عوام کو آنکھوں میں ڈالنے کے لئے میسر نہیں اور دوسری جانب چودھری نثار علی خان نے بھی اپنے آپ کو کھنگنے کھرکنے سے دور رکھتے ہوئے تاریک کوٹھری میں رہن بسیرا کر رکھا ہے مارے تو پی پی 10 کے عوام گئے ہیں جن کے ساتھ دونوں طرف سے 10 نمبری ہو رہی ہے۔اب دیکھئے اس 10 نمبری سے نجات کے لئے پی پی 10 کے عوام کب کھنگنا کھرکنا شروع کرتے ہیں ۔۔۔!

SHARE

LEAVE A REPLY