اوباما انتظامیہ تارکینِ وطن کے اندراج کو منسوخ کردے گی

0
383

اوباما انتظامیہ نے بتایا کہ وہ 11 ستمبر کے تناظر میں سامنے آنے والی قانونی ضرورت کو بدل رہی ہے جس کے تحت اکثر مسلمان ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کے لیے لازم کیا گیا کہ وہ وفاقی حکومت میں اپنا نام درج کروائیں۔

سنہ 2011سے امریکہ میں اس پروگرام پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن، منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر برائے تارکین وطن نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پروگرام کو پھر سے لاگو کیا جائے گا۔

’نیشنل سکیورٹی انٹری ایگزٹ رجسٹریشن سسٹم (این ایس اِی اِی آر ایس) کے خاتمے کا فیصلہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی دہشت گردی کا خوف بڑھ رہا ہے اور ٹرمپ کی تجویز پھر سے سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں مسلمان تارکین وطن کی آمد پر بندش لگائی جا سکتی ہے۔ اس ہفتے برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملے کے بعد، جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے، ٹرمپ نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ ’’آپ کو میرے منصوبوں کا پتا ہے‘‘۔

رجسٹریشن سسٹم کا 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے تقریباً ایک برس بعد آغاز کیا گیا تھا، جس میں امریکہ آمد پر لوگوں اور لڑکوں کو اپنا نام وفاقی حکومت میں درج کرانا تھا، جن میں زیادہ تر مشرق وسطیٰ کے ملک شامل تھے۔ امریکہ میں موجود ان ملکوں کے شہریوں کو بھی امی گریشن حکام کے پاس نام کا اندراج کرانا پڑتا تھا۔

ایسی رجسٹریشن شمالی کوریا سے آنےوالے تارکین وطن پر بھی لاگو ہوتی تھی، جن کے فنگر پرنٹ اور تصاویر لی جاتی تھیں۔ ایڈریس تبدیل کرنے کی صورت میں ایسے افراد کے لیے لازم تھا کہ وہ حکومت کو باضابطہ اطلاع دیں۔

انتظامیہ جمعے کے روز اپنا فیصلہ فیڈرل رجسٹری میں شائع کرائے گی۔ شہری حقوق کے داعی کھل کر اس پروگرام کا مزاق اڑایا کرتے تھے، جن کا الزام تھا کہ نسل اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔

بارہ دسمبر، 2016ء کو واشنگٹن میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں مسلمانوں کے رجسٹریشن کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

محکمہٴ ہوم لینڈ سکیورٹی کی خاتون ترجمان، نعیمہ حکیم نے بتایا کہ یہ پروگرام نہ صرف ناکارہ ہو چکا ہے، بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے محدود عملہ اور ذرائع کو دیگر مؤثر معاملات سے دھیان ہٹانا ہوگا‘‘۔

گذشتہ ماہ، انتخابی مہم کے دوران، کینساس کے سکریٹری آف اسٹیٹ، کرس کوباش، جو ٹرمپ کے امی گریشن کے مشیر ہیں، کہا تھا کہ ٹرمپ کو چاہیئے کہ وہ پروگرام پر دوبارہ عمل کریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY