یمن کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے حوثی ملیشیا کے باغیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان طے پانے والا معاہدہ کٹھائی میں پڑٰتا شکار دیتا ہے۔ اس امر کا انکشاف میڈیا ذرائع نے کیا ہے۔

ان ذرائع نے بتایا کہ علی عبداللہ صالح نے حوثیوں کے ساتھ طے پانے معاہدے پرعمل درآمد کے لئے ایک پیشگی شرط یہ رکھی ہے کہ حوثی باغی یمن کے اسٹیٹ بینک سے نکالے گئے دو ارب ڈالر کے بارے میں وضاحت پیش کریں۔ ان کے بقول حکومت کو ریاستی اداروں کا کنڑول دینے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ اس کے سپریم انقلابی کونسل کو تحلیل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

یاد رہے چند روز قبل علی عبداللہ صالح نے یمن میں حالات کی بہتری کی خاطر امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کو مذاکرات کے لئے اچھی بنیاد قرار دیا تھا۔ معزول صدر کا یہ موقف ان کے باغیانہ خیالات میں تبدیلی کا آئینہ دار سمجھا جا رہا ہے۔

علی عبداللہ صالح نے امریکا اور یو این امن منصوبے پر عمل کے لئے شرط لگائی ہے کہ وہ اتحادی فوج ملک میں تمام قسم کے آپریشن روک دے اور محاصرہ ختم کرتے ہوئے غیر ملکی فوجوں کو یمن سے نکالا جائے۔ نیز باغیوں کو سزا دینے سے متعلق فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
باغی صدر کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وہ یمن کی وحدت، علاقائی سلامتی اور استحکام کے تمام منصوبوں پر مثبت انداز میں عمل درآمد کے لئے تیار ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY