ایک زمانہ تھا ڈاکو بھی آعلیٰ ظرف ہوا کرتے تھے

0
1450

ایک مارننگ شو میں بیگم بلقیس ایدھی سے سوال کیا گیا کے اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ سنایں
بلقیس ایدھی نے ہنستے ہوئے بتایا کے ایک مرتبہ وہ اور ایدھی صاھب ایک پرائیویٹ کار پر سکھر جا رہے تھے ایک شادی پر رات کا وقت تھا اندروں سندھ سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر کچھ ڈاکو راستے میں آ گے اور ہماری گاڑی روڈ سے اتار کر کچے میں لے گئے وہاں پہلے سے کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں اور ڈاکو لوٹ مار میں مصروف تھے
تھوڑی دیر میں ایک ڈاکو ہماری طرف آیا اور ڈرائیور اور ایدھی صاھب کو باہر نکلنے کا کہا ان دونوں کی تلاشی لی اور جیب خالی کرا لی
اچانک اس ڈاکو کی نظر ایدھی صاھب پر پڑی اور غور سے ان کو دیکھنے کے بعد ایک ڈاکو جلدی سے ایک جانب کھڑی جیپ کی طرف گیا اور ایک شخص کے پاس گیا اورواپس آ گیا
اس شخص نے ٹارچ کی روشنی ایدھی صاھب کے چہرے پر ڈالی اور پوچھا آپ عبدالستار ایدھی ہیں جواب ہاں پر ملا تو وہ ڈاکو کا سردار ایک دم پریشان ہو گیا
فوری حکم ہوا کے تمام گاڑیاں جن سے لوٹ مار کی گئی ہے ان کو مال واپس کیا جاۓ اور باقاعدہ طور پر وہ شخص ایدھی صاحب کے ہاتھ چوم کر معافی مانگنے لگا
مزید حیرت کی بات یہ ہوئی کے جب وہ ڈاکو ہمیں رخصت کرنے لگا تو 20 لاکھ روپے بطور چندہ ایدھی صاھب کے حوالے کیا ایدھی صاھب کے انکار پر بولا سر جب میرے جیسے گنہگار پولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں تو ہمارا کوئی رشتے دار ہماری لاش تک نہیں وصول کرتا اور ایدھی ہی ہماری لاش کو کفن دیتے ہیں اور دفن کرتے ہیں ۔۔۔ایک زمانہ تھا ڈاکو بھی آعلیٰ ظرف ہوا کرتے تھے
اب تو یہ زمانہ آ گیا ہے کے کل ایک ڈکیت نے ایدھی صاھب کے بیٹے سے ایک کروڑ کی ڈکیتی بھی مار لی اور بدبخت نے اس کو پہچانا بھی نہیں
واقعی زمانہ بہت بدل گیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY