ٹین ایج بچے کا مزاجی اور تعلیمی ڈپریشن .ممتاز ملک. پیرس

0
227

بڑھتے ہوئے بچوں کا تیز دوران خون اور ہارمونل چینجز کو سمجھنا بے حد ضروری ہوتا ہے . اس عمر کے بچوں کا پل پل بدلتا مزاج ، چڑچڑاہٹ ، ہٹ دھرمی اور اکثر تو بدتمیزی ان کے لیئے ہی نہیں ان سے منسلک رشتوں خصوصا والدین کے لیئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا .

ایسے میں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ان سے مقابلہ ہاتھ سے کرنا انتہائی بیوقوفی ہو گا.

بچوں اور خاص طور پر ٹین ایجرز کیساتھ دوستی اور بات چیت بے حد ضروری ہے. اس عمر میں اکثر بچے ماں باپ یا خصوصا ماں سے تکرار کرنے کی کوشش کرتے ہیں . (کیونکہ انکا زیادہ وقت ماں سے رابطے میں گزرتا ہے )

بولتے وقت انکا لہجہ نامناسب یا آواز ماں سے اونچی ہو جاتی ہے . اس وقت ماں یا باپ کا اس بچے سے مقابلہ کرنا انتہائی غیر ضروری ہے. صبر کیجیئےایکدم خاموش ہو جایئےاپنے تکلیف اور درد اپنی آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں جھانک کر عیاں کیجیئے اور اسے احساس ہونے دیجیئے .اس عمر میں اکثر بچے ماں یا باپ کی ناراضگی کو بھی نعمت سمجھتے ہیں کہ اچھا ہے ناراض ہیں.
نہ بات چیت ہو گی،نہ ہی ٹوکا ٹاکی کرینگے .

آپکے لیئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس وقت وہ بچہ توانائی اور طاقت کا ایک آتش فشاں ہے . اگر آپ نے اس کو سنبھالنے میں ذرا سی بھی غلطی کی تو یہ اپنے صحیح مقام کے بجائے کسی بھی غلط مقام پر جا پھٹے گا .اسے ایک ناسمجھ خود کش بمبار کہیں تو بلکل غلط نہ ہو گا .جو اپنے ساتھ بہت سے پیاروں کے لیئے عذاب بن سکتا ہے . اس توانائی کے بینک کو ٹھیک سمت میں استعمال کرنا بہت ضروری ہے . اس کی جسمانی توانائی کو کسی جم اور سپورٹس کلب میں استعمال کروایئے تاکہ وہ کسی سے جھگڑ کر اسے ضائع نہ کر بیٹھے .

آپ کو ناراضگی رکھنی ہے تو ایک دو دن تک رکھیئے لیکن اس سے بے خبر نہیں ہو جانا .

ضرورت کی بات کرتے رہیئے .

ہم میں جب لوگوں کے بچےلائق نکلے ہیں یا کچھ بن گئے ہیں انکی ماوں کے اکثر دعوے سننے میں آتے ہیں بہن ہم نے تو بڑی محنت کی ہے اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئیر اور سائنسدان بنانے میں ..
ساری رات آنکھوں میں تیل ڈال کر بچوں کے سرہانے دودہ کے گلاس لیئے کھڑے رہے تب جا کر کہیں یہ اس قابل ہوئے ہیں …
سب فضول باتیں ہیں اگر اسی فارمولے پر بچے پڑھتے تو آج ہر بہترین پوسٹ پر بڑی ڈگریوں والے کسی مزدور کلرک ریڑھی والے کے بچے کبھی نہ ہوتے . جن کی اکثریت انگوٹھا چھاپ تھی . اور کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی .

لہذا یہ بات تو دماغ سے نکال ہی دیں کہ کہ ہمارے بچے ہماری وجہ سے یہ بنیں گے یا وہ . اللہ پاک نے انہیں کسی نہ کسی صلاحیت سے ضرور نواز رکھا ہے . پہلے اپنے بچے کو اعتماد میں لیں .اس سے اس کی پسند پربات چیت کے ذریعے . اسے کونسا میوزک پسند ہے؟وہ کیسے کپڑے پہننا یا لڑکیاں کیسا میک اپ کرنا پسند کرتی ہیں آج کل. ..
اسے یہ مت کہیں کہ اسے یہ نہیں پہننا یا نہیں کرنا ..بلکہ اسے کہیں کہ اگر آپ اس کے بجائے یہ پہن کر یا یہ کر کے دیکھو تو کیسا رہیگا یا یہ ان پر اور بھی اچھا لگے گا …کیونکہ بچہ اس عمر میں کوی لیکچر سننے کے موڈ میں قطعی نہیں ہے اس لیئے “مت کرو ” کی بجائے”یہ کیسا رہیگا”یا “یہ زیادہ اچھا رہیگا ” کے جملے کا زیادہ استعمال کیجیئے .
(کیونکہ یہ اسے خودمختاری اور آذادی کا احساس دلائے گا اور آپ کی بات کی جانب متوجہ کریگا . آخر کو تعریف کسے اچھی نہیں لگتی .)
ان کی اچھے کام پر تعریف کیجیئے .
دوسروں کے سامنے اس کے اچھے کام کو، عادت کو سراہیں. پڑھائی سے بھاگتا ہے تو دیکھیں اور باتوں باتوں میں اسے یہ واضح کریں کہ کیا بچہ اپنے مضامین سے مطمئن ہے ؟
اس پر کسی مضمون یا تعلیمی ماحول کا پریشر تو نہیں ہے ؟یا وہ اپنے تعلیمی ماحول کو بدلنا چاہتاہے تو اسے اس کی فراخدلی سے اجازت دیجیئے ..
ہو سکتا ہے بچہ ماں کو اس کی آرزو سمجھ کر کسی مضمون میں مصنوعی دلچسپی دکھا رہا ہے.
اسے اگر انجینئر نہیں بننا اور وہ مصور بننا چاہتا ہے تو خدارا چونکیئے مت ..
ماں باپ کی خواہش یا دباو پر
ایک برے ڈاکٹر یا انجینئر بننے سے کہیں اچھا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک اچھا مصور یا فنکار بن جائے ..
آخر کو ہر بچہ صرف ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے لیئے تو پیدا نہیں ہوا .
ہو سکتا ہے وہ اچھا جیلوری ڈیزائنر بننا چاہے ..
وہ اچھا ڈی جے بننا چاہے
وہ اچھا آرکیٹکٹ بن سکتا ہو..
وہ اچھا گائیڈ ہن سکتا ہو..
وہ اچھا آرکیالوجسٹ بننا چاہتا ہو..
ہو سکتا ہے وہ اچھا استاد بن سکتا ہو …
(جو کہ ہم سب والدین میں سے کوئی بھی دل سے کبھی نہیں چاہتا ہو گا ذرا پوچھ کر تو دیکھیں کہ کیا آپ کا بچہ استاد بن جائے تو آپ خوش ہونگے ..اکثریت فورا تڑپ کر کہے گی ہیںننننن نہ نہ نہ یہ بھی کوئی کام ہے بھلا.
ہمارے ہاں استاد وہ ہی بنتا ہے جسے کہیں اور کام نہ ملے ..جبھی تو ہماری نسل کا یہ حال ہے )
یہ اس کے اندر چھپی صلاحیت یا شوق ہے جبھی وہ اس جآنب کو جھک رہا ہے ..
اسے اپنے مضامین بدلنے کا پورا اختیار دیجیئے اپنی خوشی کیساتھ .
اسے یقین دلایئےکہ
بچے کوئی تمہارے ساتھ ہو نہ ہو تمہاری ماں تمہارا باپ تمہارے ساتھ ہے .
تم جو بھی بننا چاہتے ہو پورے اعتماد کیساتھ میری رہنمائی میں بنو .
اسے احساس دلائیں کہ
ماں اور باپ سے اچھا کوئی دوست نہیں…?
اگر یہ سارے فارمولے بھی ناکام ہو جائیں
اس کے آگے اس بچے کا نصیب ہے . جو کچھ نصیب میں ہے وہ اسے ضرور بننا ہے . ہاں آپ اسے اکیلا مت چھوڑیں .
میں جانتی ہوں کہ یہ ایک ماں کے لیئے کڑا وقت ہوتا ہے .
اگر بچہ اپنا امتحان دینے کے لیئے تیار نہیں ہے تو بھی اسے مجبور مت کریں …
اسے بتائیں کہ نہ دو امتحان لیکن اس کے مشاغل سے یہ جاننے کی کوشش کیجیئے کہ وہ کن کاموں میں خوش ہوتا ہے . کیسی فلمیں دیکھتا ہے.
کیسی مصروفیت میں خوش ہوتا ہے . اسی میں اس کے مستقبل کا مضمون تلاش کیجیئے.
بچہ خود اکثر اس عمر میں سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کیا کر سکتا ہے..یہ عمر اس کا اپنی دریافت کا وقت ہوتا ہے اور اپنے بچے کو خود اپنی تلاش میں اس کی کی مدد کیجیئے .
یاد رکھیئے کہ
یہ کہیں زیادہ بہتر ہے بچہ اپنا ایک سال کھو دے،
بجائے اس کے کہ
وہ کامیاب ہونے کا اتنا دباو لے کہ آپ اپنا بچہ ہی کھو دیں.

ممتازملک . پیرس

SHARE

LEAVE A REPLY