اونٹ کے منہ میں زیرہ ۔ عالم آرا

0
134

جناب ٹرمپ صاحب ٹوئٹ کا استعمال صبح اُٹھتے ہی کرتے ہیں جیسے کہ کوئی ناشتے کے بغیر نہیں رہ سکتا جناب ٹوئٹ کے بغیر آنکھ نہیں کھول پاتے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو اکثر ٹوئٹ کی وجہ سے بڑا شور شرابا سننے کو ملتا ہے اور پیادے بیچارے تاویلیں دیتے نظر آتے ہیں ایسا ہی ایک ٹوئٹ پاکستان کے خلاف ہوا لیکن شاید جانتے نہیں کہ اکثر پاکستان کے خلاف کی جانے والی باتیں پاکستان کے حق میں جاتی ہیں مثلا“ عوام ایک ہو جاتے ہیں بڑے سر جوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور سینہ سپر ہو جاتے ہیں کہ ہم ذندہ قوم ہیں ۔ہم نے تمہاری جنگ لڑی جب کہ ہمارا نقصان ہی نقصان ہوا ،جانی بھی مالی بھی اور تم نے ہمیں ہمیشہ ہی منجدھار میں چھوڑا ۔افغان مہاجروں کی تعداد دیکھو ،جنہیں ہم نے ہر قسم کی سہولت دی انہوں نے کاروبار بھی جمائے اور فائدے بھی اُٹھائے ۔آپ کی یہ امداد تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہماری قربانیاں اور برداشت انتہاء سے زیادہ ہیں ہم دوستوں کے دوست ہیں اور ہم جب دوستی کرتے ہیں تو نبھاتے بھی ہیں چاہے ہمارا کتنا ہی نقصآن ہو اور ہم نے آپ کے ساتھ بھی بہت نقصان اُٹھائے ۔اب اگر ہمارے کسی مخالف کے کہنے پر آپ یہ بیانات داغتے ہیں تو ہمیں ایک نئی زندگی ملتی ہے کہ ہم اُن باتوں پر غور کریں جو ہمارے مسائل میں کہیں چھُپ جاتی ہیں ۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ دھوکہ کھا کر سنبھلنے کی مثال پیش کی ہے ،یہ اور بات ہے کہ ہم سے بُغض رکھنے والے ہماری تعریفوں میں کمی ہی نہیں بے جا کمی کرتے ہیں ۔
ایک اور ٹوئٹ آیا ہے خود ستائی کا ہم کیا کہیں دنیا کہہ رہی ہے بلکہ خود اُن کے لوگ اُ ن کی کتانبیں پولیں کھول رہی ہیں ہمارا کام آسان ہو گیا ہے ۔ہم نے تو کچھ عرصہ پہلے ہی ایک کالم لکھا تھا کہ ماہرَ نفسیات کی ضرورت ہے ۔اور شاید اب تو بہت لوگوں کو اس سہولت سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔کہ نفسیاتی بیماری عجیب و غریب ہوتی ہے کہ نظر نہیں اآتی اچھا بھلا آدمی اُٹھ کر جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ بیچارہ نفسیاتی مریض تھا ،یہ مرض ہمارے ملک میں بھی بڑوں میں پیدا ہو گیا ہے جو اب روز ہی دیکھنے کو مل رہا ہے ،
ہمارے ملک میں بھی یہ مرض دَر آیا ہے ہمارے لیڈر جو پردوں کے پیچھے چھپے رہتے ہیں اگر یہ عوام کے سامنے سب بات لائیں تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں ۔ہمارے سارے لیڈر ہر دم ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ ہمارے سینوں میں راز دفن ہیں مگر افسوس وقتَ آخر آجاتاہے اور یہ رازوں کا دفینہ سینےمیں دبائے اس جہاں سے بھی سدھار جاتے ہیں اور راز راز ہی رہ جاتے ہیں کیونکہ دوسرا لیڈر نئے راز وں کی تلاش میں لگ جاتا ہے تاکہ وقتَ ضرورت اس ترُپ کے پتے کو استعمال کر سکے ۔تاش کے پتوں میں ایک جوکر ہوتا ہے جو ہر پتے کی جگہ لے سکتا ہپے اور جس کھلاڑی کے پاس یہ جوکر آجاتا ہے وہ بڑی اکڑ سے کھیل کھیلتا ہے کیونکہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ یہ پتہ جسے جوکر کہتے ہیں اُسے جیت دلا دے گا ۔اسی طرح ہمارے نا اہل صاحب کے پاس بھی کچھ جوکر ہیں جو ہر دَم میاں صاحب کو جیت کی نوید دیتے رہتے ہیں کہاں تک صحیح ہمیں نہیں پتہ ،مگر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔
ہم بہت دُکھی ہوتے ہیں جب ہمارے تعلیمی نظام کی کمزوریاں سامنے آتی ہیں ۔ہم بہت دُکھی ہوتے ہیں جب ہمارے صحت کے ادروں کی کمزوریاں سامنے آتی ہیں ،ہمیں تکلیف ہوتی ہے جب ہماری عدلیہ پر ہر زہ سرائی ہوتی ہے ۔ہمیں ازیت ہوتی ہے جب ہمارے فوجیوں کو جو ہمارے لئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں برا کہا جاتا ہے ۔ہمیں دُکھ ہوتا ہے جب ہمارے اداروں کی بے حسی سامنے آتی ہے ۔اُس وقت ہم سوچتے ہیں کہ کاش راز نہ رکھے جاتے بلکہ سارا کچا چٹھا کھول دیا جاتا یہ راز صرف اور صرف الیکشن سے کچھ پہلے ہی کیوں یاد آتے ہیں؟ اُس سے پہلے یاد داشت کہاں جا سَو تی ہے ۔میاں صاحب مشَن پر ہیں کہ مجھے کیوں نکالا لیکن افسوس ابھی تک کسی نے اُن کا مسئلہ حل نہیں کیا ،افسوس تو ہمیں بھی ہے کہ کیوں نہ عدلیہ نے کُھگل کر بتایا کہ اقامہ صرف اقامہ نہیں تھا بلکہ پیسوں کی ایک راہداری تھی ،اگر یہ بات ٹھیک تھی تو کھل کر کہنا چاہئے تھا تاکہ بیچارے کشکول لئے سب کے سامنے تو نہ پھرتے جب کہ وہ طائرَ لا ہوتی کو بہت پکارا کرتے تھے آج کل شاید طائر ِ لا ہوتی کہیں اُڑ گیا ہے ۔کیونکہ میاں صاحب اب نئے نئے شعر پڑھنے لگے ہیں ۔اور ہر ایک کے سامنے ہاتھ بھی پھیلا رہے ہیں کہ کوئی تو بتاؤ کہ کیا ہوا ہے ؟ یہ کیسی ہوا چلی ہے ملک میں کہ میری کوئی نہیں سُن رہا ،کوئی جج قابو نہیں آرہا ،ماجرا کیا ہے ؟ میاں صاحب نئی ہوا چلی ہے جس کے آپ عادی نہیں ہیں بلکہ اب اور جن پر ہاتھ ڈلینگے وہ بھی بلبلائینگے کہ دولت کا حساب نہ دینا آسان ہوتا ہے نہ لینا اور جب دولت اندھے طریقے سے حاصل ہوئی ہو تو ۔۔۔۔۔۔
سب باتیں اپنی جگہ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم سب نے مل کر ملک کو نوچ کھایا بغیر کوئی ثبوت چھوڑے ۔اگر ہم تھوڑا سا بھی ملک کا قرض اُتارنا چاہتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے اُس ملک کے لئے جس میں ہم آزادی سے سانس لیتے ہیں پیٹ بھرا ہو یا نہ ہو آزاد رہتے ہیں ۔چاہے چھت کے بغیر سوئیں آزادی سے سانس لیتے ہیں ۔یہ بیڑیاں ہمارے پیروں میں ہمارے شُرفاء نے ڈالی ہیں جنہوں نے صرف اور صرف اپنے لئے اس ملک کواستعمال کیا اور ڈھنڈورا پیٹا کہ ہم جو بھی کر رہے ہیں عوام کے لئے ہے ۔
ہم کہتے ہیں کہ جیسا سعودی عرب میں ہورہا ہے ایسا ہی کر کے دیکھو اپنے ملک میں گیارہ شہزادے پکڑے گئے جو بجلی کے بلوں کی ڈیمانڈ کر رہے تھے ،ہمارے قرضے بھی اُتر جائینگے اور خوشحال بھی ہو جاؤگے ۔پارلیمنٹیرین کے بے جا خرچوں پر پابندی لگا دو ۔جو گھر ہوتے ہوئے گھروں کے کرائے لیتے ہیں وہ واپس لے لو ،سیکیورٹی میں کمی کر د و ،بجلی کے بل اور پٹرول کے پیسے بند کردو ،اتنا پیسہ جمع ہو جائیگا کہ قرضوں کی ایک قسظ بہ آسانی اُتر جائیگی ۔
ہمارے جیسے ملک ان اللوں تللوں کے متحمل نہیں ہوتے جن کا وطیرہ ہم نے اپنایا ہوا ہے تبدیلی لانی ہے تو قُربانی کی بات کرو ۔سہولتوں کی قربانی ،عیاشیوں کی قربانی ۔
ہم سے محبت کرنے والے ہماری بسوں میں چھوٹی کاروں میں سفر نہیں کر سکتے ،ہمارے اسپتالوں میں علاج نہیں کرا سکتے ۔اُن کے بچے ہمارے اسکولوں میں نہیں پڑھ سکتے ۔وہ ،وہ پانی نہیں پی سکتے جو ہم پیتے ہیں ،وہ ،وہ آٹا نہیں کھاسکتے جو ہم کھاتے ہیں ،انہیں یہ نہیں پتہ کہ ملک میں کون کون سے علاقے ہیں وہ صرف مری کی پُر فضا وادیاں جانتے ہیں خوبصورت سہانے منظروں کے شہر جانتے ہیں انہیں کیا پتہ تھر کس طرح تپتا ہے وہ کیا جانیں دیہی علاقے کی کیا مصیبتیں ہیں ۔بس ایسے ہی تو ہوتے ہیں حکمران ۔
ملک میں اُبال اُٹھ رہا ہے ہماری دعا ہے کہ جب دیکچی سے باہر اُبال گرے تو سارا گند سارا کچرا باہر نکل جائے اور صرف اور صرف خالص اور سچی چیزیں باقی بچ جائیں انشاء اللہ
موقے بار بار نہیں ملتے اور ہمیں تو بہت دفعہ یہ موقہ ملا کہ ہم خود کو ٹھیک کریں مگر ہم نے کبھی توجہ ہی نہیں دی اب اگر عقل آئی ہے تو خدا را یہ نہ دیکھو سامنے کون ہے یہ دیکھو کہ ملک کا فائدہ اور طاقت کس بات میں ہے ۔
ہم نے ہمیشہ دوسروں پر اعتماد کیا چاہے سعودی عرب ہو یا امریکہ اور بر طانیہ اب خود پر اعتماد کر کے دیکھو ۔یہ لوگ صرف ہمارے لوگوں کو فلیٹ دیتے ہیں سہولتیں مہیا کرتے ہیں ملک کی بے وفائی کے صلے میں۔ اپنے ملک میں رہنے دیتے ہیں ان سب سے بچو ،اپنے پیروں پر کھڑے ہو کچھ دن گُڈلیوں چلو گے پھر کھڑے ہو جاؤگے اور اس کے بعد اگر سچائی اور محنت پر قائم رہے تو بھاگنے بھی لگو گے ۔پھر کیسا ٹرمپ کہاں کا شہزادہ اور کیسا پڑوسی ۔سب اختیار میں ہونگے ۔
ٹرمپ کو اُن کے اپنے لوگ ہی جواب دے رہے ہیں اس لئے وقت ضائع کرنے کی شاید ضرورت ہی نہیں ہے ۔
اللہ ہمارے ملک کو اَن دیکھے دشمنوں سے محفوظ رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY