آج کل جس طرح کُھل کر ہمارے ووٹ کی عذت کی جارہی ہے وہ قابلِ دید ہی نہیں قابلِ شرم بھی ہے ۔وہ لوگ جو سالوں سے پاکستان کی اسمبلیوں میں براجمان ہیں اُن کا حشر دیکھ کر دل پریشان بھی ہوتا ہے اور خوفزدہ بھی ۔ یہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ہم کس قماش کے لوگ ہیں ۔اور کیسے کیسے لوگوں کو اسمبلی کی زینت بناتے ہیں جنہیں ملک کی کوئی فکر نہیں ہے ۔صرف اور صرف اپنے مفادات اور اپنی بے ایمانیاں چھپانے کے لئے کس حد تک جاتے ہیں کہ قوم اور ملک کہیں نظر نہیں آتے ۔
یہ مہنگائی کا رونا رونے والے کیا اپنے ادوار پر نظر کریں گے ؟ پی پی پی کا دور ہو یا نون لیگ کا ہر دور میں ہمارے گھروں کے بجٹ فیل ہوئے ہیں بلکہ سفید پوش بھی ملک کی طرح قرضوں میں ڈوبا ہے ۔لیکن شاید یہ لوگ صرف صرف اےسی کے کمروں میں بیٹھ کر سوٹ ٹائی لگا کر ہی مہنگائی کا رونا رو سکتے ہیں ، یا پھر اسمبلی مفلوج کر کے اپنے لئے راہیں کھول سکتے ہیں ۔اگر اب بھی ہم ان مافیا کے ہاتھوں میں رُلے تو شاید پھر کبھی ان سب سے جان چھوٹنے کا موقعہ نہ مل سکےگا ،
چیخین اس لئے نکل رہی ہیں کہ ہر کرپٹ ادارہ تبدیل ہو رہا ہے ۔ملک کو جن تبدیلیوں کی ضرورت ہے اُن پر توجہ لازمی ہونی چاہئے ،لیکن جس طرح کچھ میڈیا چینل افرا تفری پھیلا رہے ہیں اُن پر بھی نظر کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی مشکل آئے اُس سے نمٹنے کے لئے سب ایک ہو جاتے ہیں یہاں اتنے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہم نے آسمانی آفتوں اور زمینی مشکلوں میں دس دس دن تک لائٹ کے بغیر لوگوں کو دیکھا ہے لیکن کوئی حکومت پر الزام نہیں دھرتا ۔پٹرول کی قیمت ہر صبح نئی ہوتی ہے کم تو شاز و نادر ہی ہوتی ہے لیکن کوئی حکومت پر الزام دھرتا یا چیخ و پکار کرتا نظر نہیں آتا ہر کوئی اپنی اپنی سہولت نکالتا ہے کوئی سائیکل پر جاتا ہے تو کوئی بسیں پکڑتا ہے ۔لیکن ہم نے اس طرح یہاں کسی کو روتے نہیں دیکھا جیسا ہمارے ملک کا حال ہے کہ کچھ بھی ہو ہمیں خود کچھ نہیں کرنا بس طوفانِ بد تمیزی مچانا ہے ۔امریکہ میں ہر سردی کے موسم میں ھیل یعنی اولے پڑنے سے لوگوں کی کاریں تباہ ہو جاتی ہیں کوئی حکومت پر الزام نہیں دھرتا ہمارے ملک میں بارش سے پریشانی آئے تب ہم حکومت کو الزام دیتے ہیں گرمی سے پریشانی ہو تب حکومت زمے دار ٹہرتی ہے ۔کیونکہ ہم نے اختلاف کو ملک کے مسائل کے لئے نہیں استعمال کیا بلکہ ہمیشہ اختلاف صرف اور صرف عہدہ بچانے یا نیچا دکھانے یا اپنے لیڈر کو کسی بھی صورت بچانے کے لئے کیا ہے ۔سردی ہو تب حکومت زمے دار گرمی ہو تب حکومت کی خطا لیکن اپنے بے جا اصراف پر ہم نے کبھی نظرنہیں کی ایک ایک گھر میں چار چار اے سی چلتے ہیں سارا سارا دن ہم رونا روتے ہیں لوڈ شیڈنگ کا ہم نے ہر مشکل کو حکومت کی طرف سے سمجھا قدرت کی طرف سے نہیں اللہ ہمیں معاف کرے ۔ہم نے کفایت شعاری کو اپنی زندگیوں سے نکال پھینکا ۔اگر ہم اپنے لوگوں کو اس قابل کر دیتے کہ وہ اپنے مسائل سے خود نمٹنے کی صلاحیت پیدا کریں تو شاید محلے اور علاقے کے لوگ خود ہی اپنی اپنی مشکلوں سے نمٹتے اور بہتر ماحول بنتا ۔بلکہ ہمیشہ ہی بلدیاتی اداروں کو کمزور اور اپنے مطلب کی خاطر بنایا جس نے ہمیں ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف رکھا ۔اگر لوگوں کو زمے داریاں دی جائیں تو زیادہ بہتری آئیگی ۔
ہماری تمام تر توجہ صرف اور صرف اپنے لیڈروں کو فرشتہ ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے ،جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک نااہل اور سزا یافتہ لیڈر کو کارکُن جیل تک چھوڑنے گئے ۔ایسا بیمار جس نے غلط بیانی کی کورٹ میں لیکن کوئی بات نہیں نہ عدلیہ اُسے پوچھ سکتی ہے نہ ریاست اُس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے ۔پھر جس طرح جیل کا وقت ختم ہونے کے باوجود انہیں کوٹھری میں لے جایا گیا وہ بھی قانون کا مزاق اُڑانا ہے ۔لیکن جب قانون خود ہی کمزور ہوتا نظر آئے توپھر یہ لوگ کیسے نہ طاقتور بنیں ۔ہمیں تو حیرت یہ ہی ہے کہ کسطرح کھلواڑ کیا جارہا ہے عدلیہ سے اور خاص کر لاہور ھائیکورٹ جس طرح ضامنت پر ضمانت دئے جا رہا ہے ۔کیا عدل اسی کا نام ہے ۔
یہ طاقت دینا ہے اُن مافیاز کو جو اب تک ملک کی تقدیر سے کھیلے اور اب بھی اتنے ہی طاقتور ہیں ۔کیا اُن کا جیل جانا کوئی فائدہ دے سکا ملک کو ۔کیا لوٹٰی دولت واپس آنے کا کوئی امکان ہے ۔اب تک تو ہمیں شائیبہ بھی نظر نہیں آیا جس دن یہ کارنامہ ہو گیا ہم سمجھیں گے کہ پاکستانی عوام گنگا نہا گئے ۔کاش بہت پہلے ان کی گرفت ہو جاتی ۔
ہم نے ایک ممبر کو اسمبلی میں کہتے سنا کہ ہم خود کشی کے منتظر ہیں ۔ہم نے غور سے دیکھا یہ ایک مولانا تھے ہم نے آنکھیں بند کر لیں ۔کیونکہ ہم ان لوگوں سے ایسی باتوں کی امید نہیں رکھتے ۔بے شک یہ خود کشی ہی ہے کہ انسان اُس طرف قدم لے جائے جہاں جانے کا اُس کا دل اُس کا دماغ گواہی نہ دیتا ہو لیکن وہ اس قدر مجبور ہو کہ اُسے اپنی طبیعت کلے خلاف اپنی سوچ کے خلاف وہ عمل کرنا پڑے جسے وہ اپنے ملک کے لئے ٹھیک نہیں سمجھتا ۔مگر مولانا صاحب جان بچانے کے لئے حرام بھی کھایا جا سکتا ہے ۔ اگر ملک کو بچانے کے لئے کوئی نا پسندیدہ کام کیا جارہا ہے تو اُس کے محرکات آپ جیسے لوگوں کی وجہ ہی سے پیدا ہوئے کیونکہ آپ نے حکومتوں میں رہ کر ان کا ہر برے سے برے فیصلے میں ساتھ دیا اور ملک کو قرض کی دلدل میں دھکیلا ۔کاش آپ سب نے اسمبلیوں کو اسمبلیاں بنایا ہوتا ان میں بیٹھ کر ملک اور قوم کے لئے فیصلے کئے ہوتے ۔عوام کی خٰیر خواہی کو سامنے رکھا ہوتا ہم نے توآپ کو کبھی کسی بھی مسئلے پر بولتے نہیں سنا سوائے اپنے فائدے کے ۔
ہماری تو صرف ایک ہی سوچ ہے کہ جب تک سب کچھ کنگھال نہیں دیا جائے گا بہتری نہیں آئیگی ۔اور جب یہ سب کچھ کیا جائیگا تو سب سے زیادہ مخلفت سامنے ہوگی ۔ہمیں امید ہے کہ یہ دورِ حکومت ہمیں کچھ اچھے نتائج ضرور دے دے گا ۔جس شعبے کی بات کریں ایسی ایسی ھیرا پھیری نظر آرہی ہے کہ شاید ہی کسی ملک میں اتنی تباہی پھیلائی گئی ہو ۔اداروں کو اس طرح کمزور کیا گیا ہو ۔لوگوں کو اس طرح بے حسی میں مبتلا کیا گیا ہو ۔چاہے تعلیم جیسے ادارے ہوں یا صحت کے کوئی جگہ باقی نہیں چھوڑی ۔کیسی قوم ہیں ہم ۔کیا کردار ہیں ہمارے ہم نے ہر مقدس پیشے کو تجارت بنا دیا ،کاش ہم سب ہی اپنے اپنے کردار پر نظر کر سکیں ۔ہم نے ملک کو کیا دیا اور ملک نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا یا ۔
شریف لوگوں کو جس طرح چھوٹ پر چھوٹ دی جارہی ہے وہ جاری و ساری ہے ۔ضمانتیں دینا کوئی نئی بات ہی نہیں ہے ۔کتنا ہی بڑا مجرم ہو ضمانت کا حق دار ٹہرتا ہے ۔اور ہمارا منہ چڑاتا ہے کہ تم کیا سمجھتے تھے ہم پر قابو پا لوگے ؟؟؟
پاکستان ہے تو ہم سب ہیں اگر خدانخواستہ ہم نے اسے نقصان پہنچادیا تو کوئی جگہ قدم جمانے کو نہ ہوگی ۔پڑوسی ملک میں ہمارے لوگوں کا حال سب کے سامنے ہے ۔اگر سوچیں تو شاید اپنی جان سے زیادہ اس ملک کی حفاظت پر توجہ دیں ۔ کاش ان خاندانوں کی سیاست سے نکل آئیں اور صاف ستھری سیاست کو اور اچھی زبان کو فروغ دیں تاکہ ہم ایک مہذب قوم بن سکیں ،ہماری صلاحٰتیں خدا داد ہیں ہمیں کسی بھی ملک کے مقابلے میں لے آؤ ہمارے جوان سب سے منفرد نظر آئینگے ۔کاش ہم انہیں ضائع نہ کریں ان سے اپنے ملک کے لئے ہی کام لے لیں ۔انہیں عذت دیں ۔اپنے لوگوں کو کم نہ سمجھیں جیسا کہ آج کل کچھ نئے عہدے دئے جانے پر تنقید کی جارہی ہے ۔اپنوں کو آزماؤ ۔وہ ہی ہمیں گرداب سے نکالینگے ۔شرط یہ ہے کہ اچھے اور با وقار اپنے وعدے کے پکے لوگ ہوں ۔
جب صفائی کی ٹھان لی ہے تو بس صفائی پر توجہ دو ۔ ہر شعبے کو صاف ستھرا کر دو کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔
اللہ میرے ملک کو ہر مشکل سے نکال دے آمین













