تاریخی شہر لاہور کے ایک قدیمی علاقے میں الطاف فاطمہ کی رہائش گاہ ’کنج گلی ‘ میں بیٹھے ہوئے میں سوچ رہی تھی، کہ اس گلی کے مکینوں کو یہ علم ہی نہیں کہ ان کے درمیان دنیائے ادب کی وہ ہستی مقیم ہیں ساٹھ کے عشرے ميں جنکے ناول ” دستک نہ دو” نے پاکستان کے ادبي حلقوں ميں بالکل ويسي ہي ہلچل مچا دي تھی جيسے بھارت ميں قرۃ العين کے ناول ’آگ کے دريا‘ نے۔

يہ حقيقت ہے کہ اردو ادب کي دنيا ميں حاجرہ مسرور خديجہ مستور اور حجاب امتياز علي جيسي سنجيدہ ادب لکھنے والوں کي صف اول ميں الطاف فاطمہ بڑے طمطراق سے کھڑي نظر آتي ہيں مگر نہ جانے کيوں اگر ادبی نکتہ نظر سے ديکھا جائے تو الطاف فاطمہ کو وہ شہرت اور پزيرائی نہيں ملي جسکي وہ مستحق تھيں، اسی ناول
”دستک نہ دو” پر مبنی پاکستان ٹیلی ویژن کی ڈرامہ سیریل ان میں سے ایک تھی جسے دیکھنے کے لیۓ لوگ انتظار کیا کرتے تھے اور مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اکثر کاروباری لوگ ڈرامہ ٹیلی کاسٹ ہوتے وقت اپنا کاروبار سمیٹ کر ٹی وی کے سامنے براجمان ہو جاتے تھے۔

دشت ادب کی سیاحی میں کئی عشرے گزارنے والی الطاف فاطمہ کا پہلا افسانہ انيس سو باسٹھ ميں لاہور کے موقر ادبي جريدے ’ادب لطيف‘ ميں شائع ہواتھا۔ ان کے تين ناولوں ’دستک نہ دو‘’ خواب گھر‘ اور ’چلتا مسافر‘ کے علاوہ افسانوں کے دو مجموعے ” تار عنکبوت” اور ” ديواريں گريہ کرتي ہيں ” شائع ہو چکے ہيں ۔

altaf fatima

الطاف فاطمہ ناول نگار اور افسانہ نگار تو ہیں ہی، مگر وہ اپنا سب سے بڑا اعزاز اپنے استاد ہونے کو سمجھتی ہیں۔

الطاف فاطمہ لاہور میں لڑکیوں کے ایک ڈگری کالج میں شبعہ اردو کے سربراہ کی حثیت سے ریٹائر ہوئیں، اسقدر گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہی ہیں کہ ادب سے وابستہ بہت سے بڑے ناموں کو بھی یہ تک علم نہیں کہ الطاف فاطمہ کہاں رہتی ہیں۔

گزشتہ برس 2016 میں شائع ہونے والا ان کا ناول ’ چلتا مسافرٌ سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر ہے، اس ناول کو پڑھتے ہوئے اپنی قومی تاریخ کے اس المیے پر قاری کي آنکھیں آنسوؤں کی تپش سے جلنے لگتي ہيں۔ یہ کیفیت صرف قاری ہی کی نہیں خود اس ناول کی خالق الطاف فاطمہ کی بھی تھی ان کا کہنا تھا کہ اسے لکھتے ہوئے میں اسقدر دل شکستہ تھي کہ بقول انکے
” قلم بار بار رکتا تھا اور کہيں دس برس ميں يہ ناول مکمل ہوا”

الطاف فاطمہ سے ملنے انکے گھر تک پہنچنے کی کہانی خود میں ایک المیہ ہے۔ ان کے گھر ’ کنج گلی‘ کی تلاش کے دوران انکشاف ہوا کہ خود ان کی گلی کے باسیوں کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ کوئی الطاف فاطمہ بھی یہاں رہتی ہیں، ناول نگار تو دور کی بات ، خیر میں کسی نہ کسی طرح انکي رہائش گاہ پر ملاقات کے لیۓ پہنچی تو وہ خود ذرا سی حیرت زدہ تھیں کہ میڈیا کے کسی فرد کو ان سے بات کرنے کا خیال کیوں کر آیا۔

آن کے انتہائی سادہ سے گھر کی چوکی پر گاؤ تکیے کے ساتھ رکھا ان کا پاندان ان کی تہذیب کا آئینہ دار تھا۔

مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا الطاف فاطمہ جیسی معتبر ادبی شخصیت سےبات کہاں سے شروع کروں۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمارا معاشرہ آج بھی غالب طور ہر مردوں کا معاشرہ ہے لیکن جب الطاف فاطمہ نے لکھنا شروع کیا اس وقت کیا کیفیت اور صورت ہو گی۔ ذہن میں یہی خیال تانے بانے بن رہا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ کيا آپ نے کبھي سوچا کہ شہرت اور پزيرائی کے حوالے سےاگر آپ مرد ہوتيں تو صورت حال مختلف ہوتی۔ الطاف فاطمہ نے جیسے پورے یقین سے کہا ” اگر ميں مرد ہوتي تب بھي ايسا ہي ہوتا۔ يہ تو اپنے اپنے مزاج پر منحصر ہے۔ ہم جيسے جو اب نظر انداز ہو رہے ہيں تب بھي ايسے ہي ہوتے۔ ہميں نہ آگے آنے کا شوق ہے نہ تصويريں اتروانے کا اور نہ اپنے ساتھ سيشن کروانے کا۔ ميرا خيال ہے کہ جنس بدل جانے سے رويے نہيں بدلتے”۔

رویوں کی بات چلی تو میں نے الطاف فاطمہ سے پوچھا کيا مرد اديب اور عورت اديب کے رويے ميں کوئی فرق ہوتا ہے۔ کہنے لگیں ” کبھي نہيں۔ ہر گز نہيں۔ ميں مرد عورت کا کوئی فرق محسوس نہيں کرتي اور ميرے ساتھ اس لیۓ کبھي زيادتي نہيں ہوئی کہ ميں عورت ہوں البتہ عورتوں کے دل بعض اوقات چھوٹے ہوتے ہيں اور وہ بعض اوقات کسي کي زيادہ مقبوليت کو پسند نہيں کرتيں۔ جہاں تک ميرا اپنا تعلق ہے تو ميرے پورے گھرانے ميں مرداور عورت يا لڑکے اور لڑکي کا قطعي کوئی فرق نہيں تھا۔ سچي بات تو يہ ہے کہ مجھے تو اپنے والدہ کي طرف سے بے انتہا حوصلہ افزائی ملي۔ ميں جس وقت بي اے کر رہي تھي اور لکھنا شروع کيا تو ميري سب سے پہلي تحرير کو ميري والدہ نے بہت سراہا جس سے ميرا حوصلہ بندھا”۔ الطاف فاطمہ اپنی رواں تحریر کی طرح پوری روانی سے بول رہی تھیں۔ میں نے اس روانی کو لمحے بھر کے لیۓ روکا اور پوچھا کہ آپ نے اب تک صرف تين ناول لکھے۔ میں شاید مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن الطاف فاطمہ فوراً بولیں کہ ’ بی بی اچھا لکھنے اور زیادہ لکھنے میں فرق ہے۔ اصل ميں ميں بہت آہستہ لکھتي ہوں۔سقوط ڈھاکہ پر ميں نے اپنا ناول چلتا مسافر دس برس ميں مکمل کيا تھا۔ ميں جب تک کسي کہاني کسي موضوع يا کسي دکھ ميں ڈوب نہيں جاتي لکھ نہيں پاتي۔‘

کیا ناول کے مقابلے ميں افسانہ لکھنا قدرے آسان ہے۔ اس سوال پر الطاف فاطمہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا ” ہر گز نہيں۔ چھوٹا افسانہ لکھنا بہت محنت اور مشقت کا کام ہے، چھوٹا افسانہ تو غزل کي طرح ہوتا ہے۔ کسي مختصر ہيت ميں اپني تمام فکر کو سمونا بہت مشکل کام ہے”۔

باتیں جاری تھیں کہ چائے آ گئی، چا ئے کے ساتھ الطاف فاطمہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی امرودوں کی چاٹ بھی، اس دوران گفتگو بھی جاری رہی۔ میرے اس سوال پر کہ آپ اپني پہچان کس طور پر پسند کريں گي ناول نگار يا پھر افسانہ نگار کے طور پر۔ الطاف فاطمہ کا فوری اور برجستہ اور بڑے ہی تیقن سے جواب دیا ’ نہ ناول نہ افسانہ نگار ميں تو ايک استاد ہوں۔ ميرے شاگرد ميرے افسانے ہيں۔

ميں نے اپنے شاگردوں ميں جو جزبہ اور ادب شناسي پيدا کي ہے وہی ميری زندگي کا سرمايہ ہے‘۔

میں نے جب ان سے کچھ ان کے ہم عصروں کي تحريروں کے بارے ميں جاننا چاہا تو کہنے لگیں ” سب نے ہي وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر لکھا ہے البتہ مجھے انتظار حسين کا ناول ” آگے سمندر ہے” بہت پسند ہے مگر نہ جانے کيوں ميں يہ محسوس کرتي ہوں کہ ہمارے ادب ميں وہ شدت کبھي نہيں آئی جو دوسري عالمي جنگ کے بعد يورپي اور روسي ادب ميں نظر آئی اور پھر ہمارے بعض اديبوں نے اشاريت اور تجريديت سے اسقدر کام ليا کہ عام قاری تک انکي بات پہنچ ہي نہيں سکي۔‘

altaf fatima2

بات سے بات نکلتی رہی موضوعات بدلتے رہے لیکن بدلتے ہوۓ موضوع بھی ادب کے حصار میں ہی تھے۔ بات ادبی حلقوں تک پہنچی تو میں نے پوچھا کہ کيا وجہ ہے کہ آپ ادبي حلقوں ميں بہت کم نظر آتي ہيں۔ الطاف فاطمہ ذرا سنبھل کر بیٹھیں اور گویا ہوئیں ” ايک تو ميري طبيعت ٹھيک نہيں رہتي مگر دوسری اہم ترين وجہ يہ ہے کہ ميں يہ محسوس کرتی تھی کہ مجھے ادبي حلقوں ميں کوئ پزيرائی نہيں مل رہي اس لیۓ ميں الگ تھلگ ہو گئی مگر اس سے ميرا تخليقي سفر رکا نہيں وہ جاری ہے۔ حال ہي ميں ميں نے جنوبي افريقہ کي تمام کہانیاں لکھنے والی خواتين کي مختصر کہانيوں کا ترجمہ کيا ہے جو ادب لطيف ميں شائع ہوتا رہا ہے”۔

خواتین کے ذکر پر میں نے پوچھا کہ آجکل خواتين کيسا لکھ رہي ہيں۔ الطاف فاطمہ نے قدرے غیر مطمئن سے انداز میں کہا ”بس جيسے جيسے انکے تجربات ہيں اس حساب سے تو ٹھيک ہي لکھا جا رہا ہے مگر کينيڈا امريکہ اور برطانيہ جيسے مغربي ممالک ميں جو خواتين اردو افسانے لکھ رہي ہيں انہيں پڑھ کر بعض اوقات احساس ہوتا ہے کہ جيسے صرف ملک سے باہر ہونے کا اظہار کيا جا رہا ہو ويسے کچھ اچھا کام بھي ہو رہا ہے۔‘

ان دنوں اکثر ادیبوں کو قارئین کی تعداد میں کمی کا بے حد شکوہ ہے اور اکثر اس صورت حال سے بہت بد دل بھی کہ آخر کس کےلیے لکھا جائے۔ الطاف فاطمہ کا بھی یہ ہی خیال تھا، کہ ’ ہاں قاری کی تعداد بہت ہي کم ہوگئی ہے، مگر قدرتی سی بات ہے کہ ٹی وی کے مختلف چينلز اور کيبل اور پھر ڈش، کمپیوٹر وغيرہ ان سب نے مل کر قاری کي تعداد کو متاثر کيا ہے مگر اس صورت حال کے باوجود اب بھي ادب شناس گھروں ميں لوگ کتاب پڑھتے ہيں۔‘

اس سوال پر کہ نئ نسل تک آپکي بات نہيں پہنچ رہي۔

مکمل اتفاق کے لحجے میں کہنے لگیں ”ميں اس بات سي بالکل متفق ہوں اور اکثر کہتي ہوں کہ ہمارے اديب اپني تشہير پر زيادہ توجہ ديتے ہيں۔ نئی نسل تک ادب کیسے پہنچایا جائے، آج کا اديب کوئی خاطر خواہ تگ و دو نہيں کر رہا”۔
تو ایسے منظر نامے میں کيا آج سے پچيس تيس برس بعد کوئی انتظار حسين يا احمد نديم قاسمي يا الطاف فاطمہ کے نام سے واقف ہو گا، میں نے پوچھا۔

الطاف فاطمہ نے جواب میں خاصی ذمے داری میڈیا پر ڈالتے ہوئے کہا ” ہاں اگر ہمارا ميڈيا اپني ذمے داری سمجھے تو کچھ ہو سکتا ہے مگر ہمارے ہاں بہت زيادہ زور تفريح پر ہے خاص طور پر ايسے سنجيدہ پروگرام جن سے ذہني سطح بلند ہو، نہ ہونے کے برابر ہيں”۔

گفتگو جاری رکھتے ہو ئے ان کا کہنا تھا ” ميری کتابيں ميری سب تخليقات ميرے شاگرد يہ سب ميرا حاصل زندگي ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ ميری کچھ تخليقات اب بازار ميں ميسر نہيں گويا آؤٹ آف پرنٹ ہيں۔ کچھ عرصے قبل ايک صاحب مہربان دوست بن کے آئے اور میرے سارے افسانے شائع کرنے کے وعدے کے ساتھ لے گۓ ايک دو شائع بھي کيۓ ليکن پھر غائب۔ اب نہ جانے وہ سب کہاں ہيں اور ميرے پاس انکا کوئی ثبوت بھي نہيں”۔

گو کہ گفتگو خاصی طویل ہوچکی تھی مگر میں اپنے ذہن میں اٹھنے والے ایک سوال کا جواب لیے بغیراٹھ نہیں سکتی تھی۔ میں نے
الطاف فاطمہ کا نام شاید کبھی بھی بیرون ملک جانے والے کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادبی وفد کی فہرست میں نہیں پڑھا۔ بہت سے ادیبوں سے لندن میں بھی ملاقات رہی، مگر الطاف فاطمہ کبھی ایسے کسی گروپ میں شامل نہیں رہیں۔ میں نے اپنے خیال کی تصدیق کے لیۓ پوچھ ہی لیا کہ آپکو کيا کسی ادبی قافلے کے ساتھ باہر جانے کا اتفاق بھي ہوا؟ جواب میں شکوے یا تاسف سے زیادہ ارباب بست و کشاد کی بے حسی اور بے اعتنائی کی طرف اشارہ تھا۔ کہنے لگیں ” کبھی نہيں۔ اديبوں کے بڑے بڑے وفد ملک سے باہر جاتے رہے انہيں سرکاري سرپرستی بھي حاصل رہی ليکن مجھے ہميشہ ايسے نظر انداز کيا گيا جيسے ميرا کوئی وجود ہی نہيں۔ ميں دل ميں بہت کڑھتی رہی خاص طور پر يہ سوچ کر مجھے بہت تکليف ہوتی تھي کہ ہم جنہیں منصف سمجھتے ہيں اور وہ بھی جو اپنی تحریروں میں سماجی نا انصافیوں کی بات کرتے ہیں، بے انصافی کي حد توخود انہيں کي دہليز سے شروع ہوتي ہے۔‘

اس کے بعد مزید کسی سوال کی گنجائش بھی کہاں تھی۔

پہلی مرتبہ یہ انٹرویو تین اگست دوہزار سترہ کو شائع ہوا

ماہ پارہ صفدر

SHARE

5 COMMENTS

  1. No wonder Altaf Fatima was not popular. She :was recklessly blunt. did not tow the party line, so not popular with the Red Talibaan (Just look at how Fehmida Riaz is being canonized by the Red Talibaan who by the have a monopoly over the media).did not write a Gender Bias Nauha.

  2. ناقابل فراموش شخصيت اپنی زندگی میں ہی نظر انداز رہی اسکی وجہ بھی وہ خود تھی ۔ نہ سرکاری اعزازات کی غرض نہ انعامات و اکرامات کی طلب ۔ نہ خودستاش نہ خوشامد ۔ ایسے اشخاص معاشرے میں سے کب مطابقت رکھتے ہیں ۔

LEAVE A REPLY