میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ تخلیق خالق کا خود کو پرکھنے، خود سے ملاقات کا زریعہ ہوتی ہے۔ ہم بھی خالق کے بے شمار رنگوں میں سے وہ رنگ ہیں جنہیں کینوس پر بکھیر کر وہ اپنی تخلیق کو سراہتا ہے، خوش ہوتا ہے۔ کہانی شائید اتنی سی ہے جسے ہر کسی نے اپنی مرضی کا رنگ دیا اور اپنی مرضی کا مطلب دے کر رنگوں کو رنگوں سے ہی نفرت سکھا دی۔ انسانوں کو انسانوں سے ہی نفرت سکھا دی۔ معاشرے نے ہمیں چند مخصوص سانچے بنا دئیے اور اب ہم سب کی شعوری اور لاشعوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم نہ صرف خود ان سانچوں میں ڈھل جائیں بلکہ ہم دوسروں کو بھی اسی سانچے میں ڈھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی خالق کا بنایا انوکھا اور خوبصورت رنگ نظر آجائے جو اس معاشرے کے بنائے سانچوں میں ڈھلنے کے بجائے اپنی ایک الگ پہچان بنائے تو ہم نہ صرف اس بات کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ ہاتھ میں پتھر لیے سنگسار کرنے پہنچ جاتے ہیں۔
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر نارتھ ناظم آباد کے ایک اسسٹنٹ کمشنر حاظم بنگوار کا بڑا چرچا رہا اور لوگ بڑی شدت سے ان کے حلیے اور زندگی گزارنے کے انداز پر تنقید کرتے رہے۔ حاظم بنگوار جو ایک پڑھے لکھے انسان ہیں۔ جنھوں نے یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی کیا اور فیشن ڈیزائیننگ میں بھی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں دورانِ سیلاب وہ اپنی خدمات کے لیے پیش پیش نظر آئے۔ حاظم بنگوار فاونڈیشن کے توسط سے وہ پاکستان میں موثر تعلیم، ماحول اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اکثر متحرک نظر آتے ہیں۔ وہ آرٹ سے شغف رکھتے ہیں۔ ماڈلنگ، گلوکاری، شاعری اور افسانہ نگاری میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان سب خوبیوں کے باوجود وہ اپنے ظاہری حلیے کی وجہ سے لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔ ان کا لائف اسٹائل اور حلیہ ان کی ہر طرح کی قابلیت پر حاوی ہو گیا حالانکہ اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ اپنی زاتی زندگی کوئی کیسے بھی گزارے اس پہ اعتراض کے بجائے ہمیں ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور ذمہ داریوں پہ بات کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا کی تنقید ، جو حقیقت میں ہمارے معاشرے کی گھٹیا اور شدت پسند سوچ کی عکاسی ہے، کے بعد حاظم بنگوار اپنی جنسی شناخت کے بارے میں وضاحت دیتے نظر آئے۔ یہ بات مجھے ذاتی طور پہ بہت تکلیف دہ محسوس ہوئی کہ ہم لوگ معاشرے میں لوگوں کو ان کے کام سے نہیں بلکہ ان کے حلیے سے پرکھتے ہیں۔ پھر مجھے حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ہمارے لوگوں کے لیے بیوروکریٹس وہ اچھے ہیں جو اپنی کرسی پر بیٹھ کر فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عوام میں دہشت اور خوف پیدا کرتے ہیں۔ ان سے حقارت سے پیش آتے ہیں۔ گھنٹوں دروازے پہ کھڑا کر کے ان کی تذلیل کرتے ہیں مگر ایک انسان دوست، ماحول دوست اور جانوروں اور رنگوں سے پیار کرنے والا انسان جو عزت اور پیار سے پیش آئے، قبول نہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم لوگوں کو ان کی مرضی و منشا کے مطابق جینے دیں۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کا نشانہ لوگوں کی ذاتی زندگی نہیں بلکہ ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میں کوتاہی ہونا چاہیے۔ ہر انسان خالق کا بنایا ایک خوبصورت رنگ ہے۔ رنگوں سے پیار کیجیے تاکہ اس دنیا کی خوبصورتی میں پیار اور محبت کی مدد سے اضافہ کیا جا سکے۔













