امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی نئی افغان پالیسی سے متعلق مایوس کن نتائج آنے کے بعد واشنگٹن حکام افغان پالیسی میں نظر ثانی پر غور کررہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے افغان حکمت عملی کے غیر متوقع نتائج پر سخت مایوسی کا اظہار کیا، اس حکمت عملی کا اعلان گزشتہ برس اگست میں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکا کی نئی حکمت عملی کے تحت افغانستان میں عسکری مشیروں، تربیت کاروں اور اسپشل فورسز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فضائی مدد شامل تھی، اس کے علاوہ طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے آمادہ کرنا بھی نئی حکمت عملی کا حصہ تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں امریکی مداخلت کے مخالف رہے لیکن ان کے مشیروں نے انہیں افغانستان میں جنگ جاری رکھنے پر راضی کرلیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس 3 ہزار اضافی فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کی منظوری دی تھی اس طرح کل امریکی فوجیوں کی تعداد 15 ہزار ہو گئی ہے۔

امریکی حکام اور سابق ذمہ داران اور مشیروں نے تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس نے افغان حکمت عملی پر باقاعدہ کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا لیکن افسران کی جانب سے اگلے چند ماہ میں نئے حکم نامے کا اعلان متوقع ہے اور اس ضمن میں تیاریاں جاری ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY