عید ائی ھے میرے دیس، میں خوشیاں لیکر
عید کی خوشیوں سے چہرے ھیں دمکتے ایسے
شہر پر رنگوں کی برسات ھوئی ھو جیسے
لوگ مسرور ھیں رنگ رنگ کے کپڑے پہنے
جس طرف دیکھئے
گلزار نظر آتے ھیں
بستی والے بھی خریدار نظر آتے ھیں
پھول رکھے ہیں
گذر گاھوں میں
جیسے تقسیم ختم ھوگئی انسانوں میں
ھر طرف موج بہاراں کا سماں
عید ملتے ھوئے بچوں پہ
فرشتوں کا گماں
گاؤں کی گلیوں میں رقصاں ھے جوانوں کا ھجوم
ایک طرف شہر کے حاکم کے دمکتے ھوئے یہ شیش محل
میری نظروں میں ھے اس شہر کے منظر سے الگ
خاک اور خون میں ڈوبا ھوا کشمیر کا ھر ایک مکاں
سیل در سیل مصائب کا یہاں سیل رواں
موت ھر گھر میں
جہاں لگ کے کھڑی رھتی ھے
ان کے پیروں میں پڑی ظلم کی زنجیریں ھیں
جن کو معلوم نہیں عید کے معنی کیا ھیں
شاھین اشرف علی













