آنکھوں میں عکس یار بہت دیر تک رہا
جاں بن کے جاں نثار بہت دیر تک رہا
وہ تو غزل سُنا کے گئی خامشی کے ساتھ
محفل میں انتشار بہت دیر تک رہا
مجھکو یقیں ہے اسکو بھی مجھ بے گناہ کے
مرنے کا انتظار بہت دیر تک رہا
وہ جس نے ریزہ ریزہ کیا میرا اعتبار
اُس پہ بھی اعتبار بہت دیر تک رہا
اخبار میں خبر میرے مرنے کی جب لگی
سب شہر سوگوار بہت دیر تک رہا
سر رکھ کے میرے کاندھے پہ روئی وہ دیر تک
پھر میں بھی اشکبار بہت دیر تک رہا
قابو میں اب رہا نہیں صفدر یہ دل مرے
اس دل پہ اختیار بہت دیر تک رہا
صفدر ھمدانی













