قسط 90
سيد الشہدا امام حسین علیہ السلام کا بہايا گيا خونِ ناحق
تاريخ ميں ہميشہ محفوظ ہے
شہيد وہ شخص ہوتا ہے جو اپني جان کو
خلوص کے طبق ميں رکھ کر
دين کے بلند ترين اہداف کيلئے پيش کرتا ہے
شہید ايک خاص قسم کي صداقت اور نورانيت کا حامل ہوتا ہے
کوئي کتنا ہي بڑا کاذب و مکار کيوں نہ ہو
اور
اپني زبان و بيان سے
خود کو حق کا کتنا ہي بڑا طرفدار بناکر کيوں نہ پيش کرے
ليکن جب
اُس کے شخصي منافع
خصوصاً
جب اُس کي اور اُس کے عزيز ترين افراد کي جان خطرے ميں پڑتي ہے
تو
وہ پيچھے ہٹ جاتا ہے
اور کسي بھي قيمت پر بھی اللہ کے سامنے حاضر نہيں ہوتا
کہ
خود کو اور اپنے عزیز ترین افراد کو قربان کرے
ليکن وہ شخص
جو ايثار و وفا کے ميدان ميں قدم رکھتا ہے
اور مخلصانہ طور پر
اپني تمام ہستي کو راہ الٰہي ميں پيش کرتا ہے
تو
اُس کا خدا پر حق ہے
يعني
خدا اپنے ذمہ ليتا ہے
کہ
اُسے اور اُس کي ياد کوزندہ رکھے
خدا خود کہتا ہے
” جو لوگ خدا کي راہ ميں قتل کرديے جائيں
اُنہيں ہرگز مردہ گمان نہ کرو
بلکہ وہ زندہ ہيں ”
(سورہ آل عمران ، آیت نمبر 169 )
شہيد کے زندہ رہنے کا ايک پہلو يہ ہے
کہ
اُن کي نشانياں اور قدموں کے نشان، راہِ حق سے کبھي نہيں مٹتے
اور اُن کا بلند کيا ہوا پرچم کبھي نہيں جھکتا
ممکن ہے
چند روز کيلئے ظلم و ستم اور بڑي طاقتوں کي مداخلت
اُن کي قر با ني کے رنگ کو پھيکا کر ديں
ليکن
خدا پاک کا قانون يہ ہے
کہ
پاک و پاکيزہ اور صالح و مخلص افراد کا راستہ ہميشہ باقي رہے
خلوص وہ نیت اور عبادت ہے
جس کا پتہ اور اس کا اجر
صرف خدا کے پاس محفوظ ہوتا ہے
يہي وجہ ہے
کہ
امام حسين کي ذات اقدس
اُن کے اور اُن کے اصحابِ با وفا کے بہائے گئے خونِ ناحق کي برکت سے
آج دنيا ميں
دين اسلام باقي ہے اور تاقيامت باقي رہے گا
واقعہ کربلا سے پیشتر امام حسین عالی مقام نے فرمايا
پروردگارا!
يہ تحريک جو ہم نے چلائي ہے، جس امر کیلئے قيام کيا
اور ۔۔۔ جس ميں تجھ سے فيصلے کے طالب ہيں
تو جانتا ہے
کہ
يہ سب ا قتدارکي خواہش کيلئے نہيں ہے
اقتدار کي خواہش ايک انسان کيلئے ہدف نہيں بن سکتي
اور نہ ہي ہم چاہتے ہيں
کہ
زمام اقتدار کو اپنے ہاتھ ميں ليں
نہ ہي ہمارا قيام دنيوي مال و منال کے حصول کيلئے ہے
کہ
اُس کے ذريعہ سے
دنيوي لذتوں سے لُطف اندوز ہوں
شکم پُري کے تقاضے پورے کريں
اور ۔۔۔ مال ودولت جمع کريں
ان ميں سے کوئي ايک بھي ہمارا ہدف و مقصد نہيں ہے
سيد الشہدا امام حسین علیہ السلام
اپنے قيام کربلا کو خود ہی بیان فرماتے ہیں
کہ
یہ تاريخ اسلام کي تبليغ کا مقصد تھا
ہم تيرے دين کي نشانيوں کو واضح اور آشکار کرنا چاہتے ہيں
دين کي خصوصيات کو لوگوں کيلئے بيان کرنے کے خواہاں ہيں
شيطان ہميشہ ديندار افراد کي
گمراہي کيلئے
غير مرئي و غير محسوس انحراف کا راستہ اپناتا ہے
اور
صحيح راہ کو
اِس انداز سے غلط بناکر پيش کرتا ہے
کہ
ابتدائي مرحلے ميں اگر انسان بصيرت کا ما لک نہ ہو
تو ۔۔۔
وہ اپنے انحراف کی گمراہی کو تشخيص نہيں کر سکتا
شیطان کا بس چلے تو يہ کہتا ہے
کہ
دین کو چھوڑ دو
اگر اُس کے امکان ميں ہوتو يہ کام ضرور انجام ديتا ہے
اور يوں
شہوت پرستي اور اپنے غلط پروپيگنڈے کے ذريعہ
لوگوں کے ايمان کو اُن سے چھين ليتا ہے
اور
اگر يہ کام ممکن نہ ہو تو
دين کي نشانيوں کوہي بدل ديتا ہے
تاريخ ميں
ہميشہ کيلئے باقي رہنے والي
اِس حسيني تحريک کو تين پہلووں سے ديکھا جاسکتا ہے
اور اِن تين پہلووں ميں سے
جو پہلو
سب سے زيادہ جلوہ افروز ہے
وہ عزت و سربلندي اور افتخار کا پہلو ہے
امام حسين ع کي تحريک وقيام کي
پہلي جہت ميں
جاری ہے













