رات کے سفر میں ہے, اک اداس خاموشی
تم خیال میں تنہا, اور پاس خاموشی
زندگی گزاری ہے کن عجیب راہوں پر
تا حیات امیدیں, تا قیاس خاموشی
رات کی سیاہی ہے اور ایک سناٹا
میرے ساتھ ہے میری, غم شناس خاموشی
زندگی کے میلے میں, خواہشوں کے ریلے میں
چشم و لب پہ رقصاں ہے, بن کے پیاس, خاموشی
اس گھڑی کا سوچو تو, آرزو تڑپتی ہو
اور ہونٹ رکھتے ہوں, جب اساس, خاموشی
ایک شور برپا ہے ہر طرف ضرورت کا
اور ہے سماعت کی التماس, خاموشی
(نقاش عابدی )













