رحمان فارس امریکہ کے مشاعرے میں۔ انتخاب۔ امین کنجاہی

0
1478

بہت دکھ کے ساتھ بیان کرنے جارہا ہوں کہ پاکستان کے سرکاری افسر دوسرے ملکوں میں جا کر کیا گل کھلاتے ہیں اور دوسرے پاکستانیوں کا سر شرم سے جھکا دیتے ہیں.
کلیو لینڈ امریکہ میں علی گڑھ والوں کی طرف سے ایک ہوٹل میں 26 اکتوبر 2018 کو مشاعرہ تھا. میں سننے والوں میں تھا. پاکستان سے تین چار جبکہ انڈیا سے ایک شاعر سٹیج پر تھے جبکہ دوسرے شاعر بھی تھے. پاکستان سے آئےایک نوجوان شاعر رحمان فارس کا تعارف کرایا گیا کہ یہ بہت مقبول شاعر ہیں اور انکم ٹیکس محکمے کے بڑے سرکاری افسر بھی ہیں.ان کو شاعری سنانے کے لیے سٹیج پر بلایا گیا لیکن ہم سمیت بہت سے سامعین کو فورا”ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ صاحب بہت بری طرح پیے ہوئے ہیں اور اپنے ھواس میں نہیں. انہوں نے سٹیج پر آکر عجیب و غریب ھرکتیں شروع کردیں. کبھی کسی کو چومتے کبھی کنڈکٹ کرنے والے کے گلے لپٹ جاتے. کبھی شعر سنا کر بھول جاتے اور دوبارہ بلکہ تیسری بار وہی شعر پڑھنے لگتے.شاعری سناتے سناتے اچانک چپ ہوجاتے اور چپ کھڑے رہتے. لوگ ان کی حالت سمجھ گیے اور ہوٹنگ بھی شروع ہوگئی اور قہقہے بھی لگانے شروع کردیئے.ان کی حالت پر قہقہے لگ رہے تھے اور مجھے بطور پاکستانی بہت شرم آرہی تھی. جب ان کی باری ختم ہوئی تو ان کی ھرکتیں چلتی رہیں.وہ بار بار ہال سے باہر جاتے اور شاید اور پینے ہی جاتے تھے.اسی دوران باہر سے کچھ آوازیں آئیں اور منتظمین نے ہال کا دروازہ بند کردیا. بعد میں معلوم ہوا کہ ان صاحب نے باہر کسی گوری خاتون سے بدتمیزی کی اور بعد میں معافیاں مانگتے رہے لیکن اس عورت نےبڑی مشکل سے آرگنائزر کے کہنے پر ان کی معافی قبول کی.جب یہ شاعر رحمان فارس صاحب سٹیج پر بیٹھے ہوتے تو ہال میں موجود خواتین کو مسلسل گھورتے رہے اور اشارے بھی کرتے رہے.ان کی
ھرکتوں کی وجہ سے ایک مقامی پاکستانی نے انہیں ہال کے باہر بری طرح ڈانٹا اور آرگنائَزر کے وجہ سے ان کی پٹائی ہوتے ہوتے رہ گئی. مشاعرے کے ختم کے بعد بھی یہ رحمان فارس اپنے ھواس میں نہیں تھے..کبھی کسی عورت سے گلے لگنے کی کوشش کرتے کبھی کسی خاتون کے گالوں پر ہاتھ پھیرتے.ان کی ھرکتوں کی وجہ سے لوگوں نے بہت ماینڈ کیا اور یہی کہا جاتا رہا کہ پاکستانی سرکاری افسروں کا یہ حال ہے. کہ ملک سے باہر ہم سب کو ذلیل کرواتے ہیں. اس مشاعرے میں زیادہ تر انڈین تھے اور علی گڑھ کے پرانے وائس چانسلر جو فوج کے جنرل تھے وہ بھی موجود تھے.اس سب کے سامنے پاکستانیوں کی بہت زلت ہوئی. بعد میں کسی دوست نے بتایا کہ مشاعرے کے بعد جو ڈنر تھا ان کی ھالت دیکھ کر اس میں بھی ان صاحب کو نہیں لےجایا گیا. بلکہ انہیں مشکل سے ان کے ہوٹل پہنچا کر جان چھڑائی گئی.سب یہی کہہ رہے تھے کہ یہ عادی لگتے ہیں یہ پہلے بار نہین ہوا.
میں بہت سالوں سے امریکہ میں ہوں اور پاکستان سے کویی آدمی آتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے. لیکن مجھے سخت افسوس ہوا ہے اور دیگر پاکستانیوں کو بھی بہت شرمندگی اٹھانی پڑی ہے..گورنمٹ کی طرف سے ایسے لوگوں کو کیوں باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس بدنامی کا کون ذمے دار ہے.گورمنت کی طرف سے انہیں ان ھرکتوں پر ایکشن ہونا چاہیے اور ان کے باہر جانے پر پابندی لگنی چاہیے. پاکستان میں اگر کوئی چینج آیا ہے تو انہیں کویی کیوں نہیں پوچھتا
اس واقعے کو ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کیوں کہ ہم سب کو بہت شرمندگی مھسوس ہورہی ہے.

ایک گم نام امریکی پاکستانی

انتخاب ۔امین کنجاہی

SHARE

LEAVE A REPLY