پولیس نے کراچی میں احتجاج کرنے والے گھوٹکی کے 20 اساتذہ کو حراست میں لے لیا۔
رات گئے 15 اساتذہ کو رہا کر کے 5 کی گرفتاری ڈال دی گئی، گرفتار ہونے والے پانچ اساتذہ کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
کراچی میں گھوٹکی کے اساتذہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کر رہے تھے، پولیس نے لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو سندھ اسمبلی جانے سے روک دیا اور خواتین اساتذہ کو حراست میں لے لیا گیا۔
شہر قائد میں اس بار احتجاج کا محاذ گھوٹکی کے ٹیچرز نے سنبھالا، جنہوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
احتجاج کے دوران خواتین اساتذہ نےاپنا مؤقف دیا کہ 5 سال سے نہ تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں اور نہ مستقل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ستمبر میں احتجاج کے دوران واجبات ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جو تاحال پوری نہیں ہوئی تاہم اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ نوکریاں بیچنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔
ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے 4 رکنی وفد نے مظاہرین سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وقار شاہ نے ہر فورم پر اساتذہ کے لیے آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔

SHARE

LEAVE A REPLY