خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کو خط لکھ کر گرفتاریوں اور چھاپوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔
مراسلے میں ہدایت کی گئی ہےکہ گزشتہ دوہفتوں میں گرفتاریوں ، چھاپوں ودیگرکارروائیوں کی رپورٹ پیش کی جائے، متعلقہ واقعات کی ایف آئی آرز اور پولیس کو رپورٹ کرنے والے افراد کا ریکارڈ بھی دیاجائے۔
معلومات اسمبلی اختیارات، استحقاق و مراعات ایکٹ 2026 کے تحت طلب کی گئی ہیں۔
آئی جی کو مکمل ریکارڈ فوری طور پراسمبلی سیکرٹریٹ فراہم کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نےکہا کہ سہیل آفریدی جارہے ہیں یا کوئی اور آرہا ہے، پارٹی ترجمان ہی بتاسکتےہیں، گزشتہ دو سال میں کئی مرتبہ گورنر راج لگانے کی بات ہوئی، اگر کسی کا استعفیٰ آیا تو اسے منظور کرلوں گا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ روزانہ لاشیں اٹھا رہے ہیں، ایسےحالات میں اسلام آباد پر چڑھائی مناسب نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی کا نتیجہ صفر ہوگا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ ہے مارچ ختم کردیں، امن وامان کی صورتحال وفاق اور صوبےدونوں کی ذمہ داری ہے، صوبے کے مفادکےلیےسب کا مل کرکام کرنا ضروری ہے، سب مل بیٹھ کر کام کریں گے تو صوبے میں امن قائم ہوجائےگا، امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لےکر کام کرنا ہوگا۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں کی سہولت کاری کررہا ہے، صوبے کے مفادکے لیے وزیراعظم سے ملاقات کرکے پشاور آنےکی دعوت دی، وزیراعظم کو امن وامان سے متعلق کابینہ اجلاس اور اپیکس کمیٹی کااجلاس پشاور میں بلانےکا کہا ہے۔
جیونیوز سےگفتگو میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جب 1973 کے آئین میں لکھا ہے گورنر راج لگ سکتاہے تو یہ غیر آئینی تو نہیں، اتنی جمہوری پارٹیاں پہلےگزرچکیں،گورنر راج کے خاتمے سے متعلق ترمیم کیوں نہیں کی، صوبےکو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر اسلام آباد میں خون خراباکرنا مقصود ہے؟ تمام سیاسی جماعتوں پرمشتمل جرگہ طلب کرکے امن پربات کی جائے، یا دہشت گردوں کے سہولت کار بن جائیں یا ریاست کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
………………………….
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہےکہ لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کرنے ہیں تو پہلےکیوں نہیں کرتے۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سات دن میں وفاقی حکومت مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم سےکرلے، چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو جائے، لانگ مارچ میں تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ تھوڑا وقت دیا جائے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم نے لانگ مارچ کی کال سے پہلے ہی مذاکرات کا کہا تھا، 4 اکتوبرکو مارچ کا فیصلہ اٹل ہے، مولانا فضل الرحمان ہمارے پاس آجائیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے وزارت اعلیٰ کی کرسی سےگیا بھی تو فرق نہیں پڑےگا، مجھے نااہل کیا گیا تو میرا متبادل بانی پی ٹی آئی طےکریں گے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پی ٹی آئی کے پی کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر کرنا سیاسی حکمتِ عملی ہے، وفاقی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت انا پرستی، ضد اور سیاسی طاقت کے نشے سے نکل کر سوچے، حکومت مذاکرات کرتی ہے لیکن ٹی وی چینلز پر کرتی ہے۔
شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت عملی طور پر مذاکرات کی بات کرے تو مذاکرات کریں گے، اسے مذاکرات ہی پر آنا پڑے گا، ہزاروں پولیس اہلکار اور کنٹینرز لاکر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی حکمتِ عملی تبدیل کر دی، پُرامن جدوجہد کے حامی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کو عدالتی احکامات کی روشنی میں علاج فراہم کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، یہاں صوبائی وزراء کو اٹھایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت نے جنگل کا قانون بنایا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی سے متعلق عطاء تارڑ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے مریم نواز نے صوبوں سے متعلق بیان دیا تھا، ایسے بیانیے سے ریاست کمزور ہوتی ہے، پولیس ایکٹ صوبے کا معاملہ ہے، یہ صوبے کا اختیار ہے، افسوس ہوتا ہے کہ وفاقی وزیر کہتا ہے کہ صوبہ قانون سازی نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ عوام کے مفاد میں قانون سازی کرنا صوبے کا اختیار ہے، اس ایکٹ میں کونسی وہ چیز ہے، جو پنجاب اور سندھ پولیس ایکٹ میں نہیں؟ آئی جی کو اسپیکر نے بلایا وہ نہیں آئے، چاہتے ہیں کہ پولیس آزاد ہو، کسی کا دباؤ اس پر نہ ہو، اس لیے قانون سازی کی۔
…………………………..
یہ فیصلہ کرلیا گیاکہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا: ذرائع کا دعویٰ
جیو نیوز کے پروگرام “نیا پاکستان” میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا حکومت کے مستقبل سے متعلق ذرائع کا اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اب فیصلہ سازوں کیلئے صرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ سہیل آفریدی کی حکومت ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہےکہ مسئلہ اب لانگ مارچ سے آگے بڑھ چکا ہے کیوں کہ اب مسئلہ قومی سلامتی کا ہے اس لیے اب یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔
پروگرام نیا پاکستان کے میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اہم ذرائع نے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کی تصدیق کی مگر تیاری کی کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی تیاری کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، عوام بھرپور متحرک ہیں اور لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ ٹیسٹ میچ کھیلیں اور حکومت کو تھکائیں۔ 5 اکتوبر عمران خان کی سالگرہ کا دن بھی ہے، اس لیے 5 اکتوبر کی سمبولک اہمیت زیادہ ہے۔
مگر جہاں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے ساتھ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہے، وہیں ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت کچھ اور ہی سوچ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیصلہ سازوں کا یہ کہنا ہے کہ اب صرف پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے، پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ کرنا ہے تو کرے، ملتوی کرنا ہے تو ملتوی کرے، مسئلہ اب اس سے آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ اب مسئلہ قومی سلامتی کا ہے۔
فیصلہ سازوں کے فیصلوں سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی دہشت گردوں سے مل کر پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ اس لیے اب یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔
…………………..
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اجلاس میں لانگ مارچ سے متعلق فیصلہ ہوگیا جس کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر کر کے 5 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان محمود اچکزئی، علامہ ناصر کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بیرسٹر گوہر کو درخواست کی کہ وہ دونوں رہنماؤں کو فون کریں.
ذرائع نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو کہا کہ فون آپ خود کریں. اجلاس میں محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سہیل آفریدی کی جانب سے کال کرنے پر اتفاق ہوا.
پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران گفتگو کی گئی کہ حالات حساس ہیں، فی الحال تاریخ ملتوی کرنا چاہیے۔
اس سے قبل سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا تھا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تحریکِ انصاف لانگ مارچ کے لیے مکمل تیار ہے۔ لانگ مارچ پُرامن ہوگا اور اس میں سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت مذاکرات کرے تو لانگ مارچ سے متعلق کچھ فیصلہ ہوسکتا ہے، تاہم اس بار کچھ حاصل کیے بغیر لانگ مارچ ختم نہیں ہو گا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں کنٹینرز ہٹا کر راستے کھولنے کی ضرورت نہیں، جہاں راستہ بند ہو گا وہیں دھرنا دیا جائے گا۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
شہر کے اندر آمد و رفت جاری ہے لیکن دارالحکومت کے داخلی راستوں پر ٹریفک کے مسائل شروع ہوگئے ، موٹر وے ایم ون ٹول پلازا پر کنٹینر لگا دیے گئے ، ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
ٹریفک کو جی ٹی روڈ کی طرف منتقل کردیا گیا ، ایم ون کے ریسٹ ایریاز بھی بند کردیے گئے ، چھبیس نمبر چُنگی پر مٹی سے بھرے کنٹینر لگاکر روڈ بند کردیا گیا ، ٹیکسلا میں بھی اسلام آباد کی طرف آنے والے روڈ پر کنٹینر کھڑے کردیے گئے۔
وفاقی دارالحکومت کے اندر ریڈ زون کے انٹری پوائنٹس پر کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کردی گئی ، ایک سے زیادہ چیک پوسٹیں بنادی گئیں۔
آئی جی آفس نے پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں کے لیے ایک ہزار روپے یومیہ خصوصی ڈیوٹی الاؤنس منظور کرنے کا مراسلہ جاری کردیا ۔اسلام آباد، اٹک، جہلم، چکوال اور میانوالی میں رینجرز تعینات، مسلح جتھوں کےحملوں پر رینجرز اورپولیس کو ضروری جوابی ایکشن کے احکامات
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد، اٹک، جہلم، چکوال اور میانوالی میں رینجرز تعینات کر دی گئی۔
انتشاری اور مسلح جتھوں کےحملوں پر رینجرز اورپولیس کو مناسب اورضروری جوابی ایکشن کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے اندر ریڈ زون کے انٹری پوائنٹس پر کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کردی گئی ، ایک سے زیادہ چیک پوسٹیں بنادی گئیں۔
دوسری جانب اٹک پل پر بھی پشاور سے آنے والے راستے بند کر دیے گئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد اورپنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکشن میں کہا گیا ہے کہ انتشاری اور مسلح جتھوں کےحملوں پر رینجرز اورپولیس مناسب اور ضروری جوابی ایکشن لے اور رینجرزاورپولیس کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا خطرے سے نمٹنےکے لیے مکمل اقدامات کرے۔
اگلے 24 سے 48 گھنٹے میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بریک تھرو کا امکان ہے، طلال چوہدری
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ یہ بہت واضح ہےکہ اگر تحریک انصاف سومنات سمجھ کر اسلام آباد آئے گی تو یہ اسلام آباد نہیں پہنچ سکیں گے، جو راستہ بات کرنے سے کھل سکتا ہے وہ مارچ سے نہیں کھل سکتا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر صوبے میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاق کو خط لکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات جاری ہیں اور پنجاب حکومت نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاق کو خط لکھا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ محکمہ داخلہ نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی ہے جب کہ صوبائی حکومت نے راولپنڈی میں بھی فوج کی تعیناتی بھی مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعیناتی کی درخواست کی ہے، خط میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک مانگی گئی ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔













