رسول اللہ ﷺ کے پالتو جانور

0
3828

آقا ﷺ کے  پاس مختلف وقت میں مختلف جانور رہے۔ کبھی زیادہ اور کبھی کم۔ ان کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے

ایک زمانہ میں آپ کے پاس دس گھوڑے تھے۔ ”سکب“ نامی گھوڑے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ اُحد میں سوار تھے، ایک گھوڑے کا نام لزاز تھا، جس کو شاہ اسکندریہ مقوقس نے ہدیۃً بھیجا تھا، باقی گھوڑوں کے نام یہ ہیں: ظرب، ورد، ضریس، ملاوح، سبحہ، بجر۔

تین خچر تھے ایک کا نام دُلدل تھا حبشہ کے بادشاہ نے بھیجا تھا، آپ ﷺ کے بعد حضرت علی اور حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہم اس پر سوار ہوتے تھے ان کے بعد محمد بن حنفیہ کے پاس رہا، دوسرے خچر کا نام فِضّہ تھا جس کو صدیقِ اکبر نے ہدیہ کیا تھا۔ تیسرے کا نام اِیلیہ تھا شاہِ ایلہ نے ہدیہ بھیجا تھا۔ایک گدھا تھا جس کا نام یعفور تھا۔

سواری کی دو اونٹنیاں تھیں ایک کا نام قصواء اور دوسری کا نام عضباء تھا، ہجرت کے وقت آپ قصواء پرسوارتھے اورحجۃ الوداع کا خطبہ بھی اسی پر سوار ہوکے دیا تھا۔

دوبکریاں خاص دودھ کے لیے تھیں ایک کا نام غوثہ اور دوسری کا نام یمن تھا۔

ایک سفید رنگ کا مرغ بھی تھا جس کا نام ”منقول“ تھا۔

-: بارگاہ رسالت میں اونٹ کی فریاد
ایک بار حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے وہاں ایک اونٹ کھڑا ہوا زور زور سے چلا رہا تھا۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو ایک دم بلبلانے لگا اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قریب جا کر اس کے سر اور کنپٹی پر اپنا دست شفقت پھیرا تو وہ تسلی پا کر بالکل خاموش ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ لوگوں نے ایک انصاری کا نام بتایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فوراً ان کو بلوایا اور فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضہ میں دے کر ان کو تمہارا محکوم بنا دیا ہے لہٰذا تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم ان جانوروں پر رحم کیا کرو تمہارے اس اونٹ نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لے کر اس کو تکلیف دیتے ہو۔

(ابو داود جلد۱ ص۳۵۲ مجتبائی)

انٹر نیٹ کے مواد سے مدد لی گئی

SHARE

LEAVE A REPLY