بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹین امریندر سنگھ نے جمعرات کو اس امر کو خارج ازامکان قرار دیا ہے کہ وہ کرتارپور کوریڈور کے افتتاح کے موقع پر پاکستان جائیں گے، انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اس پہلی آل پارٹی جتھا کی قیادت کریں گے جو کہ کرتارپور صاحب گوردوارہ میں مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے جارہا ہے۔
انھوں نے یہ بات ان افواہوں کے حوالے سے کہی جس میں کہا گیا تھا کہ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کرتارپورکوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ وہاں جارہے ہیں، بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں کرتارپور کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان جائوں اور میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ بھی وہاں نہیں جارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان جانا اور کوریڈور کے ذریعے گوردوارہ جانے میں بہت زیادہ فرق ہے۔
دریں اثنا ایک سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کیپٹین امریندر سنگھ کاجتھا میں شامل ہونے کا دعوت نامہ قبول کرلیا ہے، جس کی قیادت کیپٹین امریندر سنگھ کر رہے ہیں۔
یہ جتھا سرحد پار کرتارپور کوریڈور کے ذریعے تاریخی گوردوارہ جائے گا اور گرو نانک دیو جی کی 550ویں جنم دن کی تقریبات منانے کے سلسلے میں ہونے والی مذہبی عبادات میں شرکت کرے گا۔











