وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ طویل المدت تعلقات رہے، نئی امریکی پالیسی پر اختلاف رائے ہے، امریکا کے پاک بھارت تعلقات معمول پرلانے میں کردار کوخوش آمدید کہتے ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان امریکا ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے چوتھے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری کوششوں سے امریکا اوریورپ بے شمارممکنہ دہشت گرد حملوں سے بچے۔
انہو ں نے کہا کہ اس خطے میں صورتحال پیچیدہ ہے،آج افغانستان میں حکومت اختلافات کا شکار ہے،افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور لاقانونیت عروج پر ہے، افغانستان میں حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا، ہم افغانستان میں افغانوں کے لیے ان کا اپنا امن چاہتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم وجود نہیں، پاکستان میں خود ساختہ دہشت گردوں اور مہاجرین کے مسائل سے نمٹنا ہے،ہمیں آبی مسائل، افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنا ہوگا، امن عمل کیلئے زیادہ کام خود افغانستان میں ہونے والا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہماری معیشت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY