Published on: 21 Oct 2020
غربت اور بے روزگاری کے عہد میں ریڈیو پاکستان کے ٹھنڈے کمروں اور لمبی گاڑیوں میں بیٹھنے والے افسران نے بیک جنبش قلم سینکڑوں کارکنوں کو بے روزگار کر کے لاتعداد خاندانوں کو تنگدستی اور مزید غربت کے منہہ میں دھکیل دیا ہے جس سے ملک بھر کے نشریاتی مراکز میں بے چینی اور خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے
ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر اسلام آباد سے ڈائریکٹر ایڈمن ایس ایم رضا عباس کے دستخطوں سے جاری ہونے والے خط میں کارکنوں پر بے روزگاری کا بم پھینکا گیا ہے جس سے یہ لوگ تو غربت کے جال میں پھنسے ہی گئے خود ریڈیو کی بچی کھچی نشریاتی ساکھ بھی برباد ہو کر رہ جائے گی

معلوم ہوا ہے کہ ان لوگوں کو چار چار ماہ سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہو ئی تھی
تفصیلات کے مطابق یڈیو پاکستان نے ملک بھر سے کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کردیا جس میں پروگرام، ایڈمن انجنئیرنگ، اکاؤنٹس سیکشن کے ملازمین شامل ہیں
واضح رہے کہ یہ 749 ملازمین 15 سے 18 سال کے عرصے سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہیں کچھ عرصے سے ان ملازمین کو تنخواہ بھی دو تین ماہ تاخیر سے ادا کی جا رہی تھی اس مرتبہ تو چار ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی اور اچانک ہی ان کا معاشی قتل کرتے ہوئے فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے تاہم ان ملازمین اس فہرست میں شامل نہیں جنھوں نے اپنی نوکری مستقل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے
لاہورریڈیو سے بھی تمام سیکشنز سے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کیا گیا ہے
حیرت کی بات یہ ہےکہ کم تنخواہ پانے والے ان لوگوں کو فارغ کر کے لاکھوں کے معاہدوں والے لوگ مسلسل کام کر رہے ہیں
یہ اقدام ایسے وزیر اطلاعات کے زمانے میں اٹھایا گیا ہے جنکے والد احمد فراز خود بھی ریڈیو کے ملازم تھے
فیس بک پر ایک پوسٹ اس مضمون کے ساتھ لگی ہے













