تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں انکلا ہے
بات صرف اتنی سی ہے
یزید تھا حسین ع ہے
دنیا بھر کی طرح آسٹریلیا میں بھی یوم عاشورہ نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا گیا۔آسٹریلیا کے مختلیف شہروں میں نواسہ رسول ص امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کے عظیم قربانی کی یاد میں جلوس برامد ہوکر امام حسین علیہ السلام اور شہداء کربلا کو پرسہ پیش کرکے اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پذیر ہوئے۔آسٹریلیا کے جلوسوں میں عاشقان امام علی مقام کے پیروکاروں بزرگوں، جوانوں،عورتوں اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے شہداء کربلا کو پرسہ پیش کیا۔آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں عاشورہ کے جلوس کیلئے عاشقان امام حسین علیہ السلام ٹاون ہال میں جمع ہوئے اور ساڑھے اٹھ بجے مختلیف زبانوں میں نوحہ خوانی ہوئی نوحہ خوانی کے ساتھ عزادار سینہ کوبی اور گریہ کررہے تھے۔جلوس نو بجے ٹاون ہال سے نکل کر اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا نوحہ خوانی سینہ کوبی کرتے ہوئے بیلمور پارک پر اختتام پذیر ہوا۔
علماء نے اپنے پیغام میں کہا کہ دسویں محرم کا دن تمام مسلمانوں کیلئے سوگوار دن ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی عظمت اور حق کی سربلندی کی حاطر اپنی قیمتی جانوں کا کا نزرانہ پیش کیا۔واقعہ کربلا ہمیشہ حق وباطل کے درمیان فرق کا استعارہ بن گیا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ ہم کو اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہمیں دہشت گردی، انتہاپسندی اور عدم برداشت پر مبنی نظرئے کے حلاف لڑنے سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہیئے۔
علماء نے کہا کہ نواسہ رسول ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے کربلا کے میدان میں 10 محرم کو اسلام کی بقاء کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ایسی مثال قائم کی، جس نے رہتی دنیا تک حق اور باطل کے درمیان واضح حد قائم کردی۔حضرت امام حسین نے ثابت کیا کہ باطل جب بھی حق سے ٹکرائےگا نیست و نابود ہوگا
مزید کہنا تھا کہ ایثار و قربانی کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وقت کی ضرورت ہے اور اسی میں سب کی بقا ہے۔
جلوس کے اختتام کے بعد سب اپنے اپنے امام بارگاہوں میں چلے گئے جہاں پے عاشورہ کے اعمال اور نماز ظہرین اداکی گئی۔نماز ظہرین کے بعد مجالس عاشورہ کہ مجالس پربا کی گئی اور تابوت برامد برامد کئے گئے۔
نماز مغرب کے بعد شام غریبان کی مجلس پرپا کی گئی
رپورٹ جابر حسین سڈنی













