پاکستان میں یہ پہلو ہمیشہ سے افسوسناک رہا ہے کہ قیام پاکستان سے تا دم تحریر کسی بھی حکومت نے تعلیم کو اپنی اولیں ترجیحات میں نہیں رکھا ماسوائے ان چند اعلی تعلیمی اداروں کے جو بڑے بڑے شہروں میں ہیں تمام صوبوں کے دور افتادہ گاوں ہنوز تعلیم کی روشنی سے محروم ہیں
یہ درست ہے کہ نجی شعبے میں تعلیمی اداروں میں شہروں کی حد تک فروغ ہوا ہے لیکن یہ سب تجارتی بنیادوں پر ہے جس پر غریب کا کوئی حق نہیں
ایسے میں ہر دور میں مختلف شہروں میں کچھ ایسے دردمند لوگ ضرور رہے ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی مدد کے تحت اسکول کھولے ہیں اور اپنے اپنے علاقے کی حد تک بچوں کو تعلیم دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ مساعی بہت محدود پیمانے پر ہیں
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں مقیم آفتاب احمد بابر اورانکی اہلیہ ثمینہ آفتاب اور بیٹی آمنہ آفتاب سمیت دیگر اہل خانہ نے مل کر ایسی ہی تعلیم کی شمع بلھے شاہ کی بستی قصور کے دور افتادہ گاوں جود سنگھ میں جلائی ہے جس کی ترقی میں خالق قلم نے بھی برکت ڈالی ہے اور بہت کم عرصے میں پانچ کمروں پر قائم ہونے والے اس ستلج ماڈل سکول میں ایک سو پچیس سے زیادہ بچے بچیاں ہیں اور اسکو جلد ہی میٹرک تک کا سکول کر دیا جائے گا
اس سکول کے لیئے زمین دو مقامی زمینداروں نے عطا کی جو کوئی بہت بڑے زمیندار نہیں ہیں اور انکا یہ عمل دوسرے لوگوں کے لیئے مثالی ہے
بائیس فروری دوہزاربیس ہفتے کے روز اس سکول میں ایک بہت خاص تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں لندن سے آئے معروف براڈکاسٹر صفدر ھمدانی، سرسید احمد خان کے نواسے سید اسد اللہ، پنجاب اسمبلی کی خاتون رکن فرحت، سماجی کارکن اشرف علی، شاہین اشرف، اور دیگر متعدد شعبوں کی خواتین وحضرات نے شرکت کی جنکو لاہور سے خصوصی کوچوں کے ژریعے جود سنگھ لے جایا گیا جہاں پہنچتے ہی اس سرسبز اور خوبصورت مقام پر مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا اور انکی تواضع لسی ،چائے اور مفرحات سے گئی۔ اس موقع پر خاص طور پر تندور لگایا گیا جس پر گرم روٹیاں اور پراٹھے بن رہے تھے
اسکے بعد سب مہمانوں کو چند قدم دور ستلج ماڈل سکول لے جایا گیا جہاں سکول کے بچے اور اساتذہ نے مہمانوں کا استقبال کیا، احاطے میں مقامی لوگوں کی بھی بڑی تعداد تھی، تلاوت اور کلام اقبال سکول کے بچوں نے پیش کیا جسکے بعد مستعد بچوں نے جسمانی پی ٹی شو پیش کیا جسکو سب نے سراہا۔
محترمہ ثمینہ آفتاب نے اس سفر کی مختصر روداد بیان کی، سید اسد اللہ نے سر سید احمد خان کے حوالے سے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ شاہین اشرف علی نے بچوں سے خطاب کیا اور منظوم خراج تحسین پیش کیا، رکن ہنجاب اسمبلی فرحت صاحبہ نے آفتاب فیملی کی اس کوشش کو سراہا۔
شاہین اشرف علی نے اپنے خطاب میں کہا
معزز خواتین و حضرات
استاتزہ اکرام
اور پھول جنگو ستاروں جیسے پیارے بچے
میں برادر عزیزی آفتاب بابر صاحب کے خانوادے کے ھر شخص کو سلام کرتی ھے
جو خود آفتاب ھیں
ھمیشہ روشن رھنے والے چراغوں
کی طرح یہ درسگاہ
اور بہت خاص بچوں کے لیے مشعل راہ جیسی تنظیم
ثمینہ آفتاب
آمنہ آفتاب
فراز آفتاب
یہ مخلوق خدا کا درد رکھنے والے
درد مند اعلی اخلاقی تربیت کے حامل خوب صورت انسان ھیں
اپ کی اس جگہ اسکول درس گاہ تعمیر کرکے تعلیم کی روشنی پھلا دی ھے
پیارے بچوں تعلیم
علم
مدرسہ
اپ کے استادان گرامی
جو اپ کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کرتے ھیں
اپ کی اس نہج پر تربیت کرتے ھیں کہ آنے والے کل میں کوی بچہ ڈاکٹر بنے گا
کوئ انجنیئر بنے گا
کوی علم کی روشنی پھیلانے گا
پیارے بچے
پیارے معصوم بچے
یہ ھمارا روشن کل ھیں
یہ اقبال کے خواب کی تعبیر بن کر اس جگہ کا
نام روشن کرنا ھے
بچو یہ بات سن لو
تم دل لگا کر پڑھنا
تعلیم کی بدولت تم کو ملے گی عزت
تعلیم کی بدولت جاگی ھماری قسمت
ماں باپ بھی ھیں رحمت
استاد بھئ ھیں رحمت
دی ھے ھمارے رب نے انکی زباں میں طاقت
تم کامیاب ھوگے استاد کی بدولت
یہ درس گاہ تمھارے کردار کی ضمانت
تعلیم ھے وہ نعمت جس کا بدل نہ کوئ
تم کامیاب ھوگے استاد کی بدولت
معروف براڈکاسٹر،شاعر،ادیب اور صحافی صفدر ھمدانی نے کہا کہ تعلیم پھیلانا انبیا کا کام رہا ہے اور اللہ پاک اس مقصد کے لیئے خود لوگ منتخب کرتا ہے اور آفتاب فیملی چنیدہ فیملی ہے جس نے اس دور افتادہ جگہ پر علم کی شمع روشن کی ہے
یاد رہے جود سنگھ کا یہ مقام بھارتی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو تحائف پیش کیئے گئے اور آفتاب بابر صاحب کے ڈیرے نہایت نفیس،لذید کھانا مہمانوں کو پیش کیا گیا جس میں خاص طور پر مقامی طور پر پیدا ہوا اور تیار کردہ ساگ قابل ذکر ہے
شام کے سائے پھیل رہے تھے ایسے میں واپس لاہور کا عزم سفر ہوا اور سب لوگ کوچوں میں بیٹھے تو ایک کمال محبت کا ثبوت آفتاب بابر اور انکی اہلیہ کا یہ تھا کہ انہوں نے سب مہمانوں کو اپنے کھیتوں کی مولیوں اور آلو کے تحائف ساتھ کیئے
اللہ پاک اس خانوادے کی تعلیم کی روشنی پھیلانے کی یہ کوشش قبول کرے اور کاش ہماری حکومتیں ایسے مخیر لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کا سوچیں اور تعلیم کی اہمیت جان سکیں
رپورٹ،شاہین اشرف علی













