امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا سیارے زحل کے چاند پر زندگی کے آثار تلاش کرنے کے مشن میں ڈرون استعمال کیا جائے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ناسا زحل کے چاند “ٹائیٹن” پر زندگی کے آثار تلاش کرنے کے لیے ڈرون بھیجے گا، مشن کو ڈریگن فلائی کا نام دیا گیا ہے جو 2026 میں لانچ کیا جائے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق مشن ڈریگن فلائی 2034ء میں سیارہ زحل کے چاند پر لینڈ کرے گا۔ تحقیقاتی مشن کے دوران ٹائیٹن کے ماحول اورحالات کا جائزہ لیا جائے گا، ٹائیٹن سیارہ زحل کا سب سے بڑا جبکہ نظام شمسی کا دوسرابڑا چاند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا مریخ پر بھی تحقیقاتی مشن بھیجنے کا اعلان
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مشن پر 1 ارب امریکی ڈالر لاگت آئے گی۔ اس مشن کے دوران جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ جگہ انسانوں کے رہنے کے لیے قابل ہے بھی یا نہیں۔ اس مشن کے دوران اس طرح بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ وہاں زمین کی طرح ہوا، دریا، سمندر اور جھیلوں کے آثار موجود ہیں یا یا نہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہمارے شمسی نظام کے ایک اہم سیارے زحل کا ایک چاند زندگی کے لیے درکار شرائط پر پورا اترتا ہے۔ اس چاند کا نام ہے انسلادوس۔
زحل جسے سیٹرن بھی کہا جاتا ہے، نظام شمسی میں سورج سے چھٹے نمبر پر ہے اور مشتری کے بعد یہ اس شمسی نظام کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے گرد 62 چاند گردش کرتے ہیں جن میں سے صرف 10 چاند ایسے ہیں جن کا حجم 50 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
زحل کا چاند انسلادوس سائنس دانوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں پائے جانے والے عناصر اور مرکبات اور جغرافیائی حالات زندگی کی پیدائش اور نشوونما کے لیے سازگار ہیں۔
سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلائی سائنس دانوں نے تحقیق و تجربات کے بعد یہ اندازہ لگایا ہے کہ وہاں کے جغرافیائی حالات کے تحت کیمیائی عمل کے نتیجے میں ایک خلیے پر مشتمل جراثیمی زندگی کا جنم ہو سکتا ہے۔
سائنس دانوں کی ٹیم نے لیبارٹری میں انسلادوسجیسے حالات پیدا کر کے جراثیم کی تخلیق کا تجربہ کیا۔
یونیورسٹی آف ویانا کے سائنس دان سائمن رٹمن کا، جو اس تحقیق کے مصنفین میں شامل ہیں، کہنا ہے کہ کمپیوٹر سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق انسلادوس پر موجود جغرافیائی اور کیمیائی حالات میں جراثیمی مخلوق کا جنم ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وہاں پر جراثیمی مخلوق کی موجودگی کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں اور ان کے اس مفروضے کی بنیاد لیبارٹری کے تجربات ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارا مفروضہ جراثیمی مخلوق کے بارے میں ہے اور ہم کسی قسم کی ذہین مخلوق کی موجودگی کی قیاس آرائی سے گریز کر رہے ہیں۔
خلائی سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ زحل کے اس چاند کے جنوبی قطب میں پانی اور حرارت کے نتیجے میں کیمیائی عمل کے اشارے ملے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے زمین سے باہر زندگی کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔
ان مفروضوں کی حقیقت کیا ہے، اس کا اندازہ تب ہو گا جب کوئی خلائی جہاز انسلادوس کی سطح پر اتر کر تجربات کرے گا۔













