عالمی اخبار کے ہم سفر
تحریر،ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
عالمی اخبار ایک ادارے کا نام ہے جہاں فکر کی نشو و نما کے لیئے ایک دوسرے سے سیکھنے کا شوق سب کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سے ناصرف قریب رکھتا ہے بلکہ خیال کی ڈوری میں پروئے بھی رکھتا ہے ۔ سولہ برس سے جاری اس روزنامے کی کامیابی کا سفر یقین اور لگن کی کہانی ہے کہ سولہ بر سے یہ روزانہ دن میں چار بار شائع ہونے والا یہ اخبار ایک نئے پیسے کے اشتہار کے بغیر شائع ہو رہا ہے
مسابقت اور سرمایہ داری کے ساتھ ساتھ میڈیا ہاوسز کے اس دور میں کسی مالی منفعت کے بغیر خالص صحافت کا حامل یہ اخبار ایک معجزے سے کم نہیں ہے
عالمی اخبار یکم اور دونومبر دوہزار چھ کی درمیانی رات کو شروع ہوا تھا اور تا دم تحریر کسی تعطل کے بغیر جاری ہے
اسکی کامیابی کا سفر قاریئن کے سامنے ہے لیکن اس خوبصوت اخبار کو ہم آپ تک کبھی پہنچا نہ پاتے جو ہمارے ساتھ ہمارے دوستوں کا ساتھ نہ ہوتا ۔۔۔۔ آیئے آپ بھی ان سے سے ملیں ۔۔ اور ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر ان احباب کا اور ان کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی بلامفاد مساعی پر عالمی اخبار تاحیات نازاں رہے گا ۔۔
صفدر ھمٰدانی۔”مدیر اعلیٰ”۔عالمی اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے.
صفدر ھمٰدانی نے ریڈیو پاکستان میںاپنی ملازمت کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ’ کفن پہ تحریریں’ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں ‘فرات کے آنسو’…مرثیوں کا مجموعہ….نورِ کربلاعزائی شاعری پہ تحقیق… اور’معجزئہ قلم’رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ… فروری 2004 میں شائع ہوا
انکی تالیف اور تدوین”کلیات حسین” حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔
اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ” تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا” شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک”زینت ہستی” ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا” کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ” رو رہا ہے آسماں” مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے” بادل۔چاند اور میں ” اور” گونگی آنکھیں” زیر ترتیب ہے۔
مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی میں فرینکفرٹ ،برلین،فشتہ، سٹٹگارٹ،فرانس،ناروے،،سویڈن میں سٹاک ہولم اور لن شاپنگ، ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا،نیوجرسی،کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو۔۔شام, مصر ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں سڈنی اور میلبورن کے علاوہ آسٹریا میں ویانہ اور کویت جیسےملکوں اورشہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔
ماہ پارہ صفدر۔ مدیر حالات حاضرہ ۔ عالمی اخبار
لندن میں بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک ماہ پارہ صفدر نشریات کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے اور اعلیٰ تعلیم جامعہ پنجاب سے حاصل کی جہاں سے انہوں نے انگریزی کا ایم اے کیا اور پھر لندن یونیورسٹی سے وئیمن سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری لی
پاکستان میں ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کی نیوز کاسٹر کے حوالے سے انکی دنیا بھر میں شناخت ہے انکی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز لاہور ریڈیو سے اور پی ٹی وی کے لاہور مرکز سے ہوا اور بعد وہ ریڈیو کے مرکزی بیوز روم اسلام آباد اور پی ٹی وی اسلام آباد سے منسلک رہیں
انیس سو نوے کے اوائل میں انکو بی بی سی اردو سروس لندن کے لیئے منتخب کیا گیا جہاں سے اب وہ ریٹائرڈ ہو چکی ہیں۔ نشریات کی دنیا میں خدمات کے طور پر اندرون متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں
ماہ پارہ صفدر کئی برسوں سے شعر گوئی کے تخلیقی عمل کو اپنائے ہیں لیکن انہوں نے شاعری کی بجائے نشریاتی دنیا کو اپنی پہچان بنایا ہے اور شاعری کو فقط اظہار کے ایک میڈیم تک ہی محدود رکھا ہے۔ انکے والد سید حسن عباس زیدی،سسُر مصطفیٰ علی ھمدانی اور شوہر صفدر ھمدانی ادبی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں لیکن ماہ پارہ صفدر کی ادبی دنیا میں اپنی الگ انفرادیت ہے
ٹی وی ریڈیو کی یاداشتوں پر مشتمل بی بی سی کی ان لائن سیریز کی مقبولیت کے بعد ان دنوں وہ ان یاداشتوں کو کتابی صورت دینے میں مصروف ہیں جو جلد ہی شائع ہو گی
عالمی اخبار پر انکے خبری تجزیے شائع ہوتے رہتے ہیں
ڈاکٹر نگہت نسیم۔”نائب مدیر”۔عالمی اخبار
میں خوش نصیب ہوں جب میں ٹیم میں شامل ہوئی تو بابا نے میرا تعارف کچھ یوں لکھا تھا ۔۔ ان کا لکھا ہوا میرے لیئے سند ہے ۔۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم پیشے کے اعتبارسے ماہر نفسیات ہیں اور اردو ادب اور صحافت پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور انکے افسانوں کے دو مجموعے”گرد بادِ حیات” اور ”مٹی کا سفر” شائع ہو چکے ہیں لیکن نظم نگاری میں انکا منفرد اور بے باک انداز اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے۔ انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیئے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کومرکوز رکھا ہے ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلوانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جس کی گواہی ان کی نظموں کا مجموعہ “سفید جھیل ہے “۔۔ انکے افسانے پاکستان اور بیرون پاکستان کے ادبی جریدوں میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں۔ ان کا کالموں کامجموعہ “یہی دنیا ہے یہیں کی باتیں “ بھی منظر عام پر آچکا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ اور نظموں کا دوسرا مجموعہ زیر طبع ہے ۔
نگہت نسیم سڈنی میں ایک عرصہ سے ریڈیوایف ایم 100.9 کی اردو سروس کے پروگرام “ ریڈیو دوستی “ کی میزبان رہی ھیں اور آج کل ریڈہو سڈنی 2000 – 98۔5 ایف ایم سے منسلک ہیں اور پروگرام “دوستی “کی میزبان ہیں ۔ اٍس کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچر آرٹس کی جانب سے ٹی وی ایس پر یش کیا جانے والا پروگرام “ دیسی ٹی وی “ میں بھی میزبانی کرتی رہی ھیں ۔ آج کل ایرانی ” ٹی وی سحر” پر مختلف سماجی، علمی،ادبی اور طبی مسائل پر ماہرانہ رائے
دیتی ہیں۔
شاہین حیدر رضوی۔ بیورو چیف۔ لاہور
شاہین حیدر رضوی کا قلمی نام شاہین رضوی ہے اور انکا تعلق ایک علمی اور ادبی خانوادے سے ہے۔گویا علم وادب انہیں ورثے میں ملا ہے اور اس ورثے کی حفاظت وہ کمال محبت سے کر رہی ہیں۔ایک طویل عرصے سے وطن عزیز سے باہر خلیج کے ممالک میں رہنے کے باوجود اردو زبان و ادب سے انکی محبت کم نہیں ہوئی بلکہ اسمیں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کویت میں ایک عرصے سے مقامہ اخبارات میں لکھ رہی ہیں۔
عالمی اخبار کو طویل عرصے سے خلیجی ممالک کی خبروں کے لیئے ایک ایسی ہی قلم کار کی تلاش تھی۔ عالمی اخبار کو یقین ہے کہ انکی تعیناتی سے اس خطے کی خبریں اور معلومات مزید بہتر طور پر قارئین تک پہنچ پائیں گی۔
شاہین رضوی نے اپنے تعارف میں لکھا ہے۔۔
عالمی اخبار تو ھماری ذھنی اور فکری درسگاہ ھے اور اس سے شعور وفکر کو وسعت اور نمو مسلسل مل رھی ھےجو راحت اور سکون کے ساتھہ میرے اندر ایک بےچین طالبانہ روح بھی بیدار کر رھی ھے
میرا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ھوتا ھےجن کو عالمی اخبار جیسے مستند خبری ادارے میں بے پناہ شفقت ملی ھے
میرا تعلق ایک علمی اورادبی گھرانے سے ھے۔میرے دادا سید علی حیدر رضوی ، ریئس امروھی کے خاص دوستوں میں سے تھے اور مریثہ گو شاعر تھے۔یہ ھماری بہت بڑی بدقسمتی ھےکہ اپنے والد اور پھر چچاؤں کی بہت کم عمری میں رحلت کے باعث ھم ناسمجھ بچے ان کی تخلیقات کو محفوظ نہ کرسکے۔
میری دادی بھی میر انیس و دبیر کے مرثیے تحت الفظ میں ّپڑھتیں تھیں ۔گھر کا ماحول بہت سادہ اور ادبی تھا۔ اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں۔پڑھنے لکھنے کا شوق وراثت میں ملا،اسکول او رکالج میں بھی بہترین استاد میسر آ ئے اور قلم سے قائم رشتہ آج تک برقرار ہے
کراچی یونیورسٹی سے بی۔اے آنرز میں ھی تھی کہ شادی کے بعد1983میں کویت آنا ّپڑا۔ شوھر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے اعلی تعلیم کے لیے لندن بھیجینگے مگر وہ اپنی بیماری کے باعث وعدہ پورا نہ کرسکے
میں نے 1990-تا1996-تک مصر میں قیام کیا اس دوران بہت سارے کورس کیے اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کی وھاں پڑھایا بھی اور پڑھا بھی۔
گذشتہ 27سال سے کویت میں مقیم تھی مگر میرے دل کو پاکستان کے سوا کوئی ملک نیہں بھاتا اس لیئے اب مستقل لاہور میں ہوں۔
اپنا ادبی سفر دوشیزہ ڈائجسٹ سے شروع کیا تھا اورگذشتہ 5 سال سے کویت کے مقامی اخبار میں بھی لکھ رھی ھوں اور یہاں ھونے والی تقریبات کی کمپئرنگ بھی کرتی ھوں اور سماجی خدمات کے کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ھوں۔
عالمی اخبار نے جو بھروسہ مجھ پر کیا ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس پر پورا اترنے کی توفیق عطا کرے۔آمین
روما رضوی۔ انچارج شعبہ ادب
عالمی اخبار کے لیئے اپنا تعارف انہوں نے ان الفاظ میں تحریر کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبردست شخصیات آپکے اس اخبار سے منسلک ہیں
میرے پاس تو کوئی ایسا تجربہ یا کوئی کتاب میرا حوالہ نہیں ماسوا اسکے کہ علم و ادب میری تربیت میں شامل ہے ۔۔۔ میرے دونوں ہی والدین مطالعے کے شوقین تھے اور گھر میں سب سے بڑی تفریح کتب بینی ہی سمجھی جاتی رہی ہے والدہ نے گھر پر ہی تعلیم حاصل کی تھی مگر اردو کے بہترین ادیبوں کو پڑھا اور فارسی زبان میں بھی کئی کتابوں کو پڑھتی رہیں اس لئے ہماری گفتگو میں بھی انکی تربیت شامل رہی ۔۔ والد صاحب بھی آخری دم تک جب تک انکی بینائی نے ساتھ دیا ۔۔ مختلف موضوعات پر پڑھتے تھے اور ہم سب سے ان موضوعات پر گفتگو کرتے تھے اسی لئے مطالعہ کا شوق ہم سب بہن بھائیوں میں بھی پیدا ہوگیا ۔۔میری پیدائش
12 دسمبر / 1971 میں کراچی پاکستان میں ہوئی۔۔۔گریجویشن سرسید گرلز کراچی سے مکمل کی وہاں بھی اساتذہ نے ہمیشہ مددگار و راہنما رہے اُردو مضامین لکھنے میں آل پاکستان منعقدہ مقابلوں میں بھی حصہ لیا جن میں اکثر اول انعام حاصل کیا اردو سے دلچسپی کے باعث کالج سے نکلنے والے سالانہ مجلِے کی مدیرہ بنا دی گئی۔۔۔ کراچی یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی کچھ عرصہ پیشہ ورانہ حثیت سے وکالت کو اختیار کیا اور پھر ذاتی مصروفیات کی بنا پر تدریس کے شعبہ کو ہی ترجیح دی
شادی کے بعد لاہور آنا ہوا چند سالوں کے لئے سعودی عرب پھر ملائیشیاء میں بھی کئی سال قیام رہا اور اس دوران مختلف قومیت کے لوگوں کی قربت میسر رہی تو احترامِ انسانیت
بین الاقوامی مذہب محسوس ہونے لگا۔۔یا یوں کہیئے کہ اس کائنات میں موجود ہر ذی روح قابلِ محبت و احترام نظر آنے لگا۔۔ 2014 میں وطن واپسی ہوئی تب سماجی کارکن کی حثیت سے اپنے شہر کی مختلف بستیوں میں مستحق بچوں کیلئے قائم کئے گئے اسکولز میں پڑھایا اور کچھ اولڈ ایج ہومز میں بھی کام کیا ۔۔ لوگوں کو قریب سے دیکھنے اور انکے حالات جاننے کے بعد لکھنے کو تحریک ملی اور انسانی زندگی کے کئی پہلو مشاہدے میں آئے ۔۔ افسانے نظمیں اور بلاگز لکھنے شروع کئے جنہیں دوستوں کی جانب سے ہمیشہ سراہا گیا ۔۔ صدا کاری کا شوق ہوا تو کئی دوستوں کے افسانے ریکارڈ کئے جو کئی پرائیوٹ ریڈیو چینلز نے نشر کئے ۔۔
اب تک ان تمام شعبوں میں بطور طالبعلم سفر جاری ہے ۔۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ جیسے احباب میرے سر پرستوں میں شامل ہیں ۔۔
عالمی اخبار ایک بڑا نام ہے جس سے جوڑنا ہر لکھنے والے کا خواب ہے۔۔اور میرے لئے بصورتِ نوآموز پرواز کے لئے ایک وسیع آسمان کا درجہ رکھتا ہے ۔۔۔دعا ہے کہ میں آپ اساتذہ کے سامنے ایک ہونہار طالبعلم ثابت ہوسکوں ۔۔
ظفر معین بلے جعفری بیورو چیف پاکستان
ظفر معین بلے جعفری ایک ادیب ، شاعر ، دانشور ، صحافی ، تجزیہ کار ، اردو ادبیات کے استاد ، مقرر اور متحرک شخصیت ہیں ۔سوشل میڈیا پر بھی دن رات سرگرم نظر آتے ہیں ۔ادب کا ذوق و شوق انہیں اپنے والد بزرگوار سے ورثے میں ملا، جسے انہوں نے اپنی توانائیوں کو بروئے کار لاکرخوب جلابخشی ۔ظفر معین بلے جعفری کا تعلق ایک معروف روحانی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ان کاشجرہ ء نسب عظیم روحانی بزرگ سلطان الہند خواجہ ء خواجگاں حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے ہوتا ہوا مولائے کائنات حضرت علی المرتضی ٰعلیہ السلام اور اُم ابیھا حضرت فاطمۃ الزھرا بتول بنت رسول سلام اللہ علیھا سے جاملتا ہے ۔ ظفر معین بلے جعفری کے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے مرحوم دنیائے ادب و ثقافت کاایک بڑا نام ہیں ۔ وہ اب اس دنیامیں نہیں لیکن اپنے چاہنے والوں کےدلوں میں آج بھی زندہ ہیں ۔اشفاق احمد ، این میری شمل ، پیرحسام الدین راشدی اور ڈاکٹروزیرآغا انہیں تصوف پر اہم اتھارٹی کہتے اور سمجھتے تھے۔وہ ایک ایسے صحافی تھے ،جن کی زیرادارت پندرہ سے زیادہ جرائد شائع ہوئے۔ وہ ڈیڑھ سو سے زیادہ مطبوعات کےمولف تھے، یہ کتابیں ، کتابچے اور بروشرز اردو ، انگریزی ، فارسی اور ہندی میں مرتب کی گئیں ۔ادب و ثقافت کی ترویج و ترقی کیلئے بھی انہوں نے اہم خدمات انجام دیں ۔ظفر معین بلے جعفری انہی کے رستے کے مسافر ہیں۔اپنے باپ کی طرح شہرت سے گریزاں نظرآتے ہیں ،البتہ دوسرے لوگوں کی ادبی کاوشوں کو دل کھول کر سراہتے ہیں اور ان کی تشہیر کا سوشل میڈیا پرخوب چرچا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ادب و صحافت ، درس و تدریس اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔ ماہنامہ ادب لطیف ۔ لاہور اور ہفت روزہ آوازِ جرس لاہور جیسے مقبول ادبی جرائد کے دس ، دس برس سے زائد عرصےتک مدیر بھی رہے۔ ملکی وغیر ملکی اخبارات و جراٸد میں ان کے کالمز ۔مضامین اور قطعات بھی گزشتہ پچیس برس سے شائع ہورہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیرِ ادب کے ساتھ ان کے مکالمے بھی اخبارات و جرائد کی زینت بنتے رہے ہیں ۔اپنے والد سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی مشاہیر ادب کے ساتھ رفاقتوں کی داستانیں یا ذاتی مراسم کی یادیں اور باتیں بھی وہ رقم کرتے رہے ہیں۔ان کے والد سید فخرالدین بلے نے ادبی تنظیم قافلہ بنا رکھی تھی ،جس کےماہانہ بنیاد پر پڑاٶ بارہ برس سے زاٸد عرصے تک ان کی بیٹھک میں ہوتے رہے ، میزبان توان کے والد ہی تھے لیکن مہمان داری کا فریضہ ظفر معین بلے جعفری ہی انجام دیا کرتے تھے ۔پاکستان۔بھارت اور دنیا بھر کے ہزاروں شعرإ۔ ادبا ، ناقدین ، گلوکاروں اور مصوروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ نامور شخصیات قافلے کے پڑاٶ میں شریک ہوتی رہی ہیں ۔ یہ لاہور کی ادبی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور ظفر معین بلے جعفری اس کی جھلکیاں وقتاً فوقتاً تحریروں اور یادگار تصویروں کی صورت میں دکھاتے رہتے ہیں ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے ظفر معین بلے جعفری کی والدہ ماجدہ محترمہ مہر افروز بلے صاحبہ بھی ایک بہت زیادہ ادب نواز خاتون تھیں ان کے بانو قدسیہ ۔ صدیقہ بیگم ۔ ادا جعفری ۔ الطاف فاطمہ ۔ منصورہ احمد ۔ بیگم مسعود اشعر ۔ افضل توصیف اور بیگم انتظار حسین ، سیما ٕپیروز اور ساٸرہ ہاشمی جیسی نامور ادبی و مجلسی خواتین سے ذاتی ، گھریلو اور دوستانہ مراسم رہے۔ظفر معین بلے جعفری آٹھ بہن بھاٸیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان سے بڑے تین بھاٸی صاحبان سید انجم معین بلے ۔ سید عارف معین بلے اور آنس معین دنیاٸے شعر و ادب میں منفرد ، جداگانہ اور ممتاز مقام کے حامل ہیںسید ظفر معین بلے جعفری کاسفر کئی جہتوں میں نظر آتا ہے۔ یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی میں بھی سچل چئیر میوزیم کے نگران و منتظم کی حیثیت سے میں خدمات انجام دے کر اپنے گہرے نقوش چھوڑ چکے ہیں ۔
آٸی۔سی۔ایم۔اے۔پی۔ ملتان برانچ کے پرنسپل یا منتظم اعلی کے طور پر بھی خدمات انجام دے کر نام کمایا۔کیمبرج سسٹم او اینڈ اے لیول میں اردو زبان و ادب کے بہترین استاد قرار پائے۔ بحیثیت سینٸر کیمبرج استاد انہوں نے 2000 تا 2021 مسلسل اکیس برس ملک بھر میں کیمبرج امتحانات کا بہترین نتیجہ دینے کا اعزاز بھی سمیٹا ہے۔کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیراہتمام کیمبرج ٹیچرز ٹریننگ ورکشاپ، پروگرام بھی مسلسل تین برس تک ظفر معین بلے جعفری کی سربراہی میں ہواسید فخرالدین بلے صاحب کے قاٸم کردہ اشاعتی ادارے معین اکادمی کے بورڈآف ڈاٸریکٹرز میں بھی شامل رہے۔انسانیت کی خدمت کاجذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ جہاں کسی کے ساتھ ناانصافی ہو ،ان کاقلم جہاد پر آمادہ دکھائی دیتا ہے ۔آپ ان کے بہت سے رنگ عالمی اخبار میں دیکھتے رہے ہیں اور اب ان کی اس عالمی ادارے سے وابستگی کے بعد آئندہ بھی دیکھتے رہیں گے
مقدسہ بانو، بیورو چیف مانچسٹر
تعلیم و تربیت ،ڈگری جرنلزم یومینٹیرین نیڈز اسیسمنٹ، ہاورڈ ہیومینٹیرین انیشیٹو،پبلک ریلیشنگ،سپیشلسٹ ٹرینگ ” وائلنس اگینسٹ چلڈرن”سپورٹ ویکٹم آف ٹارچر ( یورپی یونین)این جی اوز ڈویلپمنٹ نیشنل سنٹر اسلام آبادموبیلٹی اینڈ اورینٹیشن، منسٹری آف وومن ڈویلپمنٹ اینڈ سوشل ویلفئیر اینڈ سپیشل ایجوکیشن ۔انڈرسٹینڈنگ چلڈرن بیہویر برطانیہ ،کئیر اینڈ ایجوکیشن برطانیہآی ٹی سکلیزبرطانیہ،پیشہ ورانہ تجربہدرس و تدریس،امیگریشن کیس ورکر ،سوشل ورکر(جہلم فورم، عورت فاونڈیشن، سپارک، ڈسٹرکٹ ویمن ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل، ممبر سٹیزن ایکشن کمیٹی، الفلاح سکالرشپ سکیم و دیگرممبرپریس کلب آف پاکستان یو کے( نائب صدر)سوشل میڈیا آفیسر ،وومن فورم لیبر پارٹی،نائب صدر جہلم فورم مانچسٹر برانچ یو کےسیکرٹری نشرو اشاعت خزینہ شعر و ادب برطانیہایڈیشنل جنرل سیکرٹری پی پی پی برطانیہ
سلمان مرچنٹ .۔ویب ماسٹر اور سربراہ تکنیکی شعبہ
.سید ندیم زیدی۔ سربراہ شعبہ مارکیٹنگ و کمرشل سیکشن
Mohammed Safdar. Editor English Section
Mohammed Safdar introduces himself like this……..I have graduated from the University of Warwick in Economics, Politics and International Studies, and am currently working at BDO Stoy Hayward, providing financial services.
Despite the fact that I’m not studying Journalism, I’m concious of the world around me, and the way in which worldy affairs are mediated to the populace, and as a result, I’ve always been interested in writing. Encouraged by academically motivated parents, writing has been a gift passed on to me, and one which I enjoy .using to speak about current affairs.














عالمی اخبار کی سالگرہ کے موقع پر جناب صفدرہمدانی اور ان کی ٹیم کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں