قسط چھیالیس
حضرت امام حسین کے اکثر رفقا
جام شہادت نوش فرما چکے تھے
جن میں
وہب بن عبداللہ کلبی بھی شامل شہدا تھے
وہب الکلبی
پیدائشی طور پر مسیحی تھے
اور کوفہ کے جانے پہچانے تاجر تھے
روز عاشور سے چند روز قبل
اپنی والدہ اور بیوی سمیت مسلمان ہو گئے تھے
لوگ اب بھی انہیں “وہب النصرانی” کہہ کر یاد کرتے ہیں
وہ میدان جنگ میں
مخصوص مسیحی جنگی لباس میں ملبوس لڑنے گئے تھے
شمر نے انہیں نصرانی کہہ کر مخاطب کیا تھا
جس کا جواب
وہب کلبی ع نے یہ کہہ کردیا تھا
کہ
“ میں مولا حسین ع کے سامنے سر تسلیم خم کرکے
ان کے فدائی اور جانثار کی حیثیت سے میدان میں آیا ہوں “
تاریخ لکھتی ہے
کہ
وہب کلبی کے والد نے
کسی زمانے میں
کوفہ میں
امام علی علیہ السلام سے یہ کہہ کر دعا کروائی تھی
کہ
میں مسیحی ہوں
لیکن مجھے معلوم ہے
کہ
آپ اللہ کے ولی اور اُس کے خاص بندے ہیں
وہ آپ کی دعا ضرور سنے گا
آپ میرے اور میری زوجہ کیلئے دعا کردیجئے
کہ
ہماری اولاد بخیر و عافیت دنیا میں آسکے
ہم ۔۔ اس بابت بہت پریشان ہیں
وہب بن عبداللہ کلبی اسی مسیحی کے بیٹے تھے
جس کو امام علی علیہ السلام نے دعا دی تھی
وہب کلبی
اپنی شادی کے بعد
اپنی ماں اور زوجہ کے ہمراہ واپس کوفہ جارہے تھے
کہ
راستے میں ایک لشکر اور بہت سے خیموں کو دیکھا
اور تفصیل معلوم ہونے پر
اپنی والدہ کو بتایا تھا
کہ
یہاں علی ابن ابی طالب ع کے بیٹے حسین علیہ السلام
اُن کے خاندان اور اُن کے انصار کو گھیر لیا گیا ہے
تو وہب کی والدہ نے اُنہیں یاد دلایا
کہ
یہ اُنہی علی ع کے بیٹے ہیں
جن سے تمہارے والد نے دعا کی درخواست کی تھی اور تم پیدا ہوئے تھے
وہب کی شادی کو
بس 19 دن ہی گزرے تھے اور اُن کی عمر 17 سے 21 سال کے درمیان تھی
جب انہوں نے
حضرت امام حسین کے قافلے میں شمولیت اختیار کی
اور ان سے عہد وفاداری کیا
کریم النفس امام حسین علیہ السلام نے وہب سے فرمایا
“ تمہاری ابھی شادی ہوئی ہے ۔۔۔ اپنی زندگی کی فکر کرو“
لیکن آپ وہیں ٹھہرے رہے
حتی کہ
شب عاشور آگئی
امام عالی مقام نے
خیمے کا چراغ بجھا کر اعلان کردیا
کہ
“ جو جانا چاہتا ہے، چلا جائے، اُس کی جنت کی ضمانت میں دیتا ہوں “
تاکہ
آنے والے زمانوں میں کوئی یہ نہ کہہ سکے
کہ
علی کے بیٹے نے (نعوذ باللہ) کسی کو مجبور کیا
لیکن سلام ہے اُن پاک و مطاہر روحوں پر
کہ
ادھر چراغ دوبارہ روشن ہوا
اور ادھر اُن کے دل میں ارمان کہ سب سے پہلے اذنِ جہاد اُسے ملے
وہب کلبی کربلا کے دوسرے شہید تھے
بہت جوانمردی سے لڑے تھے
شہادت کے بعد اُن کی زوجہ میدان جنگ کی طرف بڑھیں
اور وہب کی لاش پر پہنچ کر
بے اختیار یہ کہتے ہوئے اُن کے چہرے سے خون صاف کرنا شروع کیا
کہ
“ میرے ماں باپ تم پر فدا
ایسے ہی اچھوں کی حفاظت کرتے ہیں
جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد ہے
تمہیں جنت مبارک ہو “
اس موقع پر
شمر بن ذوالجوشن نے
اپنے غلام کو حکم دیا
وہب کی زوجہ کو بھی قتل کر دو
لہذا وہب کے ہمراہ
اُن کی زوجہ بھی شہید ہوگئیں
اور انہیں
کربلا کی پہلی خاتون شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہے
لشکر یزید نے
وہب کلبی کا سر قلم کرکے
اُن کی والدہ کو بھجوایا
جسے
اُنہوں نے وہب کے سر پر بوسہ دیا
اور
یہ کہہ کر سر مبارک واپس لشکر یزید کی جانب پھینک دیا
کہ
“ہماری قوم
راہِ خدا میں قربان کی گئی چیز واپس نہیں لیا کرتی“
وہب کلبی کی والدہ بھی شہدائے کربلا میں شامل ہیں
اس خاندان نے
امام علی علیہ اسلام کی دعا کا بدلہ
کربلا میں اُن کے بیٹے حسین کی نصرت کرکے چکا دیا
السلام علیک یا وہب بن عبداللہ کلبی
سلام ہو آپ پر آپکی والدہ اور اہلیہ پر کہ
آپ نے اپنا سارا کُنبہ نواسہ رسول پع قربان کر دیا
روزمحشر مجھے یقین ہے کہ آپ سب کے چہرے نور شہادت سے روشن ہونگے
ہم حسین کے چاہنے والوں اور عزاداروں کا آپکو سلام
جاری ہے












