ایک عرضی ۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
162

اے شجر سایہ دارو
اے ست رنگی چادر اوڑھے پھولو
اے مہکتی اٹھلاتی ہواؤ…
اے راہ کے سبزا زارو
اے راہ میں سجے پہاڑو
اے پہاڑوں سے گرتی آبشارو
اے گنگناتے دریاؤ ، جھیلو
اے بےکنار آسمان جیسے سمندرو
تم سب برگزیدہ ہو
بارگاہ جمال میں چنیدہ ہو
کارخانہ قدرت کے رازدار ہو
وللہ تم سب ہر پل مشاہدہ نور کرتے ہو
اے یوم الست کے گواہو
ایک التجا ہے ۔۔ منت ہے
میری یہ عرضی حبیب خدا تک پہنچا دو
پر ۔۔۔ سنو نجف سے ہوتے ہوئے مدینے جانا
نم دیدہ میراسلام کہنا اور خاموش بیٹھ رہنا
جب سرکار پوچھیں تب ہی عرضی کھولنا
اور ۔۔ بس رو دینا ۔۔
“نگہت نسیم بنت محمد نسیم احمد کا گریہ ہے
میں مٹی ہو ں مجھے خاک بنا دیجئے “

الہی آمین

SHARE

LEAVE A REPLY