غزہ میں کئی گھنٹے تاخیر کے بعد جنگ بندی پر عمل در آمد شروع، رہا ہونے والے یرغمالوں کے نام جاری

0
271

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ جنگ بندی میں تاخیر حماس کی جانب سے رہا کیے جانے والے تین یرغمالوں کے نام جاری کرنے میں آنے والے التوا کی وجہ سے ہوئی تھی۔

اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ عسکریت پسند تنظیم حماس کی جانب سے معاہدے کے مطابق آزاد کیے جانے والے یرغمالوں کے نام موصول ہونے تک غزہ میں جنگ بندی نہیں کی جائے گی۔

حماس کے مسلح ونگ نے رہا کیے جانے والے یرغمالوں کے نام سوشل میڈیا پر جاری کر دیے ہیں تاہم اس پر اسرائیل کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

حماس نے تین یرغمالوں کے نام جاری کیے ہیں جن کو اتوار کو رہا کیا جائے گا۔

اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق حماس کی جانب سے جن تین یرغمالوں کو رہا کیا جائے گا وہ تین لڑکیاں ہیں ان میں جنوبی اسرائیل سے یرغمال بنائی گئی 31 سالہ دورون اسٹین بریچر، 28 سالہ ایملی دیماری اور 23 سالہ رمی گونین شامل ہیں۔ ایملی دیماری کے پاس برطانیہ کی بھی شہریت ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو صبح سویرے کہا تھا کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس جب تک اُن تین یرغمالوں کے نام فراہم نہیں کرتی جنہیں متعدد فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں اتوار کو رہا کیا جانا ہے۔ اس وقت تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہو گی۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ جنگ بندی جس کا آغاز صبح ساڑھے آٹھ بجے ہونا ہے۔ لیکن حماس جب تک رہا کیے جانے والے یرغمالوں کی فہرست فراہم نہیں کرے گی، جنگ بندی شروع نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی طرف سے ایسی ہی تنبیہ ایک رات قبل بھی کی گئی تھی۔

دوسری طرف حماس نے ناموں کی فہرست میں تاخیر کی تکنیکی وجوہات بتائی ہیں۔

حماس کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ وہ پچھلے ہفتے اعلان کردہ جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے۔

ایسی صورتِ حال میں طے شدہ معاہدے کے تحت یرغمالوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں جو کہ 15 ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کی طرف پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 42 روزہ جنگ بندی کے پہلے فیز میں 33 اسرائیلی یرغمالوں کی غزہ سے واپسی ہونا ہے جب کہ سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY