ماہِ شعبان کی اہمیت،زاہدہ خوشی

0
1243

ماہِ شعبان کی اہمیت

اسلامی تقویم میں ماہِ شعبان کو ایک خاص روحانی مقام حاصل ہے۔ یہ مہینہ رمضان المبارک کی تمہید اور اس کی تیاری کا ذریعہ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اس مہینے کو خصوصی توجہ عطا فرمائی اور اس میں عبادات، دعا اور استغفار کی کثرت کی تلقین فرمائی۔ شعبان دراصل بندۂ مومن کے لیے اپنے باطن کو سنوارنے، اعمال کی اصلاح کرنے اور اللہ تعالیٰ سے قربت بڑھانے کا مہینہ ہے۔

ماہِ شعبان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینے میں اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“یہ ایسا مہینہ ہے جس میں بندوں کے اعمال رب العالمین کے حضور اٹھائے جاتے ہیں، اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔”
اسی بنا پر حضور ﷺ شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔

شعبان کی پندرہویں رات، جسے شبِ برات کہا جاتا ہے، بھی بڑی فضیلت کی حامل ہے۔ روایات کے مطابق اس رات اللہ تعالیٰ اپنی رحمتِ خاص کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے، گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے اور آئندہ سال کے معاملات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ رات توبہ، دعا، عبادت اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا بہترین موقع ہے، بشرطیکہ عبادات کو اخلاص اور شریعت کی حدود کے ساتھ انجام دیا جائے۔

یہ مہینہ ہمیں رمضان المبارک کے استقبال کا شعور عطا کرتا ہے۔ شعبان میں عبادت کی مشق، نفس کی تربیت اور دل کی صفائی، رمضان کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جو شخص شعبان میں اپنے معمولات درست کر لیتا ہے، اس کے لیے رمضان کی عبادات سہل اور بابرکت ہو جاتی ہیں۔

ماہِ شعبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی صرف ظاہری مصروفیات کا نام نہیں بلکہ اپنے اعمال کا محاسبہ، گناہوں سے ندامت اور ربِ کریم کی رضا کی جستجو ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر ہم اس مہینے کی قدر کر لیں تو رمضان المبارک ہمارے لیے حقیقی روحانی انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

الغرض ماہِ شعبان مغفرت، تیاری اور قربِ الٰہی کا مہینہ ہے۔ اس کی قدر کرنا، سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق عبادت کرنا اور دل کو کینہ، حسد اور غفلت سے پاک کرنا ہر مسلمان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY