سلسلے توڑگیا وہ سبھی جاتے جاتے.آفتاب احمد

0
5775

میرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق

جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے

میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی

جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے

بلا شبہ، نثر کے مقابلے شاعری کا جادو ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بات صرف اُردو شاعری پر ہی صادق نہیں ہوتی بل کہ دنیائے ادب کی شاعری ہر دور میں قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی آئی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کوئی شاعر ناقدین ادب کی توجہ کا بھی مرکز بنا رہا ہو اور عام لوگوں نے اِسے دادِ تحسین بھی دی ہو۔ اُردو ادب کے دامن میں بھی ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کی شہرت کے چرچے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔

احمد فرازؔ اُردو شاعری کی ایک با اثر اور معتبر آواز ہے۔ احمد فرازؔ کی شاعری کو غور سے پڑھا گیااور آوازکو سنجیدگی سے سنا گیا۔ احمد فرازؔ نے جہاں ایک جانب احتجاجی، انقلابی، رومانی اور علامتی شاعری کی وہیں دوسری جانب انھوں نے ایسے اشعار بھی کہے جن کی بدولت اُردو ادب میں ان کے قد میں اور اضافہ ہوا۔ در اصل یہ اشعارہی ان کی شہرت اور مقبولیت کا سبب بھی بنے۔ انقلابی، احتجاجی او ر رومانی شاعری کے ذریعہ احمد فرازؔ نے اُردو ادب میں الگ مقام ومرتبہ بنایا۔

فراز نے اپنی زندگی میں کہا تھا ‘سلسلے توڑگیا وہ سبھی جاتے جاتے’ مگر جس طرح ان کا تذکرہ ادب کی محفلوں میں ہے، اسے دیکھ کر یہی کہا جاسکتا کہ سلسلہ ٹوٹا نہیں تجھ سے تعلق کا فراز۔

جدید شعرا میں احمد فراز کا نام کئی اعتبار سے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ یوں تو احمد فراز کی شاعری کا بنیادی آہنگ رومانی تھا لیکن وہ رجز کے بھی شاعر تھے۔ انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف اپنے قلم سے مسلسل جہاد کیا اور ساری دنیا کو امن محبت اور اخوت کا پیغام دیا۔ وہ بنیادی طور پر امن کے پیغام بر تھے، اس لیے ان کی خدمت میں سب سے بڑا نذرانہٴ عقیدت یہی ہو گا کہ ہم اپنے طور پر امن اور محبت کے پیغام کو عام کریں اور کوشش کریں کہ اردو کی ترویج و اشاعت ہر سطح پر ہو، کیونکہ احمد فراز نے بھی اس زبان کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔

انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے۔ ان کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہ (بھارت ) میں ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع “” احمد فراز کی غزل “” ہے۔ بہاولپور میں بھی “” احمد فراز۔ فن اور شخصیت “” کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،فرانسیسی ،ہندی،یوگوسلاوی،روسی،جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں۔

احمد فراز ایک محب وطن پشتون خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کوہاٹ سے مکمل کی ۔اس کے بعد ان کا خاندان پشاورمنتقل ہو گیا ۔اس تاریخی شہر میں انھیں تعلیمی مدارج طے کرنے میں بہت مدد ملی ۔پشاور پہنچنے کے بعد اُنہوں نے سب سے پہلے پشاورل مڈل اسکول میں ابتدائی تعلیم مکمل کی ۔۔

احمد فراز ( یوم پیدائش 12 جنوری، 1931ء – یوم وفات 25 اگست، 2008ء) میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ ‘ تھا۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر لکھنے شروع کیے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ “” تنہا تنہا “” شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ “” درد آشوب “”چھپا جس کو پاکستان رائٹرزگلڈ کی جانب سے ” آدم جی ادبی ایوارڈ “” عطا کیا گیا۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ انہیں 1976 ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا۔

یک دنیا کو میری دیوانگی خوش آ گئیا

یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے

عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز

پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے

احمد فراز کو بچپن ہی سے شعر و شاعری سے شغف تھا ۔گھر کے علمی و ادبی ماحول نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو صیقل کیا ۔والدین نے بہت لاڈ اورپیار سے ان کی پرورش کی اور ہمیشہ ان کی پسند کا خیال رکھا ۔ایک مرتبہ عید کے موقع پر حسب معمول سب افراد خانہ کے لیے نئے کپڑوں کی خریداری کا مرحلہ آیا ۔اس زمانے میں بالعموم والدین خود ہی اپنی اولاد کے لیے موزوں لباس اورکپڑوں کا انتخاب کیا کرتے تھے ۔اس بار جو کپڑے آئے وہ احمد فراز کو پسند نہ آئے ۔ان کا خیال تھا کہ باقی افراد خانہ کے کپڑے زیادہ پر کشش ہیں ۔

خاص طورپران کے بڑے بھائی کے لیے جو لباس خریدا گیا وہ احمد فراز کو اچھا لگا۔احمد فراز نے اپنے لیے لائے گئے کپڑوں کو کھردرا ،بد وضع اور کمبل نماسمجھتے ہوئے اسے قیدیوں کی وردی سے مشابہ قرار دیا۔ہزار خوف میں بھی ان کی زباں نے ہمیشہ دل کی بات کو لبوں پر لانے میں کبھی تامل نہ کیا ۔ان کی اس بات کو سب نے تسلیم کیا اور آئند ہ ان کے لیے ان کے ذوق کے مطابق لباس کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ۔اس کم عمری میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے اپنی زندگی کا یہ پہلا شعر بر جستہ کہا

سب کے واسطے لیے ہیں کپڑے سیل سے

لائے ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے

احمد فراز جو میرے محبوب شاعر ہیں اور جنہوں نے میر اور غالب کی روایت کو توانائی بخشی ہے۔”

احمد فراز کے والد مرحوم اردو کے علاوہ فارسی کے بھی اچھے شاعر تھے، پھر فراز کی تعلیم و تربیت ایسے ماحول میں ہوئی جہاں بیدل، سعدی، حافظ، عرفی، نظیری اور غالب کی فارسی شاعری کے چرچے رہتے تھے۔ کوہاٹ اور پشاور میں اردو شعر و شاعری کا ایک بھر پور ماحول پیدا ہو چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ احمد فراز کی غزل دراصل صنفِ غزل کی تمام روشن روایات کے جدید اور سلیقہ مندانہ اظہار کا نام ہے۔ اس کا ایک ایک مصرعہ ایسا گھٹا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک لفظ کی تبدیلی کی گنجائش بھی باقی نہیں چھوڑتا۔ اور چونکہ فراز کی غزل تکمیل (پرفیکشن) کی ایک انتہا ہے اس لیے جب وہ نظم کہتا ہے تو اسکی بھی ایک ایک لائن برجستہ اور بے ساختہ ہوتی ہے۔ چنانچہ احمد فراز غزل اور نظم کا ایسا شاعر ہے جو دورِ حاضر کے چند گنے چنے معتبر ترین شعراء میں شمار ہوتا ہے۔

تو لاکھ فراز اپنی شکستوں کو چھپائے

یہ چپ تو ترے کرب کا اظہار کرے ہے

احمد فراز کی شاعری اُردو میں ایک نئی اور انفرادی آواز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے وجدان کی اور جمالیاتی شعور کی ایک خاص شخصیت ہے جو نہایت دل کش خدوخال سے مزین ہے ۔ ان کے سوچنے کا انداز نہایت حساس اور پُر خلوص ہے ۔ ان کی شاعری کو صرف کلاسیکی یا صرف رومانی شاعری نہیں کہا جاسکتا ہے بلکہ دور حاضر کو لطیف ذہنی ردعمل کاسچا نمونہ کہا جاسکتا ہے ۔ وہ صداقت کے نئے مقامات سے اپنی باتیں کہتے ہیں اور یہ باتیں دعوتِ فکر دیتی ہوئی حد درجہ دلکش و دل نشیں ہیں۔ ان کا کلام اُردو شاعری کے نئے موڑ کے کئی نازک زاویوں کی لچک اور تھر تھراہٹیں اپنے اندر رکھتا ہے اور خیال کی ترتیب و تہذیب کا سامان بھی ان میں موجود ہے ۔

کس کے لبوں پہ نعرۂ منصور تھا فراز

ہے چار سُو صدائے مکرّر لگی ہوئی

فرازؔ اپنے وطن کے مظلوموں کے ساتھ ہیں انہی کی طرح تڑپتے ہیں مگر روتے نہیں بلکہ ان زنجیروں کو توڑتے ، ٹکڑے ہوئے ہیں ۔ ان کا شعر نہ صرف یہ کہ اعلیٰ ادبی معیار کا ہے بلکہ ایک شعلہ ہے جو دل سے زبان تک لپکتا ہوا معلوم ہے ۔حسن و عشق کے شاعر فراز کی شاعری کو جہاں ہر عمر کے شائقینِ ادب میں بے پناہ مقبولیت ملی وہیں برِ صغیر کے مشہور غزل گائیکوں نے ان کی غزلیں گا کر عام سامعین میں بھی مقبول بنادیا۔

تو بھی نادم ہے زمانے سے فراز

وہ بھی نا خوش ہیں وفا سے تیری

شہنشاہ موسیقی مرحوم مہدی حسن نے فراز کی کئی غزلوں کو اپنی آواز کا سحر عطا کیا مگر جب انہوں نے ‘رنجش ہی سہی دل ہی دکھانا کے لیے آ’ پیش کی تو پہلا مصرعہ بہت جلد عوامی حلقوں میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرگیا۔ آج بھی اس کی یہ شہرت برقرار ہے۔پڑوسی ملک ہندوستان میں بھی احمد فراز کی شاعری کو شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ بھارتی موسیقی کی سدا بہار آواز لتامنگیشکر بھی ان کی کئی غزلیں اور گیت گاچکی ہیں۔ فراز کی ایک غزل ‘آنکھ سے دور نہ ہو، دل سے اترجائے گا’ جب لتا جی نے گائی تو اسے بہت پذیرائی ملی۔ جگجیت نے بھی فراز کی غزلیں گائی ہیں۔

پاکستان کی ملکہ ترنم میڈم نورجہاں نے ان کی کئی غزلوں کو اپنی آواز عطا کی اور یوں فراز کی غزلیں ان لوگوں تک بھی پہنچ پائیں جو پڑھنا تو نہیں جانتے تھے مگر لازوال آوازوں کی سنگت سے وہ بھی احمد فراز کے مداح ہوئے۔

احمد فراز نے اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے جہاں شعوری ،فکری تبدیلیوں اور انسان دوست رویوں کے فروغ کے لئے جدوجہد کی وہاں ان کی فلمی شاعری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے گوفلموں کیلئے باقاعدہ شاعری نہیں کی مگران کی تحریرمیں وہ درد اور چاشنی تھی جسے فلم میکر اپنی فلموں میں شامل کئے بغیرنہ رہ سکے ۔ فلموں کے لئے ان کی غزلیں گاکر کئی گلوکاروں کوبھی بے پنا ہ شہرت ملی اور فراز کا کلام زبان زد عام ہوا۔

احمد فراز نے شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی سے بھی اصلاح لی کئی مقام پر حضرت جوش کو اپنا استاد مانا ہے ۔شعری سفر اختیار کرنے کے بعد فراز معروف ترین و متبادل شاعر کے طور پر ادبی نشتوں میں پہچانے لگے ۔حضرت جوش ملیح آبادی ،فیض ،قتیل ،ساحر لدھیانوی اور حبیب جالب ایسی نابغہ روز گار ہستیوں کے ہوتے ہوئے اپنی پہچان آپ بنے ۔راقم الحروف نے فراز صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ نے استاد کس کو مانا تو فراز صاحب نے کہا کہ استاد جوش ملیح آبادی کو میں نے استاد مانا ہے ۔اگر میں ان سے اصلاح نہیں لیتا تو گوشہ گمنامی میں رہتا ۔میری شاعری میں جو بھی نکھار آیا استاد جوش ملیح آبادی کی بدولت آیا ۔

فراز مملکتِ اردو ادب کے واحد شاعر تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں بے پایاں عالمگیر شہرت حاصل کی، فراز کے اسالیبِ شعری کی خاص بات زندگیوں پر براہِ راست اثر پزیری، بلاواسطہ اور آلودگیِ نشیب سے مبّرا سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جمالیاتی شاعرانہ اظہارہے۔

صلیبوں پر کھنچے جاتے ہیں لیکن

کسی کے ہاتھ میں پرچم نہیں ہے

فراز اس قحط زارِ روشنی میں

چراغوں کا دھواں بھی کم نہیں ہے

فراز صاحب اپنے وطن پاکستان میں جتنے مشہور و معروف تھے ، اتنے ہی ہندوستان میں بھی مقبول تھے۔ وہ بھارت کو اپنا دوسرا گھر بھی کہتے تھے۔ ہندوستان کے کسی بھی بڑے مشاعرے میں ان کی شرکت ضروری سمجھی جاتی تھی۔

یہ جو بعض لوگ دُور کی کوڑی لاتے ہیں کہ فراز کے ہاں حسن و عشق کی نرمیوں کے ساتھ ساتھ تغیر و انقلاب کی جو للکار ہے وہ اسے تضادات کا شکار بنا دیتی ہے تو یہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ حسن و عشق کی منازل سے گزرے بغیر انقلاب کی للکار اعتماد سے محروم رہتی ہے اور وہی شعراء صحیح انقلابی ہوتے ہیں جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں کے اندازہ داں ہوتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ فراز کا یہ کمال بھی لائقِ صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود وہ اپنی انقلابی شاعری میں بھی سچا شاعر رہا ہے۔ وہ نعرہ زنی نہیں کرتا، صورتحال کا تجزیہ کرتا ہے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی سوچ کے مطابق سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اُس کا یہ دعویٰ صد فیصد درست ہے کہ

دیکھو تو بیاضِ شعر میری

اک حرف بھی سرنگوں نہیں ہے

فراز اپنی فطرت میں ایک رومانوی شاعر ہے جسے ماضی کی یادیں شعری مواد مہیا کرتی ہیں ۔ محبوب کی زلفیں ، عارض اور سراپا جس کے بیان کو توانائی دیتے ہیںمگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ فراز کا سیاسی یا شعری شعور ناپختہ ہے ۔ ان کی نظم محاصرہ پڑھیے اور ضیا الحق کے تاریک دور کو یاد کیجئے تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ فراز ترقی پسندوں کا نمائندہ ہے جب وہ للکار کر کہتا ہے

مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا

جو اپنے شہر کومحصور کرکے ناز کرے

مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سرکا

جو غاصبوں کو قصیدہ سے لے کر سرفراز کرے

اس للکار ترقی پسندی کا مقامِ فراز بھی ہے اور پختہ سیاسی نقطہ نظر بھی ۔ آمریت کے خلاف ایک قلم کار کی یہ پکار عوامی حاکمیت کے اس اعلیٰ سماجی جذبے کا اظہار ہے جو عالمی سطح پر مستند بھی ہے اورمصروف بھی ۔ ایک شاعر زندگی کے مختلف مرحلوں میں سوچ کے کئی زاویوں کودریافت کرتا ہے ۔ غم جاں سے غم جاناں اور غم جہاں تک کا یہ سفر فراز کی شاعری میں بولتا نظر آتا ہے ۔

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز

یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے، یوں ہے

فراز بھی ایسے شاعر ہیں جو ترقی پسند مکتبہ فکر کی حمایتی ہونے کے باوجود نعرے بازی نہ کرسکے ۔ ان کی سادگی ، جذبوں کی گہرائی ،اظہار کی بے ساختگی ، کلاسیکی روایت سے وابستگی اور جدید نظریات سے آشنائی ، انہیں بڑے شاعروں میں شامل کرتی ہے ۔ ایسے بڑے شاعر جنہیں قبولیت عام کی سند ہی نہیں ملی بلکہ ادب کے خزانے میں ان کی سعی قابل قدر ہیرے جواہر کے اضافے کا سبب بھی بنی ۔ خیال پرانا ہوسکتا ہے ، مشاہدہ تشنہ ہوسکتا ہے مگر شاعرانہ اظہار ہمیشہ مکمل ہوتا ہے جو مشاہدے اور خیال کے کسی ایک رُخ کو اپنے قاری پر واضح کردیتا ہے جن شاعروںمیں یہ خصوصیات موجود ہوتی ہیں وہ بڑے شاعر ہوتے ہیں اور فراز میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ آئندہ آنے والا ادبی مورخ رتبہ بندی میں فراز کے مقام کا تعین کرتے وقت کن تعصبات سے گریزکرے گا اورکن بنیادو ںپر فیصلہ کرے گا ، اس بات سے قطع نظر ایک بات حتمی ہے کہ فراز ان خوش قسمت تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہیں ان کی زندگی میں شہرت کے آسمان کی بلندیاں نصیب ہوئیں ۔

فراز اب کوئی سودا ، کوئی جنوں بھی نہیں

اور چین سے کٹ رہے ہوں دن ، یوں بھی نہیں

نہ جانے کیوں مری آنکھیں برسنے لگتی ہیں

جو سچ کہوں تو کچھ ایسا اداس ہوں بھی نہیں

اردو زبان کے ممتاز شاعر احمد فراز 25۔اگست 2008بروز پیر عازم اقلیم عدم ہو گئے ۔اس نامور پاکستانی ادیب ،دانش ور ،حریت فکر کے مجاہد ،سلطانیءجمہور کے حامی اور عظیم تخلیق کار کی وفات پر پوری دنیا میں دلی صدمے کا اظہار کیا گیا۔

انھوں نے حریت ضمیر سے جینے کے لیے اسوہءشبیرؓ کو اپنایا ۔تخلیق فن کے لمحوں میں خون بن کر رگ سنگ میں اتر جانے والی ان کی شاعری قاری کے قلب و نظر کو مسخر کر لیتی ہے ۔اپنی بیاض شعر کے تما م حروف کو محترم ، معزز و سر بلند رکھنے والے اس زیرک،جری ،فعال اور مستعد تخلیق کار نے تمام عمر فروغ گلشن و صوت ہزار کے موسم کے انتظار اور انسانیت کے وقار اورسر بلندی کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں ۔اپنے عہد کے تمام واقعات کی ساعتیں اور ان کی ترجمان سماعتیں زندگی کے اس سفر میں جب بھی یاد آئیں گی تو ان کا ایک ایک حرف پور ی قوت اور تابانی کے ساتھ زندگی کی حقیقی معنویت کو اجاگر کر کے اپنے وجود کا اثبات کرے گا ۔ استحصالی طبقے کے خلاف وہ ایک شعلہ ءجوالا کے مانند تھے ۔مظلوم اور بے بس انسانیت کے ساتھ ان کے قول و اقرار اور عہد وفا ہمیشہ استواررہے ۔شب الم مآل کار اپنے انجام کو پہنچے گی ۔ فسطائی جبر کے مسلط کردہ مہیب سناٹوں اور آمریت کی مہیب رات کی جانگداز ظلمت میں ان کی شاعری ستاہءسحر کے مانند دلوںکو ایک ولولہءتازہ عطا کرتی رہے گی ۔

شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز

پر تری سادہ بیانی اور ہے

احمد فراز کی شاعری کو دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت نصیب ہوئی ۔وہ پاکستان ،بھارت ،یورپ ،عرب ممالک اور دنیا بھر کے پس ماندہ اور ترقی پذیرممالک کے عوام کے حقیقی خیر خواہ اور درد آشنا تھے۔ان کی شاعری نے فکر و نظر کو اس طرح مہمیز کیاکہ زندگی کے نشیب و فرا ز حقیقی تناظر میں سامنے آتے ہیں۔

میں چپ ہو جاﺅں گا بجھتی ہوئی شمعوں کے ساتھ

اور کچھ لمحے ٹھہر !اے زندگی !اے زندگی

احمدفراز کو 1966میں پاکستان رائٹرز گلڈ کی جانب سے آدم جی ادبی ایوارڈ ملا ۔اس طرح ان کی تخلیقی کامرانیو ں کا ہر سطح پر بر ملا اعتراف کیا گیا ۔1972میں انھیںدھنک ایوارڈ ملا ۔اس ایوارڈ کے مطابق انھیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نہایت مقبول اردو شاعر تسلیم کیا گیا ۔1990میںادب کا اباسین ایوارڈ بھی انھیںلا۔ادب اور انسانی حقوق کے لیے ان کی جد و جہد کے اعتراف میں (جمشید نگر ۔بھارت )جے این ٹاٹا ایوارڈ 1992 میں ان کے حصے میں آیا ۔انھو ں نے ہمیشہ حق و صداقت اورحریت فکر کو اپنا مطمح نظر قرار دیا ۔ایک بلند پایہ ادیب اوردانش ور کی حیثیت سے انھو ںنے جبر کاہر انداز مسترد کرتے ہوئے قلم کو اپنی قوم کی امانت قرار دیا۔انھیں نقوش ایوارڈ برائے فروغ ادب (1992-1993)ملا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ احمد فراز نے ہر قسم کی ابتلا اور آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور ظلم کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کر دیا

۔احمد فراز کو کئی عالمی ایوارڈ بھی ملے۔ان میں فراق ایوارڈ بھی شامل ہے جو انھیں بھارت سے 1982میں ملا ۔کینیڈا سے انھیں 1991میں عالمی اردو ایوارڈ ملا ۔اس طرح ان کی شہرت دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی ۔وہ اردو زبان و ادب کے ایک ایسے عظیم تخلیق کار تھے جنھیں 1997کے بعد سب سے زیادہ پذیرائی اور محبت عالمی سطح پر نصیب ہوئی ۔اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے ان کی وقیع صحافتی، علمی ،ادبی،معاشرتی او رقومی خدمات کے اعتراف میں انھیں علامہ اقبال ایوارڈ اور تا حیات اعزازی فیلوشپ سے نوازا گیا ۔احمد فراز نے پاکستان میں اہم مناصب پر فائز رہتے ہوئے جو گراں قدر خدمات انجام دیں ان کا ایک عالم معترف ہے ۔1976میں ان کا تقرر اکادمی ادبیا ت پاکستان ،اسلام آباد کے بانی ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے ہوا ۔

پاکستانی ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کیے جانے والے اس عظیم ادارے میں ان کی خدمات تاریخ ادب کا درخشاں باب ہے ۔اکادمی کے ادبی مجلے ”ادبیات“کو ان کے دورمیں ایک اہم بنیادی ماخذاور معیاری ادبی مجلہ سمجھا جاتا تھا ۔ اس رجحان ساز ادبی مجلے نے تخلیق ادب ،تحقیق ،تنقید ،شاعری اور فنون لطیفہ کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔پاکستانی اہل قلم کی فلاح او ربہبود کے متعدد منصوبے ان کے دور میں شروع کیے گئے ۔اس کے بعد وہ 1989میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن اسلام آباد کے چیر مین بنے اور 1990تک اس عہدے ر فائز رہے ۔

جب شاعری پردہ ہے فراز اپنے جنوں کا

پھر کیوں مجھے رسوا کیا اشعار نے میرے

فرا ز نے اپنی تخلیقی کامرانیوں سے دلوں کو مسخر کر لیا۔ان کی تصانیف کو بہت پذیرائی ملی ۔ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں

تنہا تنہا (1958)،درد آشوب (1966)،میرے خواب ریزہ ریزہ (1972)،جاناںجاناں (1976)،بے آواز گلی کوچوں میں (1982)،نابینا شہر میں آئینہ (1984)،سب آوازیں میری ہیں (1985)،پس انداز موسم (1989)،بودلک (1994)۔

اُنکے تمام شعری مجموعے کلیات کی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔

محفلِ جاناں ہو، مقتل ہو کہ مے خانہ فراز

جس جگہ جائیں بنا لیتے ہیں ہم اپنی جگہ

فراز کی تصانیف کو پوری دنیا میں جو مقبولیت نصیب ہوئی وہ اپنی مثا ل آپ ہے ۔اس مقبولیت اور احترام میں کوئی ان کا ہم پلہ دکھائی نہیں دیتا ۔انھوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کو ہمیشہ اپنی اولین ترجیح قرار دیا ۔انھوں نے پاکستانی اہل قلم کو عزت نفس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حوصلہ عطاکیا۔سلطانی ءجمہور اور لفظ کی حرمت کے لیے انھوں نے جو قربانیاں دیں، ان میں کوئی ان کا شریک اور سہیم نہیں ۔احمد فراز نے اردو شاعری کو ایک منفرد لہجے سے آشنا کیا۔اس میں رنگ ،خوشبو ،حسن و خوبی ،رومان اور جبر کے خلاف مزاحمت کے تما م استعارے سمٹ آئے تھے ۔

یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں

ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی

کبھی فراز نئے موسموں میں رو دینا

کبھی تلاش پرانی رقابتیں کرنی

ان کی زندگی میں واقعہ کربلاکو حریت فکر کے ایک ایسے استعارے کی حیثیت حاصل ہے جو ہر عہد میں دلوں کو مرکز مہر و وفا کرنے کا وسیلہ ثابت ہو گا۔حضرت امام حسین ؓ نے میدان کربلا میں جو فقید المثال قربانی دی اس نے قیامت تک کے لیے استبداد کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔احمد فراز کی شاعری میں نواسہ ءرسول حضرت امام حسین ؓکی قربانی کو کلیدی اہمیت کاحامل قراردیا گیا ہے ۔اس عظیم قربانی نے ویرانے کی قسمت بدل دی اور قیامت تک کے لیے حریت فکرکے مجاہدوں کے لیے لائحہءعمل کا تعین کر دیا

سلام اس پر

حسینؓ!

اے میرے سر بریدہ

بدن دریدہ

سدا ترا نام بر گزیدہ

میں کربلا کے لہو لہو دشت میں تجھے

دشمنوں کے نرغے میں

تیغ در دست دیکھتا ہوں

فراز نے اپنے عہد کے ترقی پسند ادیبوں کے افکار سے گہرے اثرات قبول کیے ۔انھوں نے زندگی کے تلخ حقائق کی ترجمانی کرتے ہوئے اس جانب توجہ مرکوز رکھی کہ زندگی کی حقیقی معنویت کو اجاگر کیا جائے ۔وہ تمام تاریخی صداقتیں منظر عام پر لائی جائیں جو ابلق ایام کے سموں کی گرد میں اوجھل ہو چکی ہیں ۔انھوںنے انسانی زندگی کے جملہ مظاہر کو جس خلوص اور دردمندی سے باہم مربوط کیا ہے وہ ان کے اسلوب کا امتیازی وصف ہے ۔ان کے تخلیقی عمل میں اس عالم آب و گل کے جملہ مظاہر اور بنی نوع انساں کو ایک ایسی جامعیت اور کلیت کے ساتھ قلم اور قرطاس کے معتبر حوالے کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اس کی تاثیر قاری کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر کر اپنی تاثیر کا لوہا منوا لیتی ہے ان کے خیالات میں ندرت اور تنوع کا کرشمہ دامن دل کھینچتا ہے ۔ان کے منفرد اسلوب کی اساس ان کے وہ مسحور کن تخلیقی تجربات ہیں جو ان کے داخلی اور خارجی نوعیت کے جذبات کے آئینہ دار ہیں ۔ادبی اقدار و روایات کو وہ دل و جاں سے عزیز رکھتے ہیں ۔تخلیق فن کے لمحوں میں وہ اس انداز سے اپنے تخیل کی جولانیاں دکھاتے ہیں کہ قاری ان کی معجز نما تاثیر سے مسحور ہو جاتا ہے اور اسے یوں محسوس ہوتاہے کہ شاعر ایک مسیحا کی صورت میں مرہم بہ دست اس کی غم خواری کے لیے آیا ہے ۔

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں

جہاں بھی قاتل اور مظلو م و بے نوا بسمل کا ذکر آتا ہے احمد فراز سسکتے بسمل انسانوں کی صف میں کھڑے ہو کر شقی القلب ظالموں کو للکارتے ہیں کہ اگر ان میں ا تنی تاب و تواں ہے تو ان کا بھی کام تمام کر دیں۔جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہوائے جورو ستم کے مسموم اثرات کے باعث رتیں بے ثمر ،کلیاں شرر ،فضائیں بے ابر ،زندگیاں پر خطر ،شجر محروم تر اور آہیں بے اثر ہوتی جارہی ہیں تو وہ نہایت عقیدت ،عجز و انکسار او ردردمندی سے حضور ختم المرسلینکی بارگاہ میں اپنے قلبی احساسات اور داستان غم اس طرح بیان کرتے ہیں

مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے

میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

تُو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ

بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

احمدفراز نے فسطائی جبر کے خلاف قلم بہ کف مجاہد کا کردار ادا کرتے ہوئے ہر اولی الامر پر واضح کر دیا کہ وہ اپنی فرد عمل پر نظر رکھے کیوں کہ اسے اپنے قبیح کردار کے لیے عوام کی عدالت میں جواب دہ ہونا پڑے گا ۔ان کی شاعری سے مظلوم طبقے کو حوصلے اور ہمت کی نوید ملتی ہے اور گردن فرازان جہاں کو عبرت حاصل ہوتی ہے ۔

پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچ

ہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچ

جب شہر کھنڈر بن جائے گا پھر کس پر سنگ اٹھاﺅ گے

اپنے چہرے آئینوں میں جب دیکھو گے ڈر جاﺅ گے

فراز کی شاعری میں قلم کے ناموس پر بھر پور توجہ دی گئی ہے ۔ان کا سماجی شعور اس قدر پختہ ہے کہ وہ تمام جزئیات کو اپنے فکر و فن کی اساس بنا کر تمام حقائق کو بڑی مہارت کے ساتھ بلا کم و کاست شعر کے قالب میں ڈھالنے میں کوئی تامل نہیں کرتے ۔اظہار کی ندر ت اور اثر آفرینی کی مسحور کن کیفیت کے اعتبار سے ان کا اسلوب اس قدر دلکش ہے کہ عالمی ادبیات میں اس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں ۔وہ جہاں ظلمت شب کو ہدف تنقید بناتے ہیں وہاں خزاں کے سیکڑوں منا ظر کی موجودگی کے با وجود طلوع صبح بہاراں کی نوید بھی سناتے ہیں ۔یہ ان کی رجائیت کی دلیل ہے ۔انھوں نے متاع لوح و قلم چھیننے والوں کو متنبہ کیا کہ حریت فکر کے مجاہد ہردور میں خون دل میںانگلیاں ڈبو کر پرورش لوح و قلم میں مصروف رہے ہیں ۔وہ اپنے اسلوب کے بارے میں اپنے انداز فکر کی صراحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں

سو شرط یہ ہے ،جو جاں کی امان چاہتے ہو

تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو

وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا

بس ایک تم ہو ،سو غیرت کو راہ میں رکھ دو

قلم کی حرمت کا یہ معیار ہر دور میں اہل قلم کو نشان منزل سے آگاہ کرتا رہے گا ۔پاکستان میں 1977کے بعد حالات نے جو رخ اختیارکیا ان سے دل برداشتہ ہو کر احمد فراز نے 1980میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی اور اس وقت واپس آئے جب سلطانیءجمہور کی صور ت نظر آئی اور محمد خان جو نیجو پاکستان کے وزیر اعظم بنے ۔فوجی آمریت پر انھوں نے واضح کر دیا کہ جی حضوری کرنا ان کے مسلک کے خلاف ہے ۔وہ اپنے تخلیقی کام کو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق جاری رکھنے میں کا میا ب ہو گئے ۔ان کی شاعری میںقلم کی عظمت کا جو ذکر ملتا ہے وہ اذہان کی تطہیر و تنویر کا وسیلہ بن جاتاہے ۔

مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

مرا قلم تو امانت مرے ضمیر کی ہے

تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم

مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

قلم کے اس سفر میں احمد فرا ز کو جس ابتلا اور آزمائش کے دور سے گزرنا پڑا وہ تایخ ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔احمد فراز کی شاعری جبر

کے ماحول کی صحیح عکاسی کی گئی ہے ۔فسطائی جبر نے خلوص اور ایثار کو بارہ پتھر کردیاہے ۔معاشرے کی سفاکی اور بے حسی کا یہ حال ہے کہ اجسام شل ہیں ،احساس اور ضمیر نیم جاں ہیں ۔دکھی انسانیت کے مصائب پر کوئی آنکھ پر نم نہیں اور کسی نوحہ گر کی صدا سنائی نہیں دیتی ۔مظلوم انسانیت کا بے گور و کفن بے اماں لاشہ ایک ایسے سائیں سائیں کرتے جنگل میں پڑا ہے جہاں جنگل کا قانون پوری قوت سے نافذ ہے ۔اس عفونت زدہ ماحول میں ان لاشوں کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے اورانھیں رزق کرگساں بنا دیا گیا ہے ۔

فراز آج کی دنیا مرے وجود میں ہے

مرے سخن کو فقط میرا تذکرہ نہ سمجھ

ان مقتولوں کے مجبور وارث حسرت و یاس کے عالم میں یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔احمد فراز کی شاعری کے متنوع پہلو اور دھنک رنگ مناظر قاری کو ورطہءحیر ت میں ڈال دیتے ہیں ۔وہ جس انداز کو اپنائیں وہی ان کی پہچان بن جاتا ہے ان کی شاعری میںاحتجاج ،رومان ،عملیت پسندی ،سیاست ،انقلاب ،حریت فکر،حبس کے ماحول اور عالمی ادبیات کی جو باز گشت سنائی دیتی ہے وہ انھیں اپنے عہد کے ایک ممتاز اورمنفرد اسلوب کے حامل تخلیق کار کے منصب پرفائز کرتی ہے ۔

احتیاط اہلِ محبت کہ اسی شہر میں لوگ

گل بدست آتے ہیں اور پا بہ رسن جاتے ہیں

فراز اپنا مقدر ہے سنگساری

ہم ہی اس عہد کے آئینہ گر ہیں

احمد فرازؔ کو بجا طور پر شاعری میں قدیم و جدید طرزِ سخن کا امتزاج ہے۔ اپنے طور پرجلا وطنی اختیار کی اور ملکوں ملکوں خاک چھانتے پھرے۔ فرازؔ کوبے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ احمد فرازؔ کے کلام میں کچھ ایسی غنائیت تھی کہ ان کے کلام کو برِّ صغیر کے تمام بڑے گلو کاروں نے سرو سے سجایا۔ بعض حاسد لوگ اس بات کو لے کر انھیں تنقید و تمسخر کا نشانہ بھی بناتے تھے۔

احمدفرازؔ نے ادبی فلک پر اپنی شناخت خود قائم کی، شہرت و دوام حاصل کی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ احمد فرازؔ اپنے ہم عصر شاعروں میں سب سے زیادہ مقبول، قابلِ قبول اور سب سے زیادہ پڑھنے اور چھپنے والے شاعر تھے۔ اس طرح فرازؔ دورِ حاضر میں ایک legendکی حیثیت رکھتے تھے۔ احمد فرازؔادبی اُفق پر تا عمر اپنے مدّاحوں کو اپنے کلام سے اثر انداز اور محظوظ کرتے رہے۔ ان کے مدّاحوں نے بھی احمد فرازؔ سے بے پناہ محبت کی۔ انھیں جو محبتیں اور پذیرائیاں ملیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔انھیں خود بھی اس بات کا احساس تھا کہ ادب کے سنجیدہ قارئین ان کی شاعری کے دلدادہ ہیں اور ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتاہے ۔قارئین کی بے لوث محبت کے وہ معترف تھے اس لیے انھوں نے لکھا ہے

اور فراز چاہییں کتنی محبتیں تجھے

ماﺅں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

احمد فرازؔ اپنے ملک کے سیاسی حالات اور اتھل پتھل سے بے چین رہتے تھے۔ ناگفتہ سیاسی حالات سے چشم پوشی کرنا ان کے لیے کسی خطرے سے کم نہ تھا۔ احتجاج، ان کی فطرت اور خمیر میں شامل تھا۔ احمد فرازؔ دبے، کچلے، مظلوموں، بے کس اور بے یار و مدد گر لوگوں کی آاوازاور نمائندہ بن کر سامنے آئے۔

احمد فرازؔ کو صرف طویل غزلوں اور نظموں کے باعث ہی عالمی شہرت یافتہ شاعر کا درجہ حاصل نہیں ہے بل کہ وہ اُن نوجوانوں کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو عنفوانِ شباب میں الہڑ پن، رند و مستی کے شکار ہیں اور کچّی عمر میں عشق و محبت کے لیے جینے مرنے کی قسمیں کھاتیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خود فرازؔ کم سِنی میں ایک غزال سے عشق کربیٹھے تھے۔ اپنے جذباتوں کو انھوں نے خوب صورت لفظوں میں ڈھال کراسے شاعری کاجامہ پہنایا۔

احمد فرازؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل ایک ایسی وسیع القلب اور مہربان صنفِ سخن ہے کہ ہر اچھے شاعر کو بہترین شعر نکال لینے کا موقع عطا کرتی ہے۔ بعض اوقات لوگ شاعر کو تو بھول جاتے ہیں لیکن اس کے اشعار زندہ رہتے ہیں۔ احمد فرازؔ نے بھی ایسی بہت سی غزلیں کہیں ہیں جن کے سبب وہ اُردو ادب میں محترم ہو گئے۔ احمد فرازؔ نے دورِ حاضر میں نفرت، عداوت، قتل و غارت گری کا جو ایک چلن چلا آ رہا ہے ان سب کو مٹانے کے لیے کبھی نہ بھلائے جانے والے اشعار کہے۔ احمد فرازؔ کی دل آفریں غزلوں کی مقبولیت اور شہرت میں اُن غزل سراؤں کا بھی ہاتھ ہے جو اِن کو اپنی مخملی اور سریلی آواز میں گاتے ہیں۔ احمد فرازؔ نے بھی بہترین، سادہ، سلیس اور دل کو چھو لینے والے الفاظ کا انتخاب اپنی غزلوں کے لیے کیا۔ نورجہاں، امانت علی خان، مہناز، فریدہ خانم، طاہرہ سیّد، سلمی ٰ آغا، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت سنگھ، پنکج اُدھاس، پیناج مسانی، طلعت عزیز، راحت فتح علی خان جیسے شہرت یافتہ گلو کاروں نے فرازؔ کی شاعری کو اپنی آواز دی۔

احمد فرازؔ حساس قسم کے انسان تھے۔ دنیا میں جو واقعات رو نما ہوتے تھے ان پر وہ فوراً اپنی رائے کا اظہار غزل یا نظم کی صورت میں ظاہر کرتے تھے۔ ان کی رائے مدلل اور منصفانہ ہوتی تھی۔ دنیا بھر میں امریکی تسلظ کے خلاف انھوں نے اپنی رائے کا اظہار نظم’’کالی دیوار‘‘کے ذریعے کیا۔

احمد فراز کی متعدد نظمیں ایسی ہیں جو عالمی ادبیات میں اہم مقام رکھتی ہیں ۔دنیابھر کے حریت پسند انقلابی ہمیشہ ان سے ایک ولولہ ءتازہ حاصل کرتے رہیں گے ۔دلوں کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو جانے والی ان نظمو ںمیں محاصرہ ،شہر آشوب،مت سوچو،جلاد ،چلو اس شہر کا ماتم کریں اور اے میرے سارے لوگوشامل ہیں ۔آمریت کے بد ترین دور میں بھی احمد فراز نے مایوسی اضمحلال سے دامن بچائے رکھا ۔ان کا پیغام خلوص اور درد مندی پر مبنی تھا وہ محبت کے بے لو ث جذبات کے اعجاز سے دلوں کو مسخر کرنے کا سلیقہ جانتے تھے ۔

نیند تو کیا آئے گی فراز

موت آئے گی تو سو لیں گے”

وہ اپنی تسبیح روزو شب کے دانے دانے سے محبت ،خلوص ،ایثار اور وفا کا ورد کرتے ہیں ۔کشمکش روزگار میں محبت ہی ان کے لیے خضر راہ ہے ۔وہ محبت کے لا زوال جذبات کے ذریعے لفظ کو پھول بنانے کا کرشمہ دکھا کر قاری پر وجدانی کیفیت طاری کر دیتے ہیں

اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں

ترے فراق کے دکھ یاد آنے لگتے ہیں

پلک جھپکتے ہی دنیااجاڑ دیتی ہے

وہ بستیاں جنھیں بستے زمانے لگتے ہیں

فراز ملتے ہیں غم بھی نصیب والوں کو

ہر اک کے ہاتھ کہا ںیہ خزانے لگتے ہیں

ہجر اورفراق کے کرب کو انھوں نے جس طرح محسوس کیا اس کا اظہار وہ نہایت دل نشیں انداز میں کرتے ہیں ۔وہ رنجش کے باوجود محبوب کے انتظار میںرہتے ہیں کہ اسی کا نام تو تعلق ہے خواہ وہ لگاﺅ کی صور ت میں ہو یا اس کی نوعیت لاگ کی ہو ۔وہ دل دکھانے والوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔

تیری باتیں ہی سنانے آئے

دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں

تیرے آنے کے زمانے آئے

احمدفراز کی شاعری میں زندگی کے تمام موسم سمٹ آئے ہیں ۔ان کا استدلال یہ ہے کہ اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں ہوناسنگ دلی کا ثبوت ہے ۔انھیں یقین ہے کہ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی مل سکتے ہیں۔زندگی کے حالات نے ان پر جو اثرات مرتب کیے وہ ان کی شاعری میں نمایاں ہیں

سلوٹیں ہیں میرے چہرے پہ تو حیرت کیسی

زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا

ہم کج ادا چراغ تھے جب بھی ہوا چلی

طاقوں کو چھوڑکر سردیوار آگئے

زندگی کے جملہ نشیب و فراز احمد فراز کی شاعری میں پوری قوت اور حقیقت کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ان کی تنقیدی حقیقت نگاری اور واقعیت ان کے اسلوب کا اہم وصف ہے ۔ان کا ہمہ گیر مشاہدہ اور وسیع تجربات انھیں عالمی ادبیات میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔انسانی ہمدردی کا جو ارفع معیار ان کی شاعری میں موجود ہے وہ انھیں اپنے عہد کے منفرد شاعر کے منصب پر فائز کرتا ہے ۔انھوں نے تاریخ کے مسلسل عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھی اور عالمی حالات کے تناظر میں واقعات کو پوری دیانت سے بیا ن کیا ۔ان کے اسلوب میں دبنگ لہجہ اور شعری آہنگ قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے ا ور کلام کی ندرت اورتاثیرکا کرشمہ دامن دل کھینچتا ہے ۔

زندگی کی اقدار عالیہ سے والہانہ محبت کرنے والے اس نابغہ ءروزگار تخلیق کارکی رحلت سے اردو زبان و ادب کے فروغ کی مساعی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔انہوں نے اُردو زبان و ادب اور تہذیب ثقافت کے لئے جو گرانقدر خدمات انجام دی اُردو ادب اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتا ۔

جب تک دنیا باقی ہے ان کی شاعری قارئین کے احساس و ادراک ک ومہمیز کرکے اذہان کی تطہیر و تنویرکا اہتمام کرتی رہے گی ۔حریت فکر کے ارفع جذبات سے مزین یہ شاعری ہر دور میں انسانی جذبات کی تہذیب و تزکیہ کرکے قارئین کے شعورکومسرت ،سکون اور حریت ضمیر سے جینے کی راہ دکھاتی رہے گی ۔ان کی شاعری کا ایک عالم مدا ح ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کی ہمہ گیر مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی

خواب کیا دیکھا دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

احمد فراز کے کلام میں رومانوی رنگ غالب ہے تاہم ان کی غزل میں نو کلاسیکی رنگ نمایاں ہے۔ انہوں نے مزاحمتی شاعری میں بھی ایک مقام پیدا کیا ہے ان کا کچھ کلام جدید شاعری کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ فیض احمد فیض کے برعکس ان کی شاعری مغربی زبانوں کی شاعری کی بجائے اردو اور فارسی کی خوشبو سے آراستہ ہے۔ ان کی غزلیں سودا ، میر مصحفی ، آتش اور مرزا غالب کے اسالیب کی پابند ہیں۔ لیکن انہوں نے اساتذہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھا۔

فراز ؔکے کلام میں خیال اور جذبے کا قالب اور شعر اور لباس الگ الگ دکھائی نہیں دیتے ۔ آپس میں پیوست ہیں ۔ شاعر کو یہ بات تب نصیب ہوتی ہے جب اس کا جذبہ اور اس کا فن دونوں یکساں پر خلوص اور سچے ہوں ۔ یہ خلوص ، گداز اور سچائی احمد فرازؔ کے کلام کی امیتازی خصوصیات ہیں ۔ اسی خلو ص کی وجہ سے یہ حدیث دل کے علاوہ زندگی کے وسیع تر حقانیت کا بیان بھی ویسی ہی خوبی اور لگن سے کرتے ہیں ۔ بیک وقت غم جاناں اور غم دوراں کی وسیع دنیا سے آگہی اور اس کی موثر تفسیر مشکل کام ہے ۔ احمد فرازؔ اس کام میں بہت حد تک کامیاب ہیں ۔

احمد فراز ہم سے بچھڑ گئے مگر وہ ہمارے درمیان ہمیشہ رہیں گے اہلِ سخن کے دربار میں وہ کسی شہزادے کی طرح متمکن رہیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے قلم کو ہمیشہ سرخرو رکھا

میں خوش ہو ں راندہ ءافلاک ہو کر

مرا قد بڑھ گیا ہے خاک ہو کر

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY